یورپتازہ ترین

سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کی تاریخی فتح، حکومت سازی پر غیر یقینی برقرار

تاہم انتخابی کامیابی کے باوجود اے ایف ڈی کو حکومت بنانے کے لیے پارلیمان میں مزید حمایت درکار ہے۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
جواد احمد-ادارت

برلن: جرمنی کی مشرقی ریاست سیکسنی انہالٹ میں ہونے والے ریاستی انتخابات نے ملکی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے، جہاں دائیں بازو کی جماعت الٹرنیٹیو فار جرمنی (AfD) نے تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کرکے تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم انتخابی کامیابی کے باوجود اے ایف ڈی ابھی حکومت بنانے کے لیے درکار واضح پارلیمانی اکثریت حاصل نہیں کر سکی، جس کے باعث ریاست میں نئی حکومت کی تشکیل ایک پیچیدہ سیاسی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ابتدائی سیاسی تجزیوں کے مطابق یہ نتیجہ صرف سیکسنی انہالٹ کی مقامی سیاست تک محدود نہیں بلکہ اسے جرمنی میں دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، مہاجرین سے متعلق عوامی بے چینی اور مرکزی سیاسی جماعتوں سے بڑھتی ہوئی مایوسی کے بڑے مظہر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔


اے ایف ڈی کا تاریخی انتخابی مظاہرہ

سیکسنی انہالٹ کے انتخابات میں اے ایف ڈی نے 43.8 فیصد ووٹ حاصل کیے اور ریاستی پارلیمان میں 39 نشستیں حاصل کیں۔ یہ جماعت کے لیے ریاستی انتخابات میں اب تک کا سب سے بہترین نتیجہ ہے اور 2021 کے مقابلے میں اس کی حمایت دوگنا سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔

اے ایف ڈی کے مقامی رہنما اور وزارتِ اعلیٰ کے امیدوار اولریش زیگمنڈ نے نتیجے کو تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ ووٹرز نے روایتی سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں کے خلاف واضح فیصلہ دیا ہے اور اے ایف ڈی کو حکومت سازی کا مینڈیٹ حاصل ہوا ہے۔

تاہم انتخابی کامیابی کے باوجود اے ایف ڈی کو حکومت بنانے کے لیے پارلیمان میں مزید حمایت درکار ہے۔


واضح اکثریت سے چند نشستیں دور

سیکسنی انہالٹ کی ریاستی پارلیمان میں اے ایف ڈی 39 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، جبکہ مکمل اکثریت کے لیے اسے 42 نشستیں درکار ہیں۔ یوں جماعت کو واضح اکثریت سے صرف تین نشستوں کی کمی کا سامنا ہے۔

یہی فرق اب پوری سیاسی صورتحال کا مرکز بن گیا ہے۔

اگر اے ایف ڈی کو دوسری جماعتوں یا انفرادی ارکان کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ ریاستی حکومت کی قیادت کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ دوسری جانب جرمنی کی بڑی مرکزی جماعتیں طویل عرصے سے اے ایف ڈی کے ساتھ باضابطہ سیاسی تعاون سے گریز کرتی رہی ہیں، جسے جرمن سیاست میں "فائر وال” کی حکمت عملی کہا جاتا ہے۔


سی ڈی یو کو تاریخی شکست

اے ایف ڈی کی کامیابی کے دوسری جانب چانسلر فریڈرک مرز کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (CDU) کو شدید دھچکا لگا ہے۔

سی ڈی یو صرف 17.2 فیصد ووٹ حاصل کر سکی، جو سیکسنی انہالٹ میں اس کا اب تک کا بدترین انتخابی نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ 2021 کے انتخابات میں جماعت نے تقریباً 37 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے، اس لیے موجودہ نتیجہ اس کی مقبولیت میں غیر معمولی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

ریاستی سطح پر سی ڈی یو کی اس شکست کو وفاقی حکومت کے لیے بھی سیاسی انتباہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جرمنی کی وفاقی سیاست میں پہلے ہی معیشت، مہنگائی، ہجرت اور حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بحث جاری ہے، اور سیکسنی انہالٹ کے نتائج نے ان مباحث کو مزید شدت دے دی ہے۔


دیگر جماعتوں کی پوزیشن

حالیہ نتائج کے مطابق ریاستی پارلیمان میں اے ایف ڈی اور سی ڈی یو کے علاوہ ایس پی ڈی، گرینز، دی لنکے اور بی ایس ڈبلیو بھی موجود ہوں گی۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPD) نے تقریباً 9.3 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ گرینز تقریباً 8.9 فیصد اور دی لنکے تقریباً 8.6 فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ نئی سیاسی قوت بی ایس ڈبلیو (BSW) نے تقریباً 5.3 فیصد ووٹ لے کر پارلیمان میں داخل ہونے کی حد عبور کر لی۔

دوسری طرف فری ڈیموکریٹک پارٹی (FDP) تقریباً 2.6 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے باعث پانچ فیصد کی پارلیمانی حد عبور نہ کر سکی اور ریاستی پارلیمان سے باہر ہو گئی۔


حکومت سازی کا مرحلہ انتہائی پیچیدہ

انتخابات کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سیکسنی انہالٹ میں حکومت کون بنائے گا؟

اے ایف ڈی سب سے بڑی جماعت ضرور بن چکی ہے، مگر اسے تنہا حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل نہیں ہوئیں۔ دوسری بڑی جماعتوں نے اب تک اے ایف ڈی کے ساتھ باقاعدہ اتحاد بنانے سے انکار کیا ہے۔

اس صورتحال میں سی ڈی یو کے لیے بھی حکومت سازی آسان نہیں ہوگی، کیونکہ اے ایف ڈی کے ساتھ تعاون سے گریز کی پالیسی برقرار رکھنے کی صورت میں اسے دیگر جماعتوں کے ساتھ غیر معمولی نوعیت کا اتحاد یا اقلیتی حکومت تشکیل دینا پڑ سکتی ہے۔


بی ایس ڈبلیو فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے

حکومت سازی میں سب سے زیادہ دلچسپی اب بی ایس ڈبلیو کی پوزیشن پر مرکوز ہے۔

بی ایس ڈبلیو نے 5.3 فیصد ووٹ حاصل کرکے پارلیمان میں پانچ نشستیں حاصل کی ہیں۔ پارٹی کی سرفہرست امیدوار کلاڈیا وِٹِگ نے انتخابی نتائج کے بعد اے ایف ڈی کے ساتھ بعض معاملات میں تعاون کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ اے ایف ڈی کی بڑی انتخابی کامیابی کے بعد اسے کسی نہ کسی شکل میں حکومتی عمل میں شامل نہ کرنا جمہوری طور پر مناسب نہیں ہوگا۔ تاہم بی ایس ڈبلیو نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اے ایف ڈی کے امیدوار اولریش زیگمنڈ کو وزیرِاعلیٰ منتخب کرنے کی حمایت نہیں کرنا چاہتی۔

اس لیے بی ایس ڈبلیو کی پانچ نشستیں حکومت سازی کے آئندہ مرحلے میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔


جرمنی کی سیاسی "فائر وال” ایک بڑے امتحان سے دوچار

اے ایف ڈی کی کامیابی نے جرمنی کی روایتی جماعتوں کی اس حکمت عملی کو بھی شدید امتحان میں ڈال دیا ہے جس کے تحت وہ اے ایف ڈی کے ساتھ سیاسی اتحاد یا رسمی تعاون سے گریز کرتی رہی ہیں۔

جرمنی کی مرکزی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اے ایف ڈی کو اقتدار سے دور رکھنے کی اس حکمت عملی کو عام طور پر "فائر وال” کہا جاتا ہے۔

اے ایف ڈی کے قومی رہنماؤں نے انتخابی نتائج کے بعد دعویٰ کیا کہ ووٹرز نے اس فائر وال کو مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ جب ایک جماعت تقریباً 44 فیصد ووٹ حاصل کرے تو اسے حکومت سازی کے عمل سے باہر رکھنا عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

تاہم سی ڈی یو اور دیگر مرکزی جماعتوں کے لیے اے ایف ڈی کے ساتھ تعاون کرنا سیاسی طور پر انتہائی حساس معاملہ ہے۔


اے ایف ڈی پر انتہا پسندی کے الزامات

اے ایف ڈی کی انتخابی فتح کی ایک خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ سیکسنی انہالٹ میں اس جماعت کی شاخ کو ریاستی آئینی تحفظ کے ادارے نے مصدقہ دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اے ایف ڈی اس درجہ بندی کو سیاسی طور پر محرک قرار دیتے ہوئے مسترد کرتی ہے۔

اگر اے ایف ڈی ریاست میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ جرمنی کی جنگِ عظیم دوم کے بعد کی سیاسی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی، کیونکہ پہلی مرتبہ ایک ایسی ریاستی حکومت وجود میں آ سکتی ہے جس کی قیادت ایسی جماعت کے ہاتھ میں ہو جسے ریاستی سطح پر انتہا پسند قرار دیا گیا ہے۔


مہاجرین اور امیگریشن انتخابی مہم کا مرکزی موضوع

اے ایف ڈی کی کامیابی میں امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق پالیسی نے نمایاں کردار ادا کیا۔

جماعت نے انتخابی مہم کے دوران غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات، ملک بدری میں اضافے اور نام نہاد "ری مائیگریشن” پالیسی پر زور دیا۔

ریاست میں روزگار، آبادی میں کمی اور عوامی خدمات کے مسائل کو بھی اے ایف ڈی نے اپنی سیاسی مہم کے ساتھ جوڑا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ مہاجرین اور امیگریشن پالیسی نے ریاست کے سماجی ڈھانچے اور عوامی وسائل پر دباؤ بڑھایا ہے۔

دوسری جانب ماہرین اور معاشی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کرنے والی ریاست کے لیے بڑے پیمانے پر مہاجر کارکنوں کو نکالنے کی پالیسی معیشت اور صحت جیسے شعبوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔


مشرقی جرمنی میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے چینی

سیکسنی انہالٹ مشرقی جرمنی کی ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں 1990 میں جرمنی کے اتحاد کے باوجود مغربی اور مشرقی حصوں کے درمیان معاشی فرق، آبادی میں کمی اور روزگار کے مسائل مسلسل سیاسی بحث کا حصہ رہے ہیں۔

اے ایف ڈی نے ان احساسات کو اپنی انتخابی مہم میں نمایاں جگہ دی اور سابق مشرقی جرمنی سے جڑی شناخت، مقامی فخر اور روایتی سیاسی جماعتوں سے عوامی مایوسی کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

اس کے علاوہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، قومی حکومت کی کارکردگی، امیگریشن، توانائی اور جرمنی کی خارجہ پالیسی بھی انتخابی مباحث کا حصہ رہے۔


فریڈرک مرز کے لیے بھی بڑا سیاسی دھچکا

سیکسنی انہالٹ کے نتائج نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی قیادت کے لیے بھی نئے سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

ان کی جماعت سی ڈی یو کی ریاستی سطح پر تاریخی شکست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت کو معیشت کی سست روی اور عوامی اعتماد کے مسائل کا سامنا ہے۔

اے ایف ڈی کی تقریباً 44 فیصد حمایت کے مقابلے میں سی ڈی یو کا 17.2 فیصد تک گر جانا اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ وفاقی سطح پر حکومت کی پالیسیوں سے عوامی بے اطمینانی نے ریاستی انتخابات کو بھی متاثر کیا ہے۔


اب آگے کیا ہوگا؟

سیکسنی انہالٹ کی نئی پارلیمان کو آئینی طور پر 6 اکتوبر 2026 تک اپنا اجلاس منعقد کرنا ہوگا۔ موجودہ حکومت نئی حکومت کے انتخاب تک اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی۔ وزیرِاعلیٰ کے انتخاب کے لیے پارلیمان میں خفیہ ووٹنگ ہوگی۔

اگر پہلے مرحلے میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہو تو آئینی طریقہ کار کے تحت مزید ووٹنگ کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔ اس لیے انتخابی نتائج سامنے آنے کے باوجود ریاست میں نئی حکومت کی حتمی شکل فوری طور پر واضح نہیں ہوگی۔


جرمنی اور یورپ کے لیے وسیع تر سیاسی پیغام

سیکسنی انہالٹ کا انتخابی نتیجہ جرمنی سے باہر بھی گہری دلچسپی کا باعث بنا ہے۔ اے ایف ڈی کی تاریخی کامیابی نے یورپ میں دائیں بازو اور قوم پرستانہ سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

یہ نتیجہ روایتی جماعتوں کے لیے بھی ایک چیلنج ہے کہ وہ امیگریشن، معاشی مسائل، عوامی خدمات اور علاقائی عدم مساوات جیسے موضوعات پر عوام کے اعتماد کو کس طرح بحال کرتی ہیں۔

سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کی فتح نے جرمن سیاست میں ایک نیا باب کھول دیا ہے: جماعت نے تقریباً 44 فیصد ووٹ لے کر تاریخی کامیابی تو حاصل کر لی، مگر واضح اکثریت سے محروم رہنے کے باعث اقتدار تک پہنچنے کی راہ اب بھی پیچیدہ ہے۔ آنے والے ہفتوں میں یہ فیصلہ ہوگا کہ جرمنی کی روایتی "فائر وال” برقرار رہتی ہے یا اے ایف ڈی پہلی مرتبہ کسی ریاستی حکومت کی قیادت تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button