مشرق وسطیٰتازہ ترین

ایران کی آبنائے ہرمز کے قریب نئے ممنوعہ بحری زون قائم کرنے کی تیاری

کوئی بھی جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی نیت سے اس علاقے میں داخل ہوگا اور اس کی شناخت ہو جائے گی

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

ایرانی ایجنسیاں

ایران  کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے قریب ایک نیا ’’ممنوعہ بحری زون‘‘ (Exclusion Zone) قائم کرنے کے اعلان کی تیاری کر رہا ہے، جس کا مقصد ان جہازوں کو ہدف بنانا ہے جن کے بارے میں  ایران کو شبہ ہو کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رضائی نے اتوار کے روز سرکاری ایرانی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس نئے زون کا اعلان آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ علاقہ امریکی بحری ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر آبنائے ہرمز تک پھیلے گا اور وہاں سے خلیج فارس کے اندر تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا، ’’کوئی بھی جہاز جو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی نیت سے اس علاقے میں داخل ہوگا اور اس کی شناخت ہو جائے گی، اسے ہماری پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے گا۔‘‘

رضائی کا بیان  امریکہ  کی طرف سے  ایران کے تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔  واشنگٹن کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی ان ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی، جن کا ہدف امریکی جنگی بحری جہاز تھے۔  ماہرین نے ان میزائل حملوں کو خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے کیونکہ اس سے پہلے ایران کے سمندری حملوں کا ہدف تجارتی جہاز رہے ہیں۔

 5 ستمبر 2026 کو جنوبی ایران کے بندرگاہی شہر بندر عباس کے ساحل سے آبنائے ہرمز سے متعدد بحری جہاز گزر رہے ہیں
ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران امریکی ناکہ بندی کے علاقے کی حدود کہاں تک تصور کرتا ہےتصویر: Atta Kenare/AFP

ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران امریکی ناکہ بندی کے علاقے کی حدود کہاں تک تصور کرتا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق 20 سے زائد جنگی بحری جہاز اس ناکہ بندی میں شریک ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک 92 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے جبکہ تین جہازوں کو غیرفعال بنایا گیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب مذاکرات ناکام ہو گئے اور جاری جھڑپوں کے خاتمے کے آثار فی الحال  دکھائی نہیں دے رہے۔ ادھر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے بعض جہازوں کو نشانہ بناتا رہا ہے، جس سے یہ آبی راستہ تہران کے لیے ایک اہم تزویراتی دباؤ کا ذریعہ بن گیا ہے۔

ایران نے اتوار کو یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کی کوشش  کرنے والے ایک امریکی بغیر پائلٹ بحری جہاز کو نشانہ بنایا، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو ’’سراسر جھوٹ‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے ایک ماہ کے نسبتاً سکون کے بعد حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں کو ایک بار پھر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہفتے کے آغاز میں امریکی بمباری میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے بعد  توجہ دوبارہ اس علاقے پر  مرکوز ہو گئی جہاں جنگ کے ابتدائی حملوں میں ایک اسکول بھی متاثر ہوا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بظاہر اس تنازعے میں دوہری حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔ایک جانب آبنائے ہرمز میں حملوں کے جواب میں فوجی کارروائیاں کی جا رہی ہیں،  جبکہ دوسری جانب ایران کی مالی سرگرمیوں سے وابستہ غیر ملکی مالیاتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 2019  ایران |  آبنائے ہرمز میں اس برطانوی آئل ٹینکر کو پاسداران انقلاب نے قبضے میں لے لیا تھا
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے قریب ایک نیا ’’ممنوعہ بحری زون‘‘ قائم کرنے کے اعلان کی تیاری کر رہا ہےتصویر: Morteza Akhoundi/ISNA/Photoshot/picture alliance

تاہم ایران کی نئی سخت گیر قیادت، جس میں محسن رضائی بھی شامل ہیں،  نے اشارہ دیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے جاری پابندیوں کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنے کے لیے تیار ہے۔ ایران برسوں سے پابندیوں اور اب اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کو مختلف طریقوں سے چکمہ دیتا رہا ہے اور اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھ کر معاشی دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

امریکہ کے ساتھ ناکام مذاکرات کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے نہ  صرف واشنگٹن بلکہ ثالثی کرنے والے ممالک پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ جون کے وسط میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت چند ہی دنوں میں کمزور پڑ گئی تھی، کیونکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہے۔

رضائی نے کہا، ’’ہم نے اپنے دوست ممالک پاکستان، قطر اور عمان پر اعتماد کیا تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ بطور ثالث اگر کوئی فریق معاہدے کی خلاف ورزی کرے تو ثالث کی ذمہ داری ہے کہ اسے روکے۔ اب ہم ایسی سفارت کاری کی طرف بڑھ رہے ہیں جس میں ضمانتیں موجود ہوں۔‘‘
امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے اتوار کو کہا کہ اس وقت روزانہ اوسطاً 90 لاکھ بیرل  تیل آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے۔ تاہم خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق یہ تخمینہ گزشتہ اٹھائیس دن کے حوالے سے ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام اور دیگر ذرائع سے محصولہ اوسط اعداد سے زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے آبنائے ہرمز انتہائی اہم ہے اور جنگ سے پہلے اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے ایندھن کی عالمی ترسیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button