یورپتازہ ترین

ایران جنگ: امریکی نیوی کے آٹھ اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کی

کاؤ نے اپنے خط میں لکھا، ''یو ایس ایس لنکن کی تعیناتی کے آغاز سے اب تک اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی مجموعی طور پر آٹھ کوششیں ہوئی ہیں۔‘‘

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
اے ایف پی کے ساتھ

ٹرمپ انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکی جنگ کے سلسلے میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی کے دوران امریکی فوجی اہلکاروں کی جانب سے خودکشی کی آٹھ کوششوں کی تصدیق کر دی ہے۔

ہنگ کاؤ نے یہ انکشاف منگل کو امریکی سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کو لکھے گئے ایک خط میں کیا۔ انہوں نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے سینیٹر کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ تفصیلات فراہم کیں جس میں بحری بیڑے پر موجود اہلکاروں کے معیار زندگی کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھیں۔

کاؤ نے اپنے خط میں لکھا، ”یو ایس ایس لنکن کی تعیناتی کے آغاز سے اب تک اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی مجموعی طور پر آٹھ کوششیں ہوئی ہیں۔‘‘

انہوں نے وضاحت کی کہ اس تعداد میں یو ایس ایس ابراہم لنکن کا عملہ، طیارہ بردار بحری جہاز کے فضائی ونگ کے ملاح، اسٹرائیک گروپ اور ڈسٹرائر اسکواڈرن کے عملے، حفاظتی ڈیوٹی پر مامور ڈسٹرائرز اور جہاز پر تعینات تمام ایوی ایشن اسکواڈرنز کے اہلکار شامل ہیں۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن پر موجود امریکی نیوی کے اہلکار (فائل فوٹو)
محققین کے مطابق خودکشی کی ممکنہ وجوہات میں بحری جہازوں میں رہائش کے نامناسب حالات، شور، انتہائی مصروف اور سخت نظام الاوقات، اور آرام و نیند کے لیے ناکافی وقت شامل ہے۔تصویر: NAVCENT Public Affairs/SIPA/picture alliance

ٹرمپ انتظامیہ پر نکتہ چینی

گزشتہ نومبر میں نئی سمندری تعیناتی کے بعد سے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر رہائشی حالات بگڑنے اور اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی اطلاعات نے امریکہ میں نمایاں توجہ حاصل کی تھی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ پر تنقید میں اضافہ ہوا تھا۔

امریکی بحریہ کے قائم مقام وزیر ہنگ کاؤ کے خط میں خودکشی کی کوششوں سے متعلق مزید تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔ ان کے مطابق بحری جہاز کے فضائی ونگ سے وابستہ ایک ملاح ”اگست کے اوائل میں جہاز سے سمندر میں جا گرا‘‘، تاہم سرچ اینڈ ریسکیو ہیلی کاپٹر نے اسے فوری طور پر تلاش کر کے بچا لیا۔ بعد ازاں اسے مزید طبی نگہداشت کے لیے بحری جہاز سے واپس بھیج دیا گیا۔

ایک اور ملاح نے ”مارچ میں جہاز سے سمندر میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی، تاہم اس کے ساتھی ملاحوں نے اسے روک لیا‘‘ اور اسے واپس ‘ہوم پورٹ‘ پر بھیج دیا گیا۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن نومبر 2025 میں کیلیفورنیا سے جنوبی بحیرہ چین میں تعیناتی کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس کا عملہ 286 دن تک سمندر میں رہا اور یکم ستمبر کو تھائی لینڈ کے ایک سیاحتی شہر میں جہاز سے اترا۔ عملے کی تعیناتی مئی میں مکمل ہونا تھی، تاہم ایران کے خلاف جنگ جاری رہنے کے باعث اس میں توسیع کر دی گئی۔ اس نے بالآخر ستمبر کے اوائل میں تھائی لینڈ میں مختصر قیام کیا۔

10 مئی 2026 کو بحیرہ عرب میں آپریشن ایپک فیوری اور ایران کی ناکہ بندی کے دوران امریکی بحریہ کا ایک اہلکار الیکٹرانک وارفیئر طیارے EA-18G گرولر کو لانچ کے لیے اشارہ دے رہا ہے
گزشتہ نومبر میں نئی سمندری تعیناتی کے بعد سے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر رہائشی حالات بگڑنے اور اہلکاروں کی ذہنی صحت سے متعلق مسائل کی اطلاعات نے امریکہ میں نمایاں توجہ حاصل کی تھیتصویر: U.S. Navy/Planet Pix/ZUMA/picture alliance

خودکشی کی کوششوں کے ممکنہ وجوہات

اگست میں فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ اور قانون سازوں نے خودکشی کی مبینہ کوششوں، ذہنی صحت سے متعلق دیگر سنگین مسائل، خوراک کی قلت اور صفائی کے ناقص انتظامات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

اس وقت صدر ٹرمپ نے ان دعووں کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی اصرار کیا تھا کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز پر صورتحال کو ”غلط انداز میں پیش کیا گیا‘‘ ہے۔

دری‍ں اثنا برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی نے ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ جنوری 2025 میں 956 سیلرز کی شرکت کے ساتھ کیے گئے ایک مطالعے کے مطابق امریکی بحریہ کے جہازوں پر تعینات اہلکاروں میں امریکی فوج کی دیگر شاخوں کے اہلکاروں کے مقابلے میں شدید نفسیاتی دباؤ کی شرح زیادہ پائی گئی۔

محققین نے اس کی ممکنہ وجوہات میں بحری جہازوں میں رہائش کے نامناسب حالات، شور، انتہائی مصروف اور سخت نظام الاوقات، اور آرام و نیند کے لیے ناکافی وقت کو شامل کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button