
سید عاطف ندیم-ادارت
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے جمعے کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے راستوں کی بندش اور مبینہ رکاوٹوں پر سخت ردعمل دیا، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر امن و امان خراب کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت نے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مختلف انتظامی اور سکیورٹی اقدامات کیے ہیں۔ پنجاب حکومت نے بھی راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں سکیورٹی کے لیے رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی ہے، جبکہ راولپنڈی ڈویژن میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں اور سڑکوں پر رکاوٹوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
’کیلیں ٹھونکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولی چلائیں، ہم نکلیں گے‘
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پشاور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت احتجاجی راستے میں چاہے سڑکوں پر کیلیں ٹھونکے، کنٹینرز کھڑے کرے یا دیگر رکاوٹیں پیدا کرے، تحریک انصاف اپنے سیاسی احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف سڑکوں پر نکلی تو وہ ان کے بقول ’’کرپٹ نظام اور جعلی حکمرانوں‘‘ کے خلاف فیصلہ کن سیاسی جدوجہد کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس جاری ہے اور آئندہ کا لائحہ عمل جلد میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی شاہراہوں پر مبینہ طور پر کیلیں لگانے اور راستے بند کرنے کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا صوبے کو باقی پاکستان سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے بارے میں مسلسل منفی بیانیہ پیش کیا گیا اور صوبے کو ملک کے دیگر حصوں سے الگ سمجھنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کے بقول موجودہ اقدامات سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کسی صورت نہیں ٹوٹے گا اور خیبرپختونخوا پاکستان کے ساتھ ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے انتظامی معاملات میں دوسرے صوبے کے اہلکاروں کی مداخلت کے حوالے سے بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان اختیارات کا تنازع
سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ دوسرے صوبے کے سرکاری اہلکار خیبرپختونخوا میں داخل ہو کر صوبائی اہلکاروں سے الجھ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وفاقی حکومت کو خیبرپختونخوا کی انتظامیہ اور پولیس پر اعتماد نہیں رہا اور کیا صوبے میں کسی دوسرے صوبے کی پولیس یا انتظامیہ استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے میڈیا کوریج کے حوالے سے بھی شکایات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ خیبرپختونخوا کے پارلیمانی لیڈر اور وزیر اطلاعات کو میڈیا پر آنے سے روکا گیا، جبکہ وزیراعلیٰ کی سرگرمیوں کی کوریج میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے صوبائی وزرا اور ارکان اسمبلی کے حوالے سے بھی الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ بعض وزرا کو سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں کے ذریعے حراست میں لینے یا نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ جب تک خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ صوبے کے عوام اور منتخب نمائندوں کے ساتھ کھڑا ہے، وہ صوبے کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔
وزیراعلیٰ کا یہ مؤقف پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کو آئینی اور پرامن سیاسی سرگرمی قرار دینے کے سابقہ بیانات کے تسلسل میں سامنے آیا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کے مطابق پارٹی نے احتجاج کا فیصلہ مختلف آئینی و سیاسی فورمز سے رجوع کرنے کے بعد کیا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ: ’پی ٹی آئی دھرنے سے بھاگ گئی ہے، ہمت ہے تو لانگ مارچ کرے‘
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پی ٹی آئی دھرنے سے بھاگ گئی ہے، ہمت ہے تو آئے اور لانگ مارچ کرے۔‘‘
اپنے ویڈیو بیان میں وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورت حال کو صوبائی حکومت کی کارکردگی سے جوڑتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت نہ صرف حالات سے لاعلم ہے بلکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ اقدامات سے بھی گریزاں ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے تحریک انصاف پر دہشت گردوں کی مبینہ سہولت کاری کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مذمت اور ان کے خلاف کارروائی سے گریز کرتی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ دہشت گردی کے واقعات میں مختلف سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ تحریک انصاف کے حوالے سے وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے دہشت گردی کے خلاف وہ کردار ادا نہیں کیا جو صوبے کی حکمران جماعت سے متوقع تھا۔
وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی ’’بی ٹیم‘‘ اور تحریک طالبان افغانستان کی ’’سی ٹیم‘‘ قرار دیا۔ تاہم یہ عطاء اللہ تارڑ کا سیاسی الزام ہے، جسے پی ٹی آئی کی طرف سے تسلیم کیے جانے کی کوئی آزاد تصدیق سامنے نہیں آئی۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے اعداد و شمار کا حوالہ
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ امن و امان صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2026 کے دوران خیبرپختونخوا میں 2 ہزار 456 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں رینجرز، پولیس اور فوج کے 472 اہلکار شہید جبکہ 1,500 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں غیر قانونی ٹمبر اور تمباکو تجارت کے علاوہ مبینہ غیر قانونی سونے کی کان کنی کا بھی ذکر کیا اور الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی عناصر غیر قانونی کان کنی اور ٹھیکوں کے ذریعے دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کرتی تو اس کے نتیجے میں عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
انہوں نے حالیہ سکیورٹی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے ڈرون آنے کے بعد صوبائی حکومت کے لوگ مبینہ طور پر پیچھے ہٹ گئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔
’امن و امان صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے‘
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم قربانیاں دے رہی ہے اور خیبرپختونخوا حکومت کو دہشت گردوں کی مبینہ سہولت کاری سے باز آنا چاہیے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو سیاسی سرگرمیوں کے بجائے صوبے میں امن و امان پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کسی ایسے احتجاج کی اجازت نہیں دے گی جس سے شہریوں کی آمدورفت متاثر ہو یا امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو۔
اس سے قبل بھی عطاء اللہ تارڑ کہہ چکے ہیں کہ حکومت سڑکیں بلاک کرنے یا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے پرامن ہونے کے دعوے پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔
لانگ مارچ کے معاملے پر سیاسی تناؤ میں اضافہ
پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی بیان بازی میں تیزی آئی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت احتجاج کو آئینی حق قرار دے رہی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے نام پر اسلام آباد کی طرف مارچ، سڑکوں کی بندش یا امن و امان میں خلل برداشت نہیں کیا جائے گا۔
دوسری طرف تازہ سیاسی پیش رفت میں پی ٹی آئی کے اندر لانگ مارچ کی تاریخ اور حکمت عملی کے حوالے سے مشاورت کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق پارٹی کے اندر 27 ستمبر کے بجائے اکتوبر کے پہلے عشرے میں احتجاج منتقل کرنے کی تجویز زیر بحث آئی، تاہم وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جمعے کو پشاور میں احتجاج اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم اعلان کی بات کی۔
یوں 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل ایک طرف انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی اور راستوں کی نگرانی سخت کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی اپنی سیاسی سرگرمی جاری رکھنے پر اصرار کر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں پارٹی کی جانب سے حتمی احتجاجی حکمت عملی اور حکومت کی جانب سے سکیورٹی انتظامات اس سیاسی تنازع کی سمت طے کرنے میں اہم ہوں گے۔



