پاکستاناہم خبریں

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 33 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک

سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے بعد دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی تلاشی لی، جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

راولپنڈی: بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے دوران 21 ستمبر 2026 سے اب تک مختلف آپریشنز میں 33 دہشتگرد ہلاک کیے گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف جامع انسدادِ دہشتگردی آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز دہشتگرد عناصر کے ٹھکانوں، نقل و حرکت اور ممکنہ سہولت کاری کے نیٹ ورک کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کر رہی ہیں۔

آپریشن شعبان میں مزید 5 دہشتگرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق 24 ستمبر کو آپریشن شعبان کے تسلسل میں سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے مزید ٹھکانوں کا سراغ لگا کر انہیں نشانہ بنایا۔

کارروائی کے دوران دہشتگردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 5 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان ہلاکتوں کے بعد آپریشن شعبان کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 22 ہوگئی ہے۔

سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے بعد دہشتگردوں کے ٹھکانوں کی تلاشی لی، جہاں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں دہشتگردی کے خطرے کے مکمل خاتمے تک کلیئرنس آپریشن جاری رہے گا۔ سکیورٹی فورسز علاقے کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ممکنہ طور پر موجود دیگر دہشتگرد عناصر کی تلاش بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نوشکی میں انٹیلی جنس بنیاد پر بڑا آپریشن

آئی ایس پی آر کے مطابق 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیاد پر ایک اور آپریشن کیا گیا۔

سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی جانب سے شدید مزاحمت کی گئی، جس کے بعد فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کی مؤثر کارروائی کے نتیجے میں مزید 11 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

نوشکی میں کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن بھی جاری رکھا گیا تاکہ دہشتگردوں کے ممکنہ ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگایا جا سکے۔

21 ستمبر سے اب تک 33 دہشتگرد ہلاک

آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں 21 ستمبر 2026 سے جاری انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کے دوران اب تک 33 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق ان کارروائیوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ان کے زیر استعمال اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی قبضے میں لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد بلوچستان میں دہشتگردی کے خطرے کا خاتمہ اور دہشتگرد عناصر کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا ہے۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور نقل و حرکت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کلیئرنس آپریشن خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رکھنے کا اعلان

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ کارروائیوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں کلیئرنس کا عمل اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک دہشتگردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی نہ بنا دیا جائے۔

کلیئرنس آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے ممکنہ ٹھکانوں، اسلحہ و بارود کے ذخائر اور دیگر مشتبہ مقامات کی تلاشی لی جا رہی ہے۔

سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کی باقی ماندہ موجودگی اور ممکنہ سہولت کاری کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔

’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشتگردی مہم جاری رکھنے کا عزم

آئی ایس پی آر کے مطابق ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشتگردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔

ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں عزمِ استحکام کے وژن کے تحت جاری ہیں، جس کی منظوری وفاقی ایپکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان نے دی تھی۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مربوط انداز میں کارروائیاں جاری رکھیں گے اور دہشتگرد عناصر کو ملک میں دوبارہ قدم جمانے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں میں تیزی

حالیہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب بلوچستان میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر سکیورٹی اداروں کی جانب سے انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے۔

سکیورٹی فورسز کے مطابق دہشتگرد گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں ان کے ٹھکانوں، اسلحہ و بارود کے ذخائر اور آپریشنل نیٹ ورک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ’’ناسور‘‘ کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

حکام کے مطابق بلوچستان سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے خلاف آپریشنز کا بنیادی مقصد شہریوں اور اہم تنصیبات کو تحفظ فراہم کرنا، دہشتگرد نیٹ ورک کو ختم کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button