
جرمن وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ مذاکرات کا مرکز ’’مائیگریشن پالیسی میں تبدیلی کے عملی نفاذ‘‘ پر ہو گا۔
ترجمان کے مطابق 17 یورپی وزرائے داخلہ ’’یورپی مائیگریشن معاہدے‘‘ کو مزید مؤثر بنانے، یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو مزید سخت کرنے اور یورپ سے ایسے تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کریں گے، جو غیر منظم طور پر آئے ہیں،
جرمنی، ڈنمارک، آسٹریا، نیدرلینڈز اور یونان کے وزراء الگ سے بھی ملاقاتیں کریں گے، جن میں یورپی یونین سے باہر دیگر ممالک میں ’’واپسی مراکز‘‘ یا ’’ڈی پورٹیشن ہبز‘‘ قائم کرنے کی تجویز زیر بحث آئے گی۔
جرمنی کو امید ہے کہ وہ رواں سال کے اختتام تک افریقہ یا ممکنہ طور پر ایشیا کے کسی ملک کے ساتھ ایسے مراکز کے قیام پر معاہدہ کر لے گا۔
الیکسانڈر ڈوبرنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یورپی سرحدی ایجنسی فرونٹیکس (Frontex) کو مستقبل میں صرف سرحدی نگرانی کرنے والے ادارے کے بجائے ’’سرحدوں کے تحفظ اور مؤثر واپسیوں کی ایجنسی‘‘ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
فی الحال جن پناہ گزینوں کی درخواستیں مسترد ہو جاتی ہیں، انہیں واپس بھیجنے کی ذمہ داری یورپی یونین کے رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے۔
یورپی کمشنر برائے داخلہ امور و مہاجرت میگنس برونر بھی میونخ میں ہونے والے ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
جرمنی میں مائیگریشن سے متعلق پالیسیوں پر بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب دائیں بازو کی جماعت متبادل برائے جرمنی (اے ایف ڈی) نے حالیہ برسوں میں مقبولیت حاصل کی ہے اور سخت مائیگریشن پالیسیوں کا مطالبہ کر رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق وفاقی حکومت اور متعدد یورپی ممالک غیر منظم مائیگریشن کو محدود کرنے اور پناہ گزینوں کی واپسی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے بڑھتے ہوئے عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔



