یورپتازہ ترین

یوکرین پر روسی حملے، چار افراد ہلاک

علاقائی گورنر کے مطابق ان حملوں سے دو صنعتی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعد ازاں روسی میڈیا نے اطلاع دی کہ حملوں میں سے ایک کا ہدف مقامی آئل ریفائنری تھی۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
روس کے تازہ حملوں میں ہفتے کے روز یوکرین کے مختلف علاقوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے۔ یوکرینی حکام کے مطابق روس نے ایک بار پھر میزائلوں، ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ جنگی محاذ پر نمایاں پیش رفت سست پڑ گئی ہے۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روس روز بروز اپنی کارروائیوں میں شدت لا رہا ہے اور عالمی شراکت داروں کو اس کے جواب میں زیادہ مؤثر اقدامات کرنے چاہییں تاکہ جنگ مزید نہ پھیل سکے۔

زیلنسکی کے مطابق کییف، زاپوریژیا، اوڈیسا، سومی اور خارکیف کے علاقوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ زاپوریژیا میں ایک گھر پر حملے کے بعد ملبے تلے دب کر دو خواتین ہلاک ہو گئیں، جبکہ سومی شہر پر ایک علیحدہ حملے میں دو مزید افراد جان سے گئے۔

دوسری جانب یوکرین نے بھی روس کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی جاری رکھی ہوئی ہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے یوکرینی ڈرونز نے روسی آئل ریفائنریوں اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ روس کے جنوبی کراسنوڈار علاقے میں ایک یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

یوکرین، کییف، 202626 ستمبر 2026 کو روسی ڈرون حملے کے بعد یوکرین کے دارالحکومت کییف میں ایک رہائشی عمارت اور سپر مارکیٹ کو نشانہ بنائے گئے مقام پر فائر فائٹرز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔تصویر: گلیب گارانچ / روئٹرز
یوکرینی صدر زیلنسکی کے مطابق ملک بھر میں متعدد علاقوں میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، فائل فوٹوتصویر: Gleb Garanich/REUTERS

علاقائی گورنر کے مطابق ان حملوں سے دو صنعتی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعد ازاں روسی میڈیا نے اطلاع دی کہ حملوں میں سے ایک کا ہدف مقامی آئل ریفائنری تھی۔

یوکرین کے دارالحکومت کییف اور اس کے نواحی علاقوں میں بھی رات بھر روسی ڈرون حملے جاری رہے۔ کییف کے علاقے بوریسپل میں ایک گودام کو نشانہ بنائے جانے کے بعد آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔

ادھر روسی وزارتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ کییف پر حملے کے دوران ایک ایسے ڈیٹا سینٹر کو نقصان پہنچایا گیا جو موبائل انٹرنیٹ سروسز اور اسٹارلنک سیٹلائٹ مواصلاتی نظام کو سہولت فراہم کر رہا تھا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button