
گاڑی میں سوار پوپ نے تقریباً دو کلومیٹر طویل جلوس کے دوران شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ راستے میں لوگوں نے پرچم لہرا کر اور نعرے لگا کر ان کا استقبال کیا، جبکہ متعدد والدین اپنے چھوٹے بچوں کو پوپ کی دعا لینے کے لیے آگے لاتے رہے۔
اپنے خطاب میں پوپ لیو چہاردہم نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے ایمان کو صرف اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے دوسروں تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ روح القدس کی برکتیں پورے فرانس میں پھیلنی چاہئیں تاکہ لوگوں کو امید اور حوصلہ مل سکے۔
یہ اجتماع ایسے وقت میں ہوا ہے، جب فرانس سمیت یورپ کے کئی ممالک میں مذہبی وابستگی میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں فرانس میں بالغ افراد کے بپتسمہ لینے کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر کلیسیا سے وابستگی کا رجحان ماضی کے مقابلے میں اب بھی کمزور ہی ہے۔

انہوں نے پیرس کے کیتھولک انسٹیٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے نئے مذہب قبول کرنے والوں کی بڑھتی تعداد کو خدا کی ’’غیر متوقع اور حیران کن‘‘ کارفرمائی قرار دیا۔
پیرس میں منعقدہ اس تقریب میں صرف کیتھولک ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے اور غیر مذہبی افراد بھی شریک ہوئے۔ کئی شرکاء کا کہنا تھا کہ پوپ کا پیغام صرف مذہب تک محدود نہیں بلکہ امن، سماجی انصاف اور انسانی یکجہتی جیسے عالمی موضوعات کا احاطہ کرتا ہے۔



