
سید عاطف ندیم-ادارت
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائیوں میں ضلع کوئٹہ کے علاقے شابان، زیارت و گردونواح، نوشکی اور مند سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کیے گئے۔ فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے کہا ہے کہ کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے کلیئر کیے گئے جبکہ بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔
فوج کے مطابق یہ کارروائیاں مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں اور ان کا مقصد ایسے مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا تھا جنہیں پاکستانی حکام ملک میں دہشت گردی اور بدامنی کے لیے ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
آپریشن شابان میں کارروائی کا آغاز
آئی ایس پی آر کے مطابق 21 ستمبر کو زیارت اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے ایک تیز رفتار آپریشن شروع کیا۔
فوجی بیان کے مطابق کارروائی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کا دہشت گردوں سے سامنا ہوا اور متعدد مشتبہ ٹھکانوں کو کلیئر کیا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد آئی ایس پی آر نے 33 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی۔
فوج کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
بعد ازاں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا، جس کے نتیجے میں مزید دہشت گردوں کو ہلاک کرنے اور ایک بڑے علاقے کو کلیئر کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کلیئرنس آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے میں موجود خطرے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
نوشکی اور مند میں الگ کارروائیاں
فوج کے مطابق 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک الگ کارروائی کی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا اور 11 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
اسی طرح بلوچستان کے علاقے مند میں ایک اور آپریشن کے دوران مزید 6 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ فوج کے مطابق ان کارروائیوں میں بھی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
تازہ فوجی بیان کے مطابق ان مختلف کارروائیوں کو ملا کر گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں ہلاک کیے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 71 سے تجاوز کر گئی ہے۔ سرکاری ریڈیو نے بھی آئی ایس پی آر کے حوالے سے یہی مجموعی تعداد رپورٹ کی ہے۔
24 ستمبر کی کارروائی بھی آپریشن شابان کا حصہ
آئی ایس پی آر کے مطابق 24 ستمبر کو شابان کے علاقے میں کی گئی کارروائی میں مزید 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد اس مرحلے پر آپریشن شابان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 22 تک پہنچ گئی تھی۔
فوج کے مطابق اس کارروائی میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کی کارروائی جاری رکھی گئی۔
اس سے قبل 22 ستمبر کو آپریشن شابان-2 کے تحت سران ٹنگی کے علاقے میں بھی سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کی تھی، جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق 6 دہشت گرد ہلاک اور 9 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے تھے۔
آئی ایس پی آر کا دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
آئی ایس پی آر نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
فوجی بیان میں دہشت گرد گروہوں کو ’فتنہ الخوارج‘ اور ’فتنہ الہندوستان‘ کے ناموں سے بیان کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بیرونی معاونت اور سرپرستی کا عنصر موجود ہے۔
یہ الزام پاکستانی ریاستی اداروں کا مؤقف ہے؛ افغانستان یا بھارت کی جانب سے ان مخصوص تازہ کارروائیوں کے بارے میں کسی آزادانہ تصدیق کو خبر میں شامل نہیں کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مہم قومی ایکشن پلان کی وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت جاری رہے گی۔
صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
بلوچستان میں کارروائیوں کے بعد صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اپنے الگ الگ بیانات میں کہا کہ گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 71 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور بہادری کی عکاسی کرتی ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک غیر ملکی سرپرستی اور حمایت سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
بلوچستان میں مسلسل سکیورٹی آپریشنز
بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں تیز کی گئی ہیں۔
20 ستمبر کو صدر اور وزیراعظم نے قلات کے قریب پاکستان ہائی وے پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا تھا۔ سرکاری بیان کے مطابق اس کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے مغوی افراد کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا اور متعدد گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔
اسی طرح 23 ستمبر کو صدر اور وزیراعظم نے کوئٹہ اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کی تعریف کی تھی۔ اس موقع پر سکیورٹی فورسز کے ایک اہلکار صوبیدار محمد جمیل کی شہادت کا بھی ذکر کیا گیا تھا۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے چیلنج کا پس منظر
بلوچستان میں جاری کارروائیاں پاکستان کو درپیش وسیع تر سکیورٹی چیلنج کے پس منظر میں ہورہی ہیں۔ تنازع پر نظر رکھنے والے ادارے آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا (ACLED) کے مطابق 2025 میں پاکستان میں عسکریت پسند تشدد میں اضافہ دیکھا گیا اور بلوچستان و خیبر پختونخوا خاص طور پر متاثرہ خطوں میں شامل رہے۔
ACLED کے مطابق 2025 کے دوران بلوچستان میں علیحدگی پسند گروہوں کی جانب سے سکیورٹی فورسز، شاہراہوں اور اقتصادی منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا، جبکہ ٹی ٹی پی نے بھی خیبر پختونخوا میں بڑی تعداد میں حملے کیے۔
ادارے کے تجزیے کے مطابق 2025 میں پاکستان میں عسکریت پسند تشدد کے باعث ہزاروں ہلاکتیں ہوئیں اور سکیورٹی صورتحال خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں خراب رہی۔
تاہم مختلف اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات، ہلاکتوں اور گروہوں کی سرگرمیوں کے اعداد و شمار جمع کرنے کے طریقۂ کار میں فرق ہوسکتا ہے، اس لیے مختلف ذرائع کے اعداد و شمار میں تفاوت پایا جاسکتا ہے۔
بلوچستان میں سکیورٹی اور شہری تحفظ اہم چیلنج
بلوچستان ایک وسیع رقبے پر مشتمل صوبہ ہے جہاں ایک طرف مسلح علیحدگی پسند گروہوں کی سرگرمیاں اور دوسری طرف دیگر عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی سکیورٹی اداروں کے لیے مختلف نوعیت کے چیلنج پیدا کرتی ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران صوبے میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ عام شہری، مسافر، مزدور اور ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ افراد بھی مختلف حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانے، انٹیلی جنس نظام کو مضبوط بنانے اور مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
آپریشن شابان کا اگلا مرحلہ
آئی ایس پی آر کے مطابق شابان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں کلیئرنس آپریشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔ فوج کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں دہشت گردوں کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں وہاں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری رہیں گی۔
حکام کے مطابق کارروائیوں کے دوران برآمد ہونے والا اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی تفتیش کا حصہ بنایا جارہا ہے تاکہ دہشت گرد نیٹ ورک، ان کے رابطوں اور ممکنہ سہولت کاروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔
تازہ کارروائیوں کے نتیجے میں آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جاچکے ہیں، جبکہ سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک متعلقہ علاقوں میں خطرے کا مکمل خاتمہ نہیں ہوجاتا۔



