
سید عاطف ندیم-ادارت
لندن: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے برطانیہ کے دورے کے دوران لندن میں دنیا کے معروف مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے، معاشی استحکام، سرمایہ کاری کے سازگار ماحول، کیپٹل مارکیٹس اور عالمی مالیاتی شعبے کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے بارکلیز، جے پی مورگن، سٹی، بلیک راک اور روتھ شیلڈ اینڈ کو کے سینئر ایگزیکٹوز سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات اجاگر کیے اور عالمی مالیاتی اداروں کو ملک کے مالیاتی اور کاروباری شعبوں میں اپنی سرگرمیاں وسعت دینے کی دعوت دی۔
ان ملاقاتوں میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی بھی موجود تھے۔
بارکلیز کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
وزیراعظم شہباز شریف نے بارکلیز کے ہیڈ آف پرائیویٹ بینک اینڈ ویلتھ مینجمنٹ یو کے محمد کمال سید سے ملاقات کی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے پاکستان میں بارکلیز کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات سے انہیں آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے اور مالیاتی شعبے میں کاروباری مواقع بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے بارکلیز کو پاکستان کے مالیاتی شعبے اور مختلف کاروباری مواقع میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی پاکستان میں موجودگی سے ملکی معیشت اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں کے درمیان روابط مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔
جے پی مورگن سے کیپٹل مارکیٹس اور انویسٹمنٹ بینکنگ پر گفتگو
وزیراعظم نے جے پی مورگن کے شریک چیف ایگزیکٹو میتھیو ولٹز (Mathieu Wiltz) کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران سرمایہ مارکیٹس، تجارتی فنانسنگ اور انویسٹمنٹ بینکنگ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے جے پی مورگن کو پاکستان میں اپنی سرگرمیوں اور موجودگی مزید وسعت دینے کی دعوت دی۔
ملاقات کے دوران جے پی مورگن کے وفد نے پاکستان کے خودمختار قرضہ جات، کیپٹل مارکیٹس اور کارپوریٹ بینکنگ کے شعبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا۔
فریقین نے اس امر پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ اور نجی شعبے کے لیے مالیاتی مواقع بڑھانے میں کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سٹی کی پاکستان میں موجودگی کو مزید وسعت دینے پر زور
وزیراعظم کی سٹی (Citi) کے چیف کلائنٹ آفیسر ڈیوڈ لیونگ اسٹون (David Livingstone) کی قیادت میں اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات ہوئی۔
وزیراعظم نے پاکستان میں سٹی کی طویل عرصے سے موجودگی کو سراہا اور بینک کی کارپوریٹ اور ادارہ جاتی بینکنگ خدمات کو مزید وسعت دینے کی حوصلہ افزائی کی۔
ملاقات کے دوران پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی بینکنگ روابط کے فروغ سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے امکانات کو وسعت دینے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
بلیک راک کو پاکستانی ایکویٹیز اور فکسڈ انکم میں سرمایہ کاری کی دعوت
وزیراعظم نے عالمی سطح کے معروف اثاثہ جاتی انتظامی ادارے بلیک راک کے ایمرجنگ مارکیٹس اینڈ فرنٹیئرز کے شریک سربراہان گورڈن فریزر (Gordon Fraser) اور سیم ویچ (Sam Vetch) جبکہ پورٹ فولیو مینیجر و ریسرچ اینالسٹ ایملی فلیچر (Emily Fletcher) پر مشتمل وفد سے ملاقات کی۔
ملاقات میں وزیراعظم نے فرنٹیئر مارکیٹس حکمت عملی کے تحت پاکستان میں ایکویٹیز اور فکسڈ انکم کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے پاکستان میں معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری کے لیے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی اور عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پالیسیوں میں تسلسل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
ملاقات میں دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور پیش بینی کے قابل ماحول اہم عوامل ہیں۔
روتھ شیلڈ اینڈ کو کے ساتھ جیو اکنامک ترجیحات پر تبادلہ خیال
وزیراعظم شہباز شریف نے روتھ شیلڈ اینڈ کو کے چیئر، جیو اسٹریٹجک ایڈوائزری لارڈ مارک سیڈول (Lord Mark Sedwill) اور ہیڈ آف یو کے انویسٹمنٹ بینکنگ مجید اسحاق سے بھی ملاقات کی۔
ملاقات میں پاکستان کی جیو اکنامک ترجیحات، کیپٹل مارکیٹس اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے اس بات کا جائزہ لیا کہ عالمی مالیاتی اداروں کی مشاورتی مہارت سے پاکستان کی سرمایہ کاری اور کیپٹل مارکیٹس کی حکمت عملی کو کس طرح مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
ملاقات میں پاکستان کے عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ روابط، سرمایہ کاری کے امکانات اور معاشی پالیسیوں کے حوالے سے مشاورتی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
عالمی مالیاتی اداروں کا پاکستانی اصلاحاتی عمل پر اعتماد
وزیراعظم کی لندن میں عالمی مالیاتی اداروں کے سینئر حکام کے ساتھ ہونے والی تمام ملاقاتوں میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی عمل میں پیش رفت پر اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے پاکستان کے مالیاتی شعبے کے ساتھ تعاون اور روابط مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ملاقاتوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے معاشی اصلاحات کے تسلسل، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مستحکم پالیسی ماحول کی اہمیت برقرار رہے گی۔
عالمی سرمایہ کاری کے لیے پاکستان کی کوششیں
وزیراعظم کی لندن میں ہونے والی ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب حکومت پاکستان عالمی مالیاتی مراکز اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔
حکومت کا مقصد عالمی مالیاتی اداروں کو پاکستان کے سرمایہ کاری کے مواقع سے آگاہ کرنا، کیپٹل مارکیٹس میں روابط بڑھانا اور نجی شعبے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی وسائل تک رسائی کو مزید بہتر بنانا ہے۔
لندن میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقاتوں میں سرمایہ کاری، بینکنگ، تجارتی فنانسنگ، کیپٹل مارکیٹس، ایکویٹیز، فکسڈ انکم، کارپوریٹ بینکنگ اور مالیاتی مشاورت جیسے اہم شعبے زیر بحث آئے۔
پاکستان میں پائیدار سرمایہ کاری کے فروغ پر توجہ
وزیراعظم نے عالمی مالیاتی اداروں کو پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات کو اجاگر کیا۔
ان ملاقاتوں کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ پاکستان عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ روابط کو صرف قرض اور خودمختار فنانسنگ تک محدود رکھنے کے بجائے براہِ راست اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے بھی وسعت دینا چاہتا ہے۔
حکومتی حکام کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اس نوعیت کی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام، سرمایہ کاری کے ماحول اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم کے ہمراہ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی موجودگی نے بھی ان ملاقاتوں میں پاکستان کی مالیاتی اصلاحات، نجکاری اور سرمایہ کاری پالیسی سے متعلق امور کو اہمیت دی۔
یوں لندن میں وزیراعظم کی مصروفیات میں عالمی مالیاتی اداروں کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں پاکستان کے لیے بیرونی سرمایہ کاری، مالیاتی تعاون اور عالمی کیپٹل مارکیٹس میں رسائی کے امکانات کو اجاگر کرنے کا اہم ذریعہ بنیں۔


