
جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کو بھیجی گئی امن تجویز کا جواب موصول ہو گیا، ایرانی حکومت
اس نئی اور بالواسطہ ایران تجویز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے بعد میں دیے جانے والے باضابطہ جواب سے پہلے ہی مسترد کر دیا تھا
سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے ساتھ
ایرانی حکام نے بدھ 30 ستمبر کے روز تصدیق کر دی کہ تہران کو اس کی طرف سے امریکہ کو جنگ کے خاتمے کے لیے بالواسطہ طور پر بھیجی گئی عبوری امن تجاویز پر واشنگٹن کا باضابطہ جواب موصول ہو گیا ہے۔
ایرانی دارالحکومت سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ بات ایران کے سرکاری میڈیا نے ملکی حکام کے حوالے سے بتائی۔ اس سے چند روز قبل واشنگٹن کی طرف سے کہہ دیا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیا ایرانی امن منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔
سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایرانی حکومت کی خاتون ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے بدھ کے روز کہا، ’’آج ہونے والے ملکی کابینہ کے ایک اجلاس میں وزیر خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے صدر مسعود پزشکیان کو امریکہ کی طرف سے دی گئی جوابی تجاویز کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا۔‘‘
قبل ازیں دوحہ سے بدھ ہی کے روز ملنے والی رپورٹوں میں بھی بتایا گیا تھا کہ منگل 29 ستمبر کی رات قطر کے ثالثی نمائندوں کی طرف سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو ایران تجویز پر امریکی ردعمل سے باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا۔

تہران کی طرف سے تجویز کردہ اس سات روزہ پلان کا مقصد متحارب فریقین کے طور پر ایران اور امریکہ کے مابین اعتماد سازی کرنا تھا اور تہران نے کہا تھا کہ اس سات روزہ مدت کے اختتام پر اور امریکہ کی طرف سے مخصوص شرائط کے پورا کیے جانے کے بعد ایران آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے پر تیار تھا۔
اس نئی اور بالواسطہ ایران تجویز کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کے بعد میں دیے جانے والے باضابطہ جواب سے پہلے ہی مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد قطر کی طرف سے دوبارہ شروع کردہ بھرپور ثالثی کوششیں تیز تر کر دی گئی تھیں۔
ان ایرانی تجاویز اور ان پر امریکی ردعمل کے بعد اب صورت حال یہ ہے کہ ایران جنگ میں تہران اور واشنگٹن اپنے اپنے سخت سیاسی اور عسکری موقف سے عملی طور پر کچھ پیچھے ہٹتے نظر نہیں آ رہے۔



