
سید عاطف ندیم-ادارت
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ کے تحت قائم اسٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس آئندہ ہفتے سعودی دارالحکومت ریاض میں ہوگا، جس میں سعودی عرب میں حوثی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی تازہ علاقائی صورتحال، تینوں ممالک کے باہمی دفاعی تعاون اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعہ 2 اکتوبر کو میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ معاہدے کے تحت اسٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا مکمل اجلاس جلد ریاض میں منعقد ہوگا۔ ان کے مطابق اجلاس میں موجودہ زمینی صورتحال، بالخصوص سعودی عرب میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
اسحاق ڈار کے مطابق اجلاس کا مقصد موجودہ حالات کا مشترکہ جائزہ لینا اور مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت تینوں ممالک کے درمیان مشاورت کو آگے بڑھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے ساتھ معاملے میں عسکری کارروائی کے بجائے سیاسی رابطے اور سفارتی راستوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اپنے دفاعی اور سیاسی تعاون کے لیے ادارہ جاتی ڈھانچے کو فعال بنانے کا عمل تیز کر دیا ہے۔
استنبول میں مکہ معاہدے کی پہلی باقاعدہ نشست
مکہ معاہدے کے تحت اسٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست 2026 کو ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوا تھا۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی تھی۔
اجلاس میں ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ و دفاع کے علاوہ دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام نے بھی شرکت کی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق استنبول اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم ہونے والی اسٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس تھا۔
استنبول اجلاس کو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب اہم ابتدائی قدم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے ذریعے دفاعی رابطوں، سیاسی مشاورت اور مشترکہ سلامتی سے متعلق معاملات کے لیے مستقل رابطہ کاری کے نظام کو آگے بڑھانے کا عمل شروع ہوا۔
مکہ معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے پر سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے دستخط کیے۔
معاہدے کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق اس کا مقصد تینوں ممالک کی مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا، اجتماعی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے میں یہ اصول بھی شامل ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جبکہ دفاعی تعاون کے مختلف شعبوں کو مزید وسعت دی جائے گی۔
حوثی حملوں کے بعد نئی صورتحال
مکہ معاہدے کے قیام کے بعد سعودی عرب کو حوثی حملوں کا سامنا ہوا، جس کے باعث تینوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سیاسی مشاورت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے مکہ معاہدے کے فریم ورک کے تحت ملاقات کی۔ ملاقات میں معاہدے کے جنرل سیکریٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ تینوں ممالک کے درمیان علاقائی و عالمی سلامتی کے امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
سعودی عرب کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اس ملاقات میں سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی گئی اور تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ عسکری قیادت کی ہنگامی ملاقات کے انتظامات پر بھی بات ہوئی۔
تاہم پاکستان کی جانب سے نیویارک ملاقات کی سرکاری وضاحت میں بنیادی طور پر معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے کو فعال بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی سلامتی کے معاملات پر مشاورت کو اجاگر کیا گیا۔
فوری عسکری کارروائی کے بجائے سیاسی رابطوں پر زور
اسحاق ڈار کے تازہ بیان کے مطابق آئندہ اجلاس میں سعودی عرب کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ممکنہ ردعمل پر غور کیا جائے گا، تاہم پاکستان کی جانب سے حوثیوں کے معاملے میں سیاسی اور سفارتی رابطوں کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ مکہ معاہدہ بنیادی طور پر تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون، اجتماعی مزاحمت اور سلامتی کے ادارہ جاتی میکنزم کو مضبوط بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔ اس لیے ریاض اجلاس میں کسی بھی ممکنہ اقدام کو تینوں ممالک کے درمیان سیاسی و دفاعی مشاورت کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
مزید ممالک کی ممکنہ شمولیت
اسحاق ڈار نے یہ بھی بتایا کہ چھ سے زیادہ ممالک مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق معاہدے کے مکمل طور پر فعال ہونے تک نئی رکنیت کی درخواستوں پر غور نہیں کیا جا سکے گا۔
وزیر خارجہ کے مطابق معاہدے کو مکمل طور پر فعال ہونے میں ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس دوران جنرل سیکریٹریٹ، مختلف کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام سمیت ضروری ادارہ جاتی اور تکنیکی معاملات مکمل کیے جائیں گے۔
خطے میں دفاعی تعاون کا نیا فریم ورک
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود سیاسی، دفاعی اور سفارتی تعلقات کو ایک باقاعدہ سہ فریقی فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون ماضی میں بھی مختلف سطحوں پر موجود رہا ہے، تاہم نئے معاہدے کے ذریعے مشترکہ سلامتی اور دفاعی مشاورت کے لیے زیادہ منظم نظام تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ریاض میں آئندہ ہفتے ہونے والا اسٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا اجلاس اس عمل میں ایک اہم اگلا مرحلہ ہوگا، جہاں سعودی عرب میں جاری سلامتی کی صورتحال، حوثی حملوں کے تناظر میں علاقائی خطرات اور تینوں ممالک کے درمیان ممکنہ تعاون پر غور کیا جائے گا۔
پاکستان کے لیے اس اجلاس کی اہمیت اس اعتبار سے بھی نمایاں ہے کہ اسلام آباد ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ برادرانہ اور دفاعی تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں اور سیاسی حل کی ضرورت پر بھی زور دیتا رہا ہے۔
یوں ریاض میں ہونے والا آئندہ اجلاس مکہ معاہدے کے عملی نفاذ، تینوں ممالک کے درمیان دفاعی رابطہ کاری اور سعودی عرب کو درپیش موجودہ سلامتی کے چیلنجز پر مشترکہ مشاورت کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔



