
جرمن چانسلر فریڈرِش میرس نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے یوکرین پر حملے روکنے اور مذاکرات کی طرف آنے کی اپیل کی ہے۔
اتوار کے روز کییف کے دورے کے دوران میرس نے کہا، ’’مسٹر پوٹن، یہ بے مقصد جنگ بند کریں۔ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن یوکرین کی شہری آبادی پر یہ حملے رکنے چاہییں۔‘‘

میرس نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ہمراہ کییف کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کا دورہ بھی کیا، جسے حالیہ ڈرون حملے میں نقصان پہنچا تھا۔ میرس کے دورے کے دوران کییف میں کئی مرتبہ ڈرون حملوں کے سائرن بجے، جبکہ صبح شہر کے شمال میں ایک پل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
تباہ شدہ عمارت کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے میرس نے کہا کہ ایسے حملوں سے اس جنگ کی بے معنویت واضح ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین میں موسم سرما کی تیاری کے دوران بنیادی ڈھانچے پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں۔
میرس نے ایک بار پھر روسی قیادت سے جنگ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے پہلے ہتھیار خاموش ہونا ضروری ہیں۔
پیر کے روز روسی ڈرون حملے میں کییف کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی تاریخی عمارت کی دو منزلیں تباہ ہو گئی تھیں۔ اس حملے میں ایک خاتون ہلاک جبکہ تقریباً چھ افراد زخمی ہوئے تھے۔





