
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کو جدید، منظم اور برآمدات پر مبنی بنانے کے لیے اہم اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے درآمد شدہ اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی خصوصی فارمز میں نشوونما کے بعد انہیں برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ برآمدی مقصد کے لیے قائم کیے جانے والے خصوصی لائیو اسٹاک فارمز میں مویشیوں کی درآمد کو ڈیوٹی فری کیا جائے، جبکہ ان فارمز میں رکھے جانے والے جانوروں کی نگرانی اور برآمد کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیگنگ اور ٹریس ایبلٹی نظام متعارف کرایا جائے۔
یہ فیصلے پیر کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت لائیو اسٹاک کے شعبے میں جاری اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس میں کیے گئے۔
لائیو اسٹاک شعبے کو کارپوریٹ بنیادوں پر استوار کرنے کا فیصلہ
اجلاس میں وزیراعظم نے لائیو اسٹاک کے شعبے کی تنظیم نو اور اسے جدید کارپوریٹ خطوط پر استوار کرنے کی منظوری بھی دی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شعبے میں اصلاحات کی تیاری اور ان پر عمل درآمد کے لیے نجی شعبے کے ماہرین کے تجربات اور مہارت سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں لائیو اسٹاک کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس شعبے میں موجود وسیع استعداد کو برآمدات میں تبدیل کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ لائیو اسٹاک کے شعبے میں موجود انتظامی، پیداواری اور برآمدی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے جامع اصلاحاتی حکمت عملی مرتب کی جائے۔
خصوصی فارمز میں اعلیٰ نسل کے مویشی درآمد ہوں گے
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ ملک میں ایسے خصوصی فارمز قائم کیے جائیں جہاں برآمدی مقاصد کے لیے اعلیٰ نسل اور زیادہ پیداوار کی صلاحیت رکھنے والے مویشی درآمد کیے جائیں۔
ان جانوروں کو جدید طریقہ کار کے تحت ان فارمز میں رکھا جائے گا، ان کی افزائش اور نشوونما کی جائے گی اور بعد ازاں انہیں بین الاقوامی منڈیوں میں برآمد کیا جائے گا۔
حکومت کا مقصد اس اقدام کے ذریعے پاکستان میں اعلیٰ معیار کے برآمدی مویشیوں کی دستیابی بڑھانا اور عالمی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق لائیو اسٹاک کی برآمدات کو فروغ دینا ہے۔
برآمدی فارمز میں مویشیوں کی درآمد ڈیوٹی فری ہوگی
وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ ان خصوصی برآمدی فارمز کے لیے درآمد کیے جانے والے مویشیوں کو ڈیوٹی فری سہولت فراہم کی جائے۔
اس اقدام کا مقصد نجی سرمایہ کاروں کو جدید لائیو اسٹاک فارمز کے قیام کی طرف راغب کرنا اور اعلیٰ معیار کے مویشیوں کی درآمد کی لاگت کم کرنا ہے۔
تاہم وزیراعظم نے اس بات کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا کہ جو مویشی اس مقصد کے لیے درآمد کیے جائیں، انہیں واقعی برآمدی پروگرام کے تحت استعمال کیا جائے۔
مویشیوں کی جدید ٹیگنگ اور ٹریس ایبلٹی کا نظام
خصوصی فارمز میں درآمد کیے جانے والے مویشیوں کے حوالے سے شفافیت برقرار رکھنے کے لیے وزیراعظم نے جدید ٹیگنگ سسٹم متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔
اس نظام کے ذریعے جانوروں کی شناخت، نقل و حرکت، افزائش، صحت اور برآمد سے متعلق ریکارڈ کو ڈیجیٹل انداز میں محفوظ کیا جاسکے گا۔
حکومت کے مطابق ٹریس ایبلٹی نظام نہ صرف جانوروں کی نگرانی میں مدد دے گا بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی لائیو اسٹاک اور گوشت کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔
منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے دو ہفتے میں لائحہ عمل
وزیراعظم نے ملک سے منہ کھر کی بیماری (FMD) کے خاتمے کو بھی ترجیح قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو واضح اہداف کے ساتھ عملی منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ منہ کھر کی بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے مقررہ اہداف پر مشتمل لائحہ عمل دو ہفتوں کے اندر پیش کیا جائے۔
انہوں نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ہدایت کی کہ لائیو اسٹاک میں بیماریوں کے خاتمے کے لیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ اور مؤثر تعاون یقینی بنایا جائے۔
بیماریوں کی ڈیجیٹل نگرانی اور ویکسینیشن پر توجہ
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت لائیو اسٹاک کی بیماریوں کی روک تھام اور نگرانی کے لیے جدید نظام متعارف کرا رہی ہے۔
اس ضمن میں ویکسینیشن، بیماریوں کی ڈیجیٹل نگرانی اور جانوروں کی ٹریس ایبلٹی کو اہمیت دی جارہی ہے۔
حکومت کا مقصد بیماریوں کے پھیلاؤ کو بروقت روکنے کے ساتھ ساتھ ایسے صحت مند جانوروں کی پیداوار اور برآمد کو یقینی بنانا ہے جو بین الاقوامی صحت اور فوڈ سیفٹی کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن لازمی بنانے کی ہدایت
وزیراعظم نے ملک بھر میں قائم مذبح خانوں کی بین الاقوامی سرٹیفکیشن یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
انہوں نے کہا کہ مذبح خانوں میں عالمی معیار کی صفائی، حفظان صحت، فوڈ سیفٹی اور پروسیسنگ کے تقاضوں کو پورا کیا جانا ضروری ہے۔
اس مقصد کے لیے مذبح خانوں کے بین الاقوامی معیار کی جانچ کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔
یہ اقدام پاکستانی گوشت کی عالمی منڈی میں قبولیت بڑھانے اور برآمدی مصنوعات کے معیار پر اعتماد بحال کرنے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
پوری ویلیو چین کو بہتر بنانے کا فیصلہ
وزیراعظم نے گوشت اور لائیو اسٹاک کی برآمدی صنعت کی مزید ترقی کے لیے صرف جانوروں کی پیداوار تک محدود رہنے کے بجائے پوری ویلیو چین کو بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اس میں مویشیوں کی افزائش، خوراک، بیماریوں سے تحفظ، فارمنگ، جانوروں کی نقل و حمل، ذبح، گوشت کی پروسیسنگ، کولڈ اسٹوریج، ڈی بوننگ، پیکیجنگ، سرٹیفکیشن اور بین الاقوامی مارکیٹنگ سمیت تمام مراحل شامل ہیں۔
حکومت کا مقصد ایسی مکمل برآمدی سپلائی چین تشکیل دینا ہے جو عالمی معیار پر پورا اتر سکے اور پاکستان کو اعلیٰ معیار کے گوشت اور لائیو اسٹاک کی عالمی منڈی میں مضبوط مقام دلا سکے۔
پاکستان میں 245 ملین کے قریب مویشی موجود
اجلاس میں پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کی مجموعی استعداد کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں تقریباً 245 ملین مویشی موجود ہیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 5.5 کھرب روپے بنتی ہے۔
لائیو اسٹاک کا شعبہ ملکی معیشت میں 14.97 فیصد جبکہ زرعی معیشت میں 63.6 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ لائیو اسٹاک پاکستان کی زرعی معیشت کا ایک انتہائی اہم ستون ہے، تاہم اس کی برآمدی صلاحیت ابھی مکمل طور پر استعمال نہیں کی جاسکی۔
سالانہ 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت کی پیداوار
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سالانہ تقریباً 74.69 ملین ٹن دودھ اور 6.31 ملین ٹن گوشت پیدا ہوتا ہے۔
اتنی بڑی پیداوار کے باوجود عالمی منڈی میں پاکستان کا حصہ محدود ہے، جس کی بڑی وجوہات میں چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنا، غیر منظم سپلائی چین، بیماریوں کے مسائل، جدید پروسیسنگ کی محدود سہولیات اور بین الاقوامی معیار کے مطابق انفراسٹرکچر کی کمی شامل ہیں۔
حکومت اب ان رکاوٹوں کو دور کرکے پیداوار کو برآمدی آمدنی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
80 لاکھ دیہی خاندان لائیو اسٹاک سے وابستہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں تقریباً 80 لاکھ دیہی خاندان براہ راست یا بالواسطہ طور پر لائیو اسٹاک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
پاکستان میں بڑی تعداد میں چھوٹے کسان اور دیہی خاندان محدود پیمانے پر مویشی پالتے ہیں۔ تاہم بکھری ہوئی پیداوار اور سپلائی چین کے باعث عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق بڑے پیمانے پر معیاری برآمدی مصنوعات تیار کرنا مشکل ہوتا ہے۔
حکومت کی نئی اصلاحات کا ایک مقصد اسی بکھرے ہوئے نظام کو منظم کرکے اسے جدید تجارتی اور کارپوریٹ نظام میں تبدیل کرنا ہے۔
گوشت کی برآمدات 530 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں
اجلاس میں بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی گوشت کی برآمدات تقریباً 530 ملین ڈالر رہیں۔
پاکستانی گوشت کی موجودہ برآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک کو جاتا ہے، جن میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت اور قطر نمایاں ہیں۔
حکومت اب روایتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
ملائیشیا، چین اور سعودی عرب نئی منڈیوں میں شامل
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملائیشیا، سعودی عرب، چین اور دیگر ممالک پاکستانی گوشت اور لائیو اسٹاک کے لیے نئی یا توسیعی برآمدی منڈیوں کے طور پر نمایاں امکانات رکھتے ہیں۔
ان ممالک میں پاکستانی گوشت کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے معیار، حلال سرٹیفکیشن، کولڈ چین اور فوڈ سیفٹی کے عالمی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوگا۔
حکومت اسی مقصد کے لیے ایکسپورٹ گریڈ فارمز، بیماریوں سے پاک زونز اور بین الاقوامی صحت و حلال سرٹیفکیشن کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔
بیماریوں سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کا قیام
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت لائیو اسٹاک اور گوشت کی برآمدات میں اضافے کے لیے منہ کھر کی بیماری سے پاک زونز اور کمپارٹمنٹس کے قیام پر بھی کام کر رہی ہے۔
یہ نظام بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مویشیوں اور گوشت کے لیے صحت کے حوالے سے اعتماد بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس کے ساتھ جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن اور ٹریس ایبلٹی کے نظام کو بھی مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
فیڈ لاٹ فارمنگ اور کولڈ چین کو فروغ دینے کا منصوبہ
حکومت لائیو اسٹاک کے شعبے میں فیڈ لاٹ فارمنگ کے فروغ پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
اس نظام کے تحت مویشیوں کو منظم انداز میں خوراک فراہم کرکے مطلوبہ وزن اور معیار تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے برآمدی گوشت کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اسی طرح حکومت کولڈ چین، ڈی بوننگ، ویلیو ایڈڈ گوشت کی مصنوعات اور برآمدی انفراسٹرکچر کی ترقی پر بھی توجہ دے رہی ہے۔
ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری پر زور
حکومت کا مقصد صرف خام گوشت یا زندہ جانور برآمد کرنے کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمد کو بھی بڑھانا ہے۔
اس مقصد کے لیے جدید پروسیسنگ، ڈی بوننگ، پیکیجنگ اور کولڈ اسٹوریج کی سہولیات میں سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔
ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پاکستان عالمی منڈی میں زیادہ قیمت حاصل کرنے والی مصنوعات متعارف کرا سکتا ہے، جس سے برآمدی آمدنی میں اضافہ ممکن ہوگا۔
2028 تک گوشت کی برآمدات میں مزید اضافے کا ہدف
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت نے 2028 تک گوشت کی برآمدات میں مزید اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ گوشت، لائیو اسٹاک اور اس سے منسلک شعبوں کی برآمدات کے واضح اور قابلِ عمل اہداف مقرر کرکے پیش کیے جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اہداف صرف اعداد و شمار تک محدود نہ ہوں بلکہ ان کے حصول کے لیے واضح ذمہ داریاں، ٹائم لائنز اور نگرانی کا مؤثر نظام بھی وضع کیا جائے۔
نجی شعبے کو اصلاحات میں شامل کرنے کا فیصلہ
وزیراعظم نے لائیو اسٹاک کے شعبے میں اصلاحات کے لیے نجی شعبے کے ماہرین سے استفادہ کرنے کی ہدایت کی۔
ان کے مطابق نجی شعبہ جدید فارمنگ، برآمدی مارکیٹنگ، جانوروں کی افزائش، کولڈ چین، پروسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے اہم تجربہ رکھتا ہے۔
حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر شراکت داری کے ذریعے پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کو زیادہ مسابقتی اور برآمدی بنیادوں پر استوار کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعظم کی برآمدی اہداف واضح کرنے کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ گوشت، لائیو اسٹاک اور اس سے منسلک برآمدات کے واضح اہداف مقرر کرکے پیش کیے جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لائیو اسٹاک کو محض ملکی ضروریات پوری کرنے والے شعبے کے طور پر نہیں بلکہ برآمدات اور زرمبادلہ کمانے والے اہم شعبے کے طور پر ترقی دی جائے۔
ان اصلاحات کے ذریعے حکومت پاکستان کی زرعی معیشت میں لائیو اسٹاک کے وسیع حجم کو عالمی مارکیٹ میں مسابقتی برآمدی صنعت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام کی شرکت
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، احسن اقبال، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب اور عطاء اللہ تارڑ نے شرکت کی۔
اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
اجلاس میں لائیو اسٹاک شعبے کی موجودہ صورتحال، برآمدات میں اضافے کے امکانات، بیماریوں پر قابو پانے، جدید فارمنگ، بین الاقوامی سرٹیفکیشن اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔
پاکستان کے لیے برآمدات بڑھانے کا بڑا موقع
پاکستان میں مویشیوں کی بڑی تعداد، وسیع دیہی افرادی قوت اور دودھ و گوشت کی قابل ذکر پیداوار کے باعث لائیو اسٹاک شعبے میں برآمدات بڑھانے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔
تاہم اس صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے بیماریوں پر قابو پانے، جانوروں کی ٹریس ایبلٹی، جدید فارمنگ، عالمی معیار کے مذبح خانوں، کولڈ چین، حلال سرٹیفکیشن اور منظم سپلائی چین کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کا بنیادی مقصد انہی شعبہ جاتی کمزوریوں کو دور کرکے پاکستان کے لائیو اسٹاک کو ایک جدید، منظم، کارپوریٹ اور برآمدات پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنا ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ اعلیٰ نسل کے مویشیوں کے لیے خصوصی برآمدی فارمز، ڈیوٹی فری درآمد، بیماریوں کے خاتمے، بین الاقوامی سرٹیفکیشن، جدید ٹریس ایبلٹی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے فروغ جیسے اقدامات پر مؤثر عمل درآمد سے پاکستان عالمی گوشت اور لائیو اسٹاک مارکیٹ میں اپنا حصہ نمایاں طور پر بڑھا سکے گا۔



