پاکستاناہم خبریں

 خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم

ایک دن پہلے منگل کو وزیراعظم شہباز  نے پی ٹی آئی کو ’ہوش کے ناخن لینے‘ کے انتباہ کے ساتھ پیشکش بھی کی ہے

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service
سید عاطف ندیم-ادارت

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا کیونکہ ہماری خواہش ہے کہ یہ صوبہ بھی ملک کے دیگر حصوں کی طرح ترقی کرے۔

سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے بدھ کو  وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینیئر امیر مقام سے ملاقات کے دوران کہا کہ دہشت گردی کے خلاف خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا۔

مذاکرات کے دروازے کھلے، مگر ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں مگر ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا۔

بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا ایک ہی ایجنڈا رہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام لایا جائے اور سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر عام کیا جائے۔

بدھ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی شروع سے ہی اسی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے، ملک میں سیاسی عدم استحکام 2014 کے دھرنے سے شروع ہوا اس کے بعد بھی 2022 اور 2024 میں اسلام آباد پر حملے کیے گئے۔

انہوں نے سہیل آفریدی پر الزام لگایا کہ وہ عوام کے مسائل کا حل ان کی ترجیح ہی نہیں۔

’انہوں نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ عشق عمران میں مرنا چاہتا ہوں۔‘

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے خودکشی کرنی ہی ہے تو کوئی اور راستہ اختیار کریں، کروڑوں لوگوں کو کیوں ایسی صورت حال سے دوچا کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے درمیان صوبے میں امن و امان کی خراب ہوتی صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی اور لانگ مارچ کے حوالے سے حالیہ دنوں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس دوران وفاق کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے پر غور کرنے کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔

ایک دن پہلے منگل کو وزیراعظم شہباز  نے پی ٹی آئی کو ’ہوش کے ناخن لینے‘ کے انتباہ کے ساتھ پیشکش بھی کی ہے کہ اگر وہ لانگ مارچ ختم کر دے تو اس کے ساتھ بات ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی گئی تھی ’لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کرنے والے ہوش کے ناخن لیں یہ ملک کے لیے نقصان ہیں۔‘

اس سے پہلے تحریک اناصف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بھی  سنیچر کی رات گئے ناکام ہو گئے تھے جس کے بعد اتوار کو تحریک انصاف نے  لکی مروت سے اسلام آباد کے لیے لانگ مارچ شروع کر دیا ہے

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رانا ثنا اللہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ’بنیادی بات امن وامان اور دہشت گردی کے حوالے سے کے پی کے حالات ہیں۔‘

’وفاق کا موقف ہے صوبائی حکومت دہشت گردی کے معاملے میں اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے۔ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ بات ہمیں قبول نہیں ہے۔‘

خیبر پختونخوا کی حکومت اور وفاق میں امن و امان اور لانگ مارچ کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے: فوٹو اے ایف پی

دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور وفاق کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ملٹری آپریشنز مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت کے دوران خطہ سیاحت کے لیے جانا جاتا تھا نہ کہ دہشت گردی کے لیے۔‘

اس پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’کے پی حکومت سکیورٹی امور کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھنے کے لیے ’پولیس ایکٹ 2026‘ پر نظرِ ثانی، دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے، اور ٹی ٹی پی و دیگر کالعدم گروہوں کی بلا مشروط مذمت پر تحریری معاہدے پر رضامند ہو چکی تھی۔‘

’اس کے علاوہ افغان مہاجرین کی واپسی، افغان کیمپوں کی منتقلی، عبوری افغان حکومت سے براہِ راست رابطوں سے گریز اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سمیت 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ حکمتِ عملی پیش کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔‘

محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ ’کے پی حکومت نے مذاکرات کے آخری مرحلے میں ان تمام نکات سے انحراف کیا حالانکہ جب صوبہ جنگ کی حالت میں ہو تو سکیورٹی امور پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button