
سید عاطف ندیم-ادارت
چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پہلی مشترکہ فوجی مشقیں ’قراقرم 2026‘ اکتوبر 2026 کے وسط اور آخری حصے میں چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ ایغور خود مختار خطے کے شہر کورلا میں منعقد کی جائیں گی۔ ان مشقوں کا بنیادی مقصد زیادہ بلندی والے علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے مشترکہ صلاحیتوں کو بہتر بنانا، دونوں ممالک کی افواج کے درمیان عملی ہم آہنگی کو فروغ دینا اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے استعمال میں مہارت بڑھانا ہے۔
چینی دفاعی ترجمان نے 10 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ ان مشترکہ فوجی مشقوں میں چین اور پاکستان کی مسلح افواج کے اہلکار حصہ لیں گے۔ مشقوں کے دوران جدید جنگی طریقہ کار، بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (یو اے وی)، حرکت کے دوران اہداف کی نشاندہی، فائرنگ، طویل فاصلے تک درست نشانہ بازی اور مشترکہ کمانڈ کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
چینی ترجمان کے مطابق، ’قراقرم 2026‘ دونوں ممالک کے درمیان پہلی مشترکہ فوجی مشق ہوگی، جس سے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے اور دونوں افواج کی مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔
زیادہ بلندی والے علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی تربیت
’قراقرم 2026‘ کی اہم خصوصیت زیادہ بلندی والے علاقوں میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں پر خصوصی توجہ دینا ہے۔ پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے دوران موسم، جغرافیائی حالات، محدود نقل و حرکت اور اہداف کی بروقت نشاندہی جیسے عوامل اہم چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔ ان حالات میں مؤثر کارروائی کے لیے خصوصی تربیت، جدید آلات اور مختلف عسکری یونٹس کے درمیان مضبوط رابطہ ضروری ہوتا ہے۔
مشقوں کے دوران چینی اور پاکستانی فوجی اہلکار ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تربیتی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ اس کا مقصد ایسے عملی طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے جن کے ذریعے دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے، اہداف کی نشاندہی کرنے اور مختلف دستوں کے درمیان رابطے کو مؤثر بنایا جا سکے۔
دونوں ممالک کے فوجی اہلکاروں کو ایسے تربیتی ماحول میں کام کرنے کا موقع ملے گا جہاں مشترکہ منصوبہ بندی، کمانڈ کے تحت کارروائیوں اور فوری ردعمل کی صلاحیت کو جانچا جا سکے گا۔
جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور اہداف کی نشاندہی پر توجہ
مشقوں کے پروگرام میں بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں، یعنی یو اے وی (UAV)، کے استعمال سے متعلق تربیت بھی شامل ہوگی۔ جدید عسکری کارروائیوں میں ڈرون ٹیکنالوجی نگرانی، معلومات جمع کرنے اور اہداف کی نشاندہی کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہے۔
’قراقرم 2026‘ کے دوران ڈرون آپریشنز کی تربیت کے ذریعے فوجی اہلکاروں کو فضائی نگرانی اور زمینی کارروائیوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔ اس کے ساتھ حرکت کے دوران اہداف کی تلاش اور فائرنگ کی مہارتوں پر بھی توجہ دی جائے گی۔
مشقوں کا ایک اور اہم حصہ طویل فاصلے تک نشانہ بازی کی تربیت ہوگا، جس میں اسنائپنگ کی مہارتیں شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد فوجی اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت، درستگی اور مشکل حالات میں کارروائی کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
تاہم، مشقوں کے اعلان میں شریک فوجیوں کی تعداد، مخصوص عسکری یونٹس، استعمال ہونے والے آلات کی مکمل تفصیلات اور روزانہ کے تربیتی شیڈول کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مشترکہ کمانڈ اور عملی ہم آہنگی کی اہمیت
’قراقرم 2026‘ میں مشترکہ کمانڈ اور براہِ راست فوجی دستوں کی مشقیں بھی شامل ہوں گی۔ مشترکہ کمانڈ کا بنیادی مقصد مختلف یونٹس کے درمیان معلومات کے تبادلے، منصوبہ بندی، فیصلوں اور عملی کارروائیوں کو مربوط بنانا ہے۔
چین اور پاکستان کی افواج کے درمیان مشترکہ تربیت سے دونوں فریقوں کو



