
پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام، 12 خوارج اور افغان طالبان ہلاک، نائب صوبیدار ہدایت امان شہید
سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی، افغان طالبان کی چوکیوں سے فائرنگ کے ذریعے دراندازی کی کوشش میں معاونت کا دعویٰ؛ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ
سید عاطف ندیم-ادارت
پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے انتہائی چوکسی اور مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران 12 خوارج اور افغان طالبان ہلاک ہو گئے، جبکہ شدید فائرنگ کے تبادلے میں نائب صوبیدار ہدایت امان بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقے میں دراندازی کی کوشش کو بروقت شناخت کرتے ہوئے مؤثر کارروائی کی۔ اس دوران افغان طالبان کی چوکیوں سے بھی فائرنگ کی گئی، جس کے بارے میں پاکستانی مؤقف ہے کہ اس کا مقصد دراندازی کرنے والے خوارج کی معاونت کرنا تھا۔
سیکیورٹی فورسز کے مستعد دستوں نے پیشہ ورانہ مہارت اور درست نشانہ بازی کے ذریعے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا۔ کارروائی کے نتیجے میں 12 خوارج اور افغان طالبان کے اہلکار ہلاک ہوئے۔ تاہم، واقعے کے مقام اور کارروائی کے وقت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
نائب صوبیدار ہدایت امان وطن کے دفاع میں شہید
شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران نائب صوبیدار ہدایت امان نے بہادری اور عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید کی عمر 40 سال تھی اور ان کا تعلق ضلع غذر سے تھا۔

وطن کے دفاع کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے نائب صوبیدار ہدایت امان کی شہادت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سرحدوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔
افغان طالبان پر دراندازی میں معاونت کا الزام
پاکستانی مؤقف کے مطابق، پاک افغان سرحد پر پیش آنے والا یہ واقعہ اس تشویش کو مزید تقویت دیتا ہے کہ افغان طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہی ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان نہ صرف دہشت گرد گروہوں کو روکنے میں ناکام ہیں بلکہ بعض مواقع پر ان کی سرحد پار کارروائیوں میں معاونت بھی کرتے ہیں۔
پاکستان مسلسل اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کا خاتمہ علاقائی امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق، افغان طالبان حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہییں جو سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں موجود دیگر مشتبہ دہشت گرد عناصر کی تلاش اور خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ اس کارروائی کا مقصد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنا اور سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کی سرحدوں کے دفاع اور عوام کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سرحدی علاقوں میں مشتبہ نقل و حرکت کی نگرانی، دراندازی کی کوششوں کی روک تھام اور دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
عزمِ استحکام کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
پاکستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں قومی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے تحت جاری ہیں۔ اسی تناظر میں ’’عزمِ استحکام‘‘ کے وژن پر عمل درآمد کو اہم قرار دیا گیا ہے، جس کی منظوری نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی نے دی تھی۔
اس حکمتِ عملی کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کو مؤثر بنانا، سیکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانا اور ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
سیکیورٹی فورسز کے مطابق، غیر ملکی سرپرستی یا حمایت یافتہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کارروائیاں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی، تاکہ ملک کے امن، شہریوں کی جان و مال اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ سرحدوں کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا عزم غیر متزلزل ہے۔ وطن کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر اہلکاروں کی قربانیاں قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں اور ملک میں امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں کی بنیاد ہیں۔



