پاکستاناہم خبریں

کابل میں چین، افغانستان اور پاکستان کی سہ فریقی اعلیٰ سطحی کانفرنس کل منعقد ہوگی — علاقائی استحکام، اقتصادی تعاون اور سیاسی روابط پر اہم پیش رفت متوقع

اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات، اقتصادی تعاون، سلامتی، علاقائی رابطے، اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

 اسلام آباد: افغانستان کے دارالحکومت کابل کل بروز بدھ ایک غیر معمولی اور تاریخی سفارتی سرگرمی کا گواہ بننے جا رہا ہے، جہاں چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی اعلیٰ سطحی کانفرنس منعقد ہو گی۔ اس اجلاس کو خطے میں سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو موجودہ عالمی و علاقائی تناظر میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔

اجلاس کی میزبانی افغانستان کر رہا ہے، جو نہ صرف اس کی سفارتی سطح پر واپسی کی علامت ہے بلکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعمیری روابط کی خواہش کا مظہر بھی ہے۔


اہم شرکاء اور نمائندگیاں

اس سہ فریقی اجلاس میں تینوں ممالک کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی:

  • چین کی نمائندگی چینی کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ یی کریں گے۔

  • پاکستان کی طرف سے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار وفد کی قیادت کریں گے۔

  • افغانستان کی قیادت امارت اسلامیہ افغانستان کے اعلیٰ حکام کریں گے، جبکہ میزبانی افغان وزارت خارجہ کے زیر اہتمام ہوگی۔

افغان وزارت خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل کے مطابق، اجلاس میں تینوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات، اقتصادی تعاون، سلامتی، علاقائی رابطے، اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔


ایجنڈا کی جھلکیاں

اس سہ فریقی کانفرنس کا ایجنڈا خاصا جامع اور وسیع ہے، جس میں شامل اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • سیاسی تعلقات کا استحکام:
    تینوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینے، سفارتی تعلقات میں بہتری، اور پائیدار روابط کے لیے نئے فریم ورک پر گفتگو ہوگی۔

  • اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری:
    چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے تحت افغانستان میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، تجارتی راہداریوں کی توسیع اور توانائی کے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔

  • علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی:
    خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز جیسے دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور بارڈر مینجمنٹ پر مشترکہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

  • تجارتی تعلقات اور سرحدی تعاون:
    پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی رکاوٹوں، کسٹمز اصلاحات، اور بارڈر فسیلیٹیشن پر بات چیت متوقع ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو وسعت دی جا سکے۔


چین کا فعال کردار — اقتصادی بحالی کی نئی امید

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نہ صرف اجلاس میں شرکت کریں گے بلکہ امارت اسلامیہ افغانستان کے اعلیٰ حکام سے علیحدہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں:

  • دوطرفہ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا

  • توانائی اور مواصلاتی منصوبوں پر تعاون بڑھانے پر بات ہوگی

  • چینی سرمایہ کاری کے تحفظ اور افغان مارکیٹ میں چینی شمولیت کو وسعت دینے پر غور کیا جائے گا

تجزیہ کاروں کے مطابق چین افغانستان کو سی پیک (CPEC) یا BRI کے کسی توسیعی مرحلے میں شامل کرنے پر بھی غور کر رہا ہے، تاکہ خطے میں مزید اقتصادی ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔


پاکستان کی شرکت — باہمی تعاون کا نیا باب

پاکستانی وفد کی قیادت اسحاق ڈار کریں گے، جن کی شرکت کو سفارتی حلقے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ وہ:

  • افغانستان کے ساتھ تجارتی تنازعات کے حل پر زور دیں گے

  • سرحدی تعاون میں بہتری کی تجاویز پیش کریں گے

  • اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کے شعبوں میں پاکستان کا مؤقف واضح کریں گے

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ زمینی تجارت، انسانی امداد، اور انٹیلیجنس شیئرنگ کو بہتر بنانے کے لیے ایک "پراگمیٹک فریم ورک” تجویز کر سکتا ہے۔


افغان میزبانی — سفارتی تنہائی سے واپسی کی کوشش

یہ اجلاس کابل حکومت کے لیے سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی کی علامت ہے۔ طالبان حکومت، جو تاحال عالمی سطح پر باضابطہ طور پر تسلیم نہیں ہوئی، اس اجلاس کے ذریعے اپنی بین الاقوامی قبولیت اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔

افغان حکام کا ماننا ہے کہ ایسے اجلاس افغانستان کو نہ صرف معاشی فوائد فراہم کریں گے بلکہ ملک کو خطے کی ترقی اور رابطے کا مرکزی کردار بھی عطا کریں گے۔


متوقع اعلامیہ اور مستقبل کی راہیں

اجلاس کے اختتام پر تینوں ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کی توقع ہے، جس میں:

  • سہ فریقی تعاون کے فریم ورک کو رسمی شکل دینے

  • مستقبل میں اجلاسوں کے تسلسل

  • مشترکہ منصوبوں کی نشاندہی

  • اور اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق کیا جائے گا

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب خطہ اقتصادی ترقی کے نئے ماڈلز کی تلاش میں ہے، مگر سیکیورٹی اور سیاسی بے یقینی بھی موجود ہے۔ ایسے میں یہ سہ فریقی اجلاس خطے میں استحکام، ترقی اور شراکت داری کی جانب ایک عملی قدم ہو سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button