
آئی ایم ایف کا پاکستان میں حالیہ سیلابوں پر اظہار افسوس، امدادی پیکج کا عندیہ
"جیسے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پا جائیں گے، متاثرہ عوام کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکج کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔"
رپورٹ: معیشت، موسمیات اور بین الاقوامی مالیاتی تعاون:
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلابوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے وسیع جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ موجودہ مالیاتی پالیسیوں اور بجٹ میں مختص فنڈز کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ پالیسیاں اور وسائل موسمیاتی بحرانوں اور قدرتی آفات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔
یہ بیان پاکستان میں آئی ایم ایف کے تعینات نمائندے ماہر بینیجی کی جانب سے جاری کیا گیا، جو کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری اقتصادی مذاکرات اور تعاون کے پس منظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
سیلابی تباہی پر آئی ایم ایف کا ردعمل
ماہر بینیجی نے اپنے بیان میں کہا:
"مشن اس بات کا تفصیلی جائزہ لے گا کہ موجودہ بجٹ میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مختص فنڈز اور دیگر مالیاتی اقدامات پاکستان جیسے ملک کے لیے، جو موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہوتا ہے، کتنے مؤثر اور کافی ہیں۔”
آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے کئی علاقے، خاص طور پر پنجاب اور سندھ، شدید سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ ان تباہ کن بارشوں اور پانی کے ریلوں نے نہ صرف ہزاروں افراد کو بے گھر کیا بلکہ زرعی اراضی، فصلوں، مویشیوں اور بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
وزیر اعظم کی یقین دہانی: "معاملات طے پانے کے بعد امدادی پیکج کا اعلان ہوگا”
پاکستان کے وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مکمل تعاون اور رابطے میں ہے تاکہ سیلاب متاثرین کے لیے ایک جامع امدادی پیکج تیار کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا:
"جیسے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پا جائیں گے، متاثرہ عوام کے لیے ایک بڑے ریلیف پیکج کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا۔”
مزید برآں، وزیر اعظم نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کے صارفین سے اگست کے مہینے کے بجلی کے بلز کی وصولی روک دی جائے تاکہ ان پر فوری مالی دباؤ کم کیا جا سکے۔
سیلاب سے تباہی کی شدت: جانی نقصان اور معیشت پر اثرات
پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق، جون 2025 کے اختتام سے لے کر اب تک جاری شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث 972 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔
پنجاب میں فصلیں، مکانات اور سڑکیں بری طرح متاثر ہوئیں۔
سندھ میں پانی کی آمد سے اشیائے خوردونوش کی قلت اور قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سابقہ اعداد و شمار کے مطابق 2022 کے سیلابوں میں 1,739 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے۔
معاشی اثرات: شرح نمو اور زرعی معیشت پر دباؤ
پاکستان کے پالیسی ساز ادارے حالیہ تباہی سے معیشت کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق:
شرح نمو (GDP Growth) میں کم از کم 0.2 فیصد کی کمی متوقع ہے۔
زرعی شعبہ، جو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
مرکزی بینک، ان غیر یقینی حالات کے پیش نظر پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان رکھتا ہے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور مالی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
آئی ایم ایف کا پہلے سے منظور شدہ پیکج
واضح رہے کہ رواں سال مئی 2025 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 1.4 بلین ڈالر کے امدادی پیکج کی منظوری دی تھی۔ اس پیکج کا مقصد ملک کو موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، اور مالیاتی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے تیاری فراہم کرنا تھا۔ تاہم:
فنڈز کی ادائیگی مرحلہ وار اور منصوبوں کی کامیاب تکمیل سے مشروط ہے۔
ہر مرحلے پر جامع مالیاتی جائزہ، شفافیت اور احتساب کو یقینی بنایا جانا لازم ہے۔
مقامی و بین الاقوامی توقعات: پالیسیوں میں تبدیلی ناگزیر
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کو صرف آئی ایم ایف کے مالی تعاون پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر:
ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کو بجٹ میں باقاعدہ طور پر شامل کرنا ہوگا۔
موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے علیحدہ کلائمٹ فنڈ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
صوبائی و ضلعی سطح پر ایمرجنسی ریلیف میکانزم کو مضبوط بنانا ہوگا۔
نتیجہ: فوری اقدامات وقت کی اہم ضرورت
آئی ایم ایف کی طرف سے جاری بیان اور وزیر اعظم کی جانب سے متوقع امدادی پیکج کا عندیہ اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ عالمی ادارے اور پاکستان کی حکومت موجودہ بحران کی سنگینی کو سمجھتے ہیں۔ تاہم، عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے تاکہ متاثرین کو ریلیف ملے، معیشت کو استحکام حاصل ہو، اور مستقبل میں ایسے بحرانوں سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
پاکستان کے لیے اب وقت آ چکا ہے کہ وہ موسمیاتی خطرات کو قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھے اور اس کے مطابق اپنی پالیسیاں، بجٹ اور حکمت عملیوں کو ازسرنو ترتیب دے۔


