اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

خدیجہ شاہ کوئٹہ پولیس کے حوالے، لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی سے جواب طلب کر لیا

پیر کو جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اگر خدیجہ شاہ کو پیش نہ کیا گیا تو آئی جی پنجاب خود آ کر وضاحت دیں۔

Al-Syed Tech Company Bio Medical Equipment Service

لاہور ہائی کورٹ نے مشہور فیشن ڈیزائنر اور پاکستان تحریک انصاف کی کارکن خدیجہ شاہ کو کوئٹہ پولیس کے حوالے کرنے پر پنجاب پولیس کے سربراہ سے تحریری جواب طلب کیا ہے۔
قبل ازیں ہائیکورٹ نے پنجاب پولیس کو حکم دیا تھا کہ خدیجہ شاہ کو دوپہر ڈھائی بجے تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔
پیر کو جسٹس علی باقر نجفی نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اگر خدیجہ شاہ کو پیش نہ کیا گیا تو آئی جی پنجاب خود آ کر وضاحت دیں۔
عدالت نے سرکاری وکلا کو عدالتی احکامات سے متعلق متعلقہ حکام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔
پنجاب حکومت نے خدیجہ شاہ کی نظر بندی کا حکم واپس لے کر عدالت کو آگاہ کیا تھا۔ لیکن اس کے کچھ ہی دیر بعد کوئٹہ پولیس نے خدیجہ شاہ کو گرفتار کر کے مقامی عدالت میں ان کے تین روزہ راہداری ریمانڈ کے لیے درخواست دائر کی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے خدیجہ شاہ کا دو دن کا راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں دو روز میں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
کوئٹہ پولیس نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ ملزمہ کا کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت سے وارنٹ لیا ہے۔ ان سے تفتیش کرنی ہے، عدالت تین روز کا راہداری ریمانڈ منظور کرے۔
خیال رہے کہ خدیجہ شاہ کو لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کے جلاؤ گھیراؤ اور عسکری ٹاور کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں نو مئی کے واقعات کے دو ہفتے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
انہوں نے اپنے کیے پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے معافی بھی مانگی تھی۔ وہ سابق آرمی چیف آصف نواز جنجوعہ کی نواسی اور سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ کی بیٹی ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button