یورپاہم خبریں

جرمنی: سزا یافتہ افغان شہریوں کی ملک بدری کے لیے طالبان سے مذاکرات جاری، سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید ردعمل

انہوں نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی ملک بدری قانونی اور باقاعدہ طریقے سے کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے وزارت داخلہ اور افغان نمائندوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔"

برلن (خصوصی رپورٹ) – جرمنی کی وفاقی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت میں مصروف ہے تاکہ جرائم میں ملوث افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیجا جا سکے۔ یہ انکشاف جرمن وزیر داخلہ الیگزانڈر ڈوبرنٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ ملک بدری کے اس عمل کو باقاعدہ اور مسلسل بنانے کے لیے طالبان کے نمائندوں سے ’’تکنیکی مذاکرات‘‘ کیے جا رہے ہیں۔

قطر میں ملاقاتیں، مزید بات چیت متوقع

ڈوبرنٹ نے بتایا کہ جرمنی کے سرکاری وفود نے قطر میں افغان حکام سے ابتدائی ملاقاتیں کی ہیں، جنہیں "تکنیکی روابط” کا نام دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے چند ہفتوں میں ان روابط کو مزید آگے بڑھایا جائے گا تاکہ ایک منظم ملک بدری کا عمل شروع کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی ملک بدری قانونی اور باقاعدہ طریقے سے کی جائے۔ اسی مقصد کے لیے وزارت داخلہ اور افغان نمائندوں کے درمیان بات چیت جاری ہے۔”

وزیر خارجہ کی بھی تصدیق

جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے بھی ان مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بدری پر بات چیت دوحہ میں ہو رہی ہے، اور اس کے لیے کابل میں ملاقات ضروری نہیں سمجھی جا رہی۔ ان کے بقول، "یہ عمل ایک تکنیکی تعاون ہے، اور اس کا مقصد جرمنی میں جرائم کے مرتکب افراد کی محفوظ واپسی کو یقینی بنانا ہے۔”

جولائی میں 81 افغان شہری ملک بدر

رواں سال جولائی میں جرمنی نے 81 افغان شہریوں کو ملک بدر کیا، جن پر سنگین جرائم کے الزامات ثابت ہو چکے تھے۔ یہ ملک بدری ایک متنازع اقدام تھا، کیونکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو جرمنی اب تک سرکاری طور پر تسلیم نہیں کرتا۔ طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالا تھا، جب نیٹو افواج نے ملک سے انخلا کیا تھا۔

سیاسی مخالفت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش

جرمنی کے اندر اس پالیسی پر شدید سیاسی اور عوامی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، خاص طور پر گرین پارٹی کی جانب سے۔ گرین پارٹی کے داخلی امور کے ترجمان مارسل ایمریش نے اس اقدام کو "ایک اسکینڈل” قرار دیا۔ انہوں نے اخبار ٹاگس اشپیگل سے گفتگو میں کہا:

"عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ طالبان جیسے دہشت گرد گروہ سے اس تعاون کے بدلے میں کیا کچھ دیا جا رہا ہے۔ ڈوبرنٹ خود کو ایک انتہا پسند تنظیم کے رحم و کرم پر رکھ رہے ہیں، جو کہ قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔”

دائیں بازو کی سیاسی قوتوں کی دباؤ

جرمنی میں دائیں بازو کی جماعتوں سی ڈی یو (CDU) اور سی ایس یو (CSU) نے حالیہ مہاجر مخالف جذبات کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ فروری 2025 کے انتخابات میں ان جماعتوں نے ملک بدری، خاص طور پر افغان اور شامی پناہ گزینوں کی واپسی کو مرکزی انتخابی موضوع بنایا تھا۔

جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے اعلان کیا تھا کہ "افغانستان اور شام سے تعلق رکھنے والے وہ تمام مہاجرین، جو جرائم میں ملوث پائے جائیں، انہیں واپس بھیجا جائے گا، چاہے ان کی پناہ کی درخواستیں زیر التوا ہوں یا انہیں تحفظ حاصل ہو۔”

زولنگن حملہ: پالیسی میں تبدیلی کا محرک

اگست 2024 میں جرمن شہر زولنگن میں ہونے والے ایک مہلک چاقو حملے کے بعد ملک بدری کے عمل میں تیزی آئی۔ اس حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے، اور حملہ آور ایک شامی پناہ گزین تھا۔ اس واقعے کے بعد حکومت نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان اور شام جیسے ممالک، جنہیں پہلے "غیر محفوظ” سمجھا جاتا تھا، اب مخصوص حالات میں ملک بدری کے قابل سمجھے جائیں گے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا اعتراض

انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان اب بھی جنگ زدہ اور غیر محفوظ ملک ہے، جہاں اقلیتوں، خواتین اور حکومت مخالف افراد کو خطرات لاحق ہیں۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ جرمنی کی جانب سے افغان شہریوں کو واپس بھیجنا بین الاقوامی پناہ گزین کنونشنز کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے۔

طالبان نمائندوں کو محدود سفارتی رسائی

دلچسپ بات یہ ہے کہ جرمنی نے طالبان کو رسمی طور پر تسلیم نہ کرنے کے باوجود دو افغان اہلکاروں کو برلن میں افغان سفارتی مشن میں کام کرنے کی اجازت دی ہے۔ جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صرف "عملی تعاون” کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ ملک بدری کے عمل کو ممکن بنایا جا سکے، اور اسے کسی بھی طرح طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے مترادف نہ سمجھا جائے۔

چانسلر فریڈرش میرس نے واضح کیا کہ:

"ہم نے ان اہلکاروں کو صرف قونصلر معاونت کے لیے اجازت دی ہے۔ طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔”


نتیجہ

جرمنی کی موجودہ پالیسی، جس کے تحت طالبان کے ساتھ تکنیکی بات چیت کے ذریعے افغان شہریوں کی ملک بدری ممکن بنائی جا رہی ہے، ایک نہایت حساس اور متنازع معاملہ بن چکی ہے۔ ایک طرف حکومت داخلی سلامتی اور جرائم کی روک تھام کے لیے اسے ضروری قرار دے رہی ہے، تو دوسری طرف انسانی حقوق کے حلقے اور بعض سیاسی جماعتیں اس کو اخلاقی، قانونی اور سفارتی سطح پر ایک خطرناک راستہ قرار دے رہے ہیں۔

آنے والے دنوں میں یہ معاملہ نہ صرف جرمن سیاست میں بحث کا مرکز بنا رہے گا بلکہ یورپ کی دیگر اقوام کے لیے بھی ایک نظیر بن سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button