
افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی غیر قانونی اسلحے تک رسائی علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں انتباہ
یہ انتباہ پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں دیا، جو ’’غیر قانونی چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا۔
ناصر خان خٹک-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
اقوامِ متحدہ، 10 نومبر 2025ء (نمائندہ خصوصی) — پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے پاس جدید، تباہ کن اور غیر قانونی اسلحے کی موجودگی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
یہ انتباہ پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں دیا، جو ’’غیر قانونی چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں‘‘ کے موضوع پر منعقد ہوا۔
دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیاں اور بیرونی مدد
اپنے قومی بیان میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ داعش خراسان، تحریکِ طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ جیسی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے کھلے عام کارروائیاں کر رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان گروہوں کو ’’خطے کے ایک بڑے تخریبی کردار‘‘ کی مالی و عملی مدد حاصل ہے، جو انہیں جدید ہتھیاروں، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔
سفیر عاصم افتخار کے مطابق، ان گروہوں نے افغانستان میں ترک کردہ جدید اسلحہ حاصل کر لیا ہے اور اسے پاکستان کے شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سرحدی چوکیوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں۔
افغانستان میں اسلحے کے ذخائر پر گہری تشویش
پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں بڑے پیمانے پر جدید اسلحے، گولہ بارود اور جنگی آلات کی موجودگی پر شدید تشویش ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسلحہ دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگ چکا ہے، جو اب اس کو بین الاقوامی دہشت گردی، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے ساتھ ملا کر استعمال کر رہے ہیں۔
افغان حکام کو ذمہ داری کا پابند بنانے کا مطالبہ
پاکستانی سفیر نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کو غیر قانونی اسلحے تک رسائی سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کے مطابق عمل درآمد کا پابند بنایا جانا چاہیے تاکہ دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں اور وسائل نہ مل سکیں۔
ان کا کہنا تھا:
"بین الاقوامی برادری کو اپنے ردعمل میں موجود خلا کو پُر کرنا ہوگا اور مشترکہ کوششوں کو بڑھانا ہوگا تاکہ ان خطرات کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے جو عالمی و علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔”
جدید ٹیکنالوجی اور نئے خطرات
سفیر عاصم افتخار احمد نے غیر قانونی اسلحے کے پھیلاؤ کے تناظر میں جدید جنگی ٹیکنالوجی کے ابھرتے ہوئے خطرات پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ڈرونز، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار ہتھیار، تھری ڈی پرنٹ شدہ بندوقیں، اور جدید نائٹ ویژن آلات اب چھوٹے مگر نہایت مہلک ہتھیاروں کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو دہشت گرد گروہوں کے لیے آسانی سے قابلِ حصول ہیں۔
ان کے مطابق، موجودہ روایتی اسلحہ کنٹرول کے نظام کو ان نئی ٹیکنالوجیوں کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پاکستان کی پالیسی اور بین الاقوامی عزم
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے تحت ’’پروگرام آف ایکشن برائے غیر قانونی تجارتِ چھوٹے اور ہلکے ہتھیار‘‘ پر اپنی پختہ وابستگی کا اعادہ کیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ان ہتھیاروں کی غیر قانونی منتقلی اور ذخیرے کے اثرات نہ صرف سیکیورٹی بلکہ سماجی و معاشی ترقی کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
انہوں نے کہا:
"اگرچہ انہیں ’چھوٹے‘ یا ’ہلکے‘ ہتھیار کہا جاتا ہے، لیکن ان کا اثر انتہائی تباہ کن ہے۔ یہ تشدد کو بڑھاتے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا باعث بنتے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔”
اعداد و شمار اور عالمی خدشات
سفیر عاصم افتخار نے بتایا کہ چھوٹے اور ہلکے ہتھیار دنیا بھر میں دہشت گرد حملوں میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ہتھیار ہیں، جب کہ پہلے نمبر پر دھماکہ خیز مواد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ہتھیاروں نے خاص طور پر افریقہ میں خانہ جنگیوں، دہشت گردی اور منظم جرائم کو ہوا دی ہے، جس سے قانون کی حکمرانی کمزور اور معاشی استحکام متاثر ہوا ہے۔
علاقائی اور عالمی تعاون کی ضرورت
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ بین الاقوامی تعاون میں اضافہ اور اس عالمی فریم ورک کا مکمل نفاذ ضروری ہے تاکہ غیر قانونی اسلحے کی تجارت پر مؤثر کنٹرول قائم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ معلومات کے تبادلے، سرحدی نگرانی، اور اسمگلنگ کے راستوں کی نشاندہی کے لیے مشترکہ اقدامات کریں تاکہ دہشت گرد گروہوں کی رسائی ختم کی جا سکے۔
نتیجہ
سلامتی کونسل میں پاکستان کے اس مؤقف نے عالمی برادری کی توجہ ایک ایسے سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرائی ہے جو صرف جنوبی ایشیا نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے۔
افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں میں جدید غیر قانونی اسلحہ نہ صرف پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنج ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔



