
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز،سیکورٹی فورسز کے ساتھ
وانا، جنوبی وزیرستان: جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں واقع کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد تنظیم فتنہ الخوارج کے حملے کو پاکستان آرمی اور سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور بہادری سے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن انتہائی احتیاط اور حکمت عملی کے ساتھ جاری ہے، اور اب تک پانچ دہشت گرد مارے جا چکے ہیں جبکہ تمام کیڈٹس محفوظ ہیں۔
واقعہ کی تفصیل
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، 10 نومبر کی صبح دہشت گردوں نے ایک دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو کیڈٹ کالج وانا کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں گیٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
اس وقت کالج میں تقریباً 650 افراد موجود تھے، جن میں 525 کیڈٹس بھی شامل تھے۔
حملے کے فوری بعد پاکستان آرمی اور فرنٹیئر کور (خیبر پختونخوا ساؤتھ) کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی، دو خودکش حملہ آوروں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا جبکہ باقی دہشت گردوں کو کالج کے ایک مخصوص بلاک تک محدود کر دیا گیا۔
طلباء کی حفاظت اولین ترجیح
ذرائع کے مطابق، 115 طلباء اور عملے کے ارکان کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جب کہ 350 سے زائد افراد کو بعد ازاں محفوظ طریقے سے نکالا گیا۔
کالج میں اب تقریباً 300 افراد باقی ہیں جنہیں نکالنے کا عمل جاری ہے۔
آپریشن میں حصہ لینے والے ایک افسر کے مطابق:
"ہم انتہائی احتیاط کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی طالب علم یا اسٹاف ممبر کی جان کو خطرہ نہ پہنچے۔ دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے، اور کلیئرنس جاری ہے۔”
ویڈیو شواہد اور افغان روابط
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ایک ویڈیو کلپ جو دہشت گردوں کے موبائل فون سے برآمد ہوا، اس میں کیڈٹ کالج کے احاطے میں دہشت گردوں کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے۔
موبائل فون کے فورنزک تجزیے سے انکشاف ہوا ہے کہ حملہ آور افغانستان میں موجود اپنے ہینڈلرز سے مستقل رابطے میں تھے۔
یہ انکشاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہ — بالخصوص فتنہ الخوارج — پاکستان کے تعلیمی اداروں اور قبائلی علاقوں میں امن و ترقی کے خلاف سرگرم ہیں۔
کیڈٹس کے بیانات: "پاکستان آرمی نے ہمیں بچایا”
واقعے کے بعد بازیاب ہونے والے کیڈٹس نے ذرائع سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ:
"پاکستان آرمی نے ہمیں محفوظ کیا، الحمد للہ تمام طلبا خیریت سے ہیں۔”
ایک طالب علم نے کہا:
"میں 12ویں جماعت کا طالب علم ہوں، وانا سے تعلق رکھتا ہوں۔ پاکستان آرمی نے یہ کالج ہمیں تعلیم، امن اور ترقی دینے کے لیے بنایا ہے۔ یہ دہشت گرد نہیں چاہتے کہ ہم تعلیم حاصل کریں، مگر ہم اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”
مقامی قبائل اور شہریوں کی مذمت
وانا کے مقامی عمائدین اور قبائلی رہنماؤں نے کیڈٹ کالج پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ:
"یہ دہشت گرد دراصل پشتون اور قبائلی عوام کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان آرمی نے بروقت کارروائی کر کے سیکڑوں بچوں کی جانیں بچائیں، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔”
آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا ساؤتھ کی نگرانی
ذرائع کے مطابق، آئی جی فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا ساؤتھ ذاتی طور پر آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں کو رہائشی بلاک سے الگ عمارت میں محدود کر دیا گیا ہے، اور ان کے پاس مزید نقل و حرکت کا کوئی راستہ نہیں بچا۔
فتنہ الخوارج کا مکروہ ایجنڈا ناکام
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، کیڈٹ کالج وانا پر یہ حملہ دراصل آرمی پبلک اسکول (APS) پشاور جیسے سانحے کو دہرانے کی کوشش تھی، لیکن فورسز کی بروقت کارروائی نے اسے ناکام بنا دیا۔
یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد نہ اسلام کے نمائندہ ہیں نہ پاکستان کے خیرخواہ — بلکہ وہ تعلیم، امن اور ترقی کے دشمن ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کی بہادری
وزیرستان میں انتظامی ہیڈ کوارٹر میں موجود ایک صحافی نے اطلاع دی کہ:
پاکستان فوج نے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد تنظیم فتنہ الخوارج کے بزدلانہ حملے کو بروقت اور مؤثر کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ڈیوٹی پر موجود فوجیوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا۔
فائرنگ کے تبادلے میں دو خودکش حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ پانچ خوارج دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن احتیاط کے ساتھ جاری ہے، اور تمام کیڈٹس محفوظ ہیں۔
مقامی عمائدین نے حملے کو بزدلانہ اور المناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول جیسے سانحے کو دہرانے کی ناکام کوشش کی، مگر پاکستان آرمی نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے۔
حکومتی اور عوامی ردعمل
وفاقی وزارتِ داخلہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ:
"پاکستان آرمی اور سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔”
نتیجہ
کیڈٹ کالج وانا پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن عناصر اب بھی پاکستان میں امن و تعلیم کے دشمن ہیں۔ تاہم پاکستان آرمی، ایف سی اور سیکیورٹی ادارے مکمل عزم و حوصلے کے ساتھ ان کے مقابلے میں صفِ اول پر موجود ہیں۔
تمام کیڈٹس محفوظ ہیں، اور آپریشن مکمل کامیابی کے قریب ہے۔
یہ سانحہ ایک بار پھر اس عزم کی تجدید کرتا ہے کہ پاکستان کے دشمنوں کو تعلیم اور ترقی کے خلاف کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔






