
خوارجیوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، وزیرداخلہ محسن نقوی
گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے عوام اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف بھرپور لڑائی لڑ رہے ہیں، لیکن اس جنگ کو جیتنے کے لیے وفاقی سطح پر مزید تعاون اور اقدامات کی ضرورت ہے
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کےساتھ
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی، جس میں خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال، خوارجیوں کے خلاف جاری آپریشنز اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
گورنر خیبرپختونخوا کی وزیر داخلہ کو صورتحال سے آگاہی
ملاقات کے دوران گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو صوبے میں سکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال اور دہشتگردوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے خاص طور پر دہشتگردی کے خطرات سے دوچار ہیں اور وہاں امن و امان کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کی بھرپور حمایت کی ضرورت ہے۔ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے عوام اور سکیورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف بھرپور لڑائی لڑ رہے ہیں، لیکن اس جنگ کو جیتنے کے لیے وفاقی سطح پر مزید تعاون اور اقدامات کی ضرورت ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی کا خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے بھرپور تعاون کا عہد
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی سکیورٹی کی صورتحال کو انتہائی سنجیدہ لے رہی ہے اور صوبے میں قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔ محسن نقوی نے اس بات کی تصدیق کی کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں صوبے کے عوام کی قربانیوں اور شجاعت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں اور انتہا پسند گروپوں کے خلاف وفاقی حکومت تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور اس جنگ میں صوبے کے عوام کی مدد سے ہی دہشتگردی کا خاتمہ ممکن ہو گا۔
خوارجیوں کے خلاف آپریشنز اور اقدامات
محسن نقوی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کی باقیات اور خوارجی گروپوں کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے بھرپور آپریشنز جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خوارجیوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے کیا جائے گا اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی رعایت برتی نہیں جائے گی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے اس عالمی فتنہ کو ختم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل اور حکومتی ادارے اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں ہیں۔
مشترکہ اقدامات اور وفاقی تعاون کی اہمیت
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال میں وفاقی حکومت کا تعاون نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک مربوط اور مشترکہ حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے۔ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان قریبی رابطہ اور تعاون، سکیورٹی فورسز کی مستحکم حکمت عملی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اس جنگ میں کامیابی کی کنجی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ خیبرپختونخوا کے صوبے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کو دیکھتے ہوئے زیادہ وسائل اور فورسز فراہم کی جائیں تاکہ دہشتگردوں کی گرفت مضبوط کی جا سکے۔
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ جنگ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ صرف سکیورٹی فورسز یا حکومت کی نہیں بلکہ پورے ملک کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں تمام سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نہ صرف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ضروری ہیں بلکہ عوام میں دہشتگردوں کے خلاف شعور اور تعاون بھی بہت اہم ہے۔
امن و امان کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار
ملاقات میں وزیر داخلہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے سکیورٹی کے حوالے سے کئی اہم اقدامات کیے ہیں اور صوبے کی عوام دہشتگردی کے خلاف بھرپور جدوجہد کر رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے گورنر کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی اور ہر سطح پر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صوبے میں امن و امان کو بحال کیا جا سکے۔
آگے کا لائحہ عمل
وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبرپختونخوا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف جاری آپریشنز کو مزید تیز کیا جائے گا اور سکیورٹی فورسز کو جدید آلات اور وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ دونوں رہنماؤں نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے معلومات کے تبادلے اور انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
دہشتگردی کے خاتمے کے لیے عوامی حمایت
آخر میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ عوام کی حمایت کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ کو کامیاب نہیں بنایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ وہ اپنے علاقے میں دہشتگردی کی کسی بھی صورت کو رد کرے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے۔
اس ملاقات کے بعد وفاقی وزیر اور گورنر خیبرپختونخوا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تمام حکومتی ادارے اور عوام ایک ساتھ کام کریں گے اور کسی بھی قیمت پر دہشتگردوں کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔


