بین الاقوامیاہم خبریں

نااہل مودی کی ناکام سفارت کاری ،امریکی ٹیرف نے بھارتی عوام کو مزید مشکل میں ڈال دیا

vogانہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست رابطہ کرنے سے گریز کیا، جسے سفارتی حلقے ایک بڑی کوتاہی قرار دے رہے ہیں

واشنگٹن: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی مبینہ ناکام سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کی سنگین غلطیوں کے اثرات اب کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی ٹیرف میں اضافے نے بھارتی عوام کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ دکھاوے، دعوؤں اور خود پسندی پر مبنی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر عملی ناکامی سے دوچار ہوئی ہے، جس کے باعث بھارت امریکہ کے ساتھ ایک اہم اور متوقع تجارتی معاہدہ حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔
امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹ نک نے اس ناکامی کی اصل وجہ مودی حکومت کی ہٹ دھرمی اور غیر لچکدار رویے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تجارتی مذاکرات طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہے اور کسی بھی مرحلے پر ٹھوس پیش رفت نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے بعض حساس تجارتی نکات پر غیر حقیقت پسندانہ مؤقف اپنایا گیا، جس نے مذاکراتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ ہاورڈ لٹ نک نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارتی وزیر اعظم اس صورتحال پر شدید دباؤ اور گھبراہٹ کا شکار تھے، تاہم اس کے باوجود انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہِ راست رابطہ کرنے سے گریز کیا، جسے سفارتی حلقے ایک بڑی کوتاہی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی وزیر تجارت کے مطابق واشنگٹن نے بھارت کے بجائے انڈونیشیا، فلپائن اور ویتنام جیسے ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے حتمی شکل دے دی ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ فیصلہ نہ صرف بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے بلکہ اس سے خطے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی بھی واضح ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھارت کی جگہ دیگر ممالک کا امریکہ کے قریب آنا مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
بھاری امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے میں ناکامی کو معاشی ماہرین نے بھارتی معیشت کے لیے نہایت نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق برآمدات پر اضافی ٹیرف سے بھارتی صنعت، بالخصوص ٹیکسٹائل، اسٹیل، آئی ٹی اور فارماسیوٹیکل سیکٹر شدید متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع کم ہونے اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال کا براہِ راست بوجھ عام بھارتی شہریوں پر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بھارتی جریدے دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھارت کو ایک “مردہ معیشت” قرار دے چکے ہیں، جسے سفارتی سطح پر ایک سخت اور غیر معمولی بیان سمجھا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے 500 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری ایک اور بڑی سفارتی اور معاشی شکست کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے، جو بھارت کے لیے سنبھالنا انتہائی مشکل ہو گا۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نااہل قیادت، کمزور سفارت کاری اور غیر سنجیدہ فیصلوں کا خمیازہ براہِ راست بھارتی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر مودی حکومت نے اپنی خارجہ اور تجارتی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو امریکی ٹیرف اور عالمی تجارتی محاذ پر مسلسل ناکامی بھارتی معیشت کو شدید بحران اور ممکنہ تباہی کے دہانے تک لے جا سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا مودی حکومت عالمی سطح پر بھارت کے معاشی مفادات کا مؤثر دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی بھی ہے یا نہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button