Jannah Theme License is not validated, Go to the theme options page to validate the license, You need a single license for each domain name.
پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ایک گیم چینجر اقدام، زمین کی ملکیت کے تحفظ اور فراڈ کے خاتمے کی ضمانت ہے، چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی

گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کا بنیادی مقصد زمین کی ملکیت کا تحفظ، جائیداد کی حدود کی واضح نشاندہی اور خرید و فروخت کے عمل میں ممکنہ فراڈ، جعلسازی اور تنازعات کا مکمل خاتمہ ہے

وائس آف جرمنی اردو نیوز-پاکستان، ریڈیو پاکستان کے نمائندے قاسم بخاری کے ساتھ
لاہور: چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) چودھری طارق سبحانی نے کہا ہے کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ ایک انقلابی اور گیم چینجر اقدام ہے جو وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے عین مطابق ترقی یافتہ اور خوشحال پنجاب کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید نظام کے ذریعے زمین اور جائیداد کی ملکیت کو محفوظ بنایا جا رہا ہے اور عوام کو شفاف، قابلِ اعتماد اور محفوظ پراپرٹی نظام فراہم کیا جا رہا ہے۔
ریڈیو پاکستان کے نمائندے قاسم بخاری کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے چودھری طارق سبحانی نے بتایا کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے نفاذ کا بنیادی مقصد زمین کی ملکیت کا تحفظ، جائیداد کی حدود کی واضح نشاندہی اور خرید و فروخت کے عمل میں ممکنہ فراڈ، جعلسازی اور تنازعات کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ سرٹیفکیٹ پنجاب حکومت کی جانب سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہوگا، جس سے عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو گا۔
چیئرمین پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی نے کہا کہ عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کا دائرہ کار مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ نظام بیس اضلاع میں نافذ کیا گیا تھا، جس کے بعد اب لاہور سمیت مزید آٹھ اضلاع گوجرانوالہ، شیخوپورہ، قصور، نارووال، منڈی بہاؤ الدین، گجرات اور وزیر آباد میں بھی گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ نافذ العمل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو مرحلہ وار پورے صوبے میں توسیع دی جا رہی ہے تاکہ پنجاب بھر کے شہری اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔
چودھری طارق سبحانی نے کہا کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے ذریعے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ہر قسم کی جائیداد کو ایک محفوظ اور قابلِ تصدیق نظام کے تحت لایا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف عوام کی زمین اور جائیداد محفوظ ہوگی بلکہ سرمایہ کاری کے فروغ اور پراپرٹی سیکٹر میں شفافیت کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ واضح اور مستند ریکارڈ کی موجودگی سے پراپرٹی تنازعات میں نمایاں کمی آئے گی اور عدالتی نظام پر بھی بوجھ کم ہوگا۔
انہوں نے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ کے حصول کے طریقہ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ شہری اپنی جائیداد کے لیے درخواست قریبی اراضی ریکارڈز سینٹر، متعلقہ اتھارٹیز یا متعلقہ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں جمع کروا سکتے ہیں۔ درخواست جمع ہونے کے بعد اس کی وصولی، کوائف کی جانچ، زمین کا سروے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ (ADLR) کی تصدیق اور دیگر ضروری مراحل مکمل کیے جاتے ہیں۔ ان تمام مراحل کی تکمیل کے بعد پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کی جانب سے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے۔
چیئرمین پی ایل آر اے نے کہا کہ یہ جدید نظام جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ریکارڈ پر مبنی ہے، جس سے انسانی غلطیوں اور کرپشن کے امکانات کو کم سے کم کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق عوام کو بروقت، شفاف اور معیاری خدمات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
چودھری طارق سبحانی نے کہا کہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ نہ صرف عوام کے لیے ایک بڑی سہولت ہے بلکہ یہ پنجاب میں پراپرٹی سیکٹر کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور مجموعی طور پر صوبے کی معاشی بہتری میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنی جائیداد کو محفوظ بنانے کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button