
پاکستانی خاموش جنگجو: اسپیشل سروس گروپ (SSG)
خاموشی میں چند سائے بغیر آواز کے آگے بڑھ رہے تھے۔ نہ قدموں کی آہٹ، نہ گفتگوصرف مشن
ایک فیچر اسٹوری تحریر سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
وہ رات خاموش تھی، پہاڑوں پر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، اور اندھیرا ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے تھا۔ اسی خاموشی میں چند سائے بغیر آواز کے آگے بڑھ رہے تھے۔ نہ قدموں کی آہٹ، نہ گفتگوصرف مشن۔ یہ سائے عام فوجی نہیں تھے، یہ پاکستان آرمی کے اسپیشل سروس گروپ (SSG) کے کمانڈوز تھے، جن کا کام نظر آنا نہیں بلکہ نتیجہ دینا ہے۔
قیام اور ارتقاء
SSG کا قیام 1956 میں عمل میں آیا۔ اس وقت پاکستان کو ایک ایسی فورس کی ضرورت تھی جو جدید جنگی تقاضوں، غیر روایتی جنگ، اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ابتدائی برسوں میں SSG نے محدود وسائل کے باوجود اپنی بنیاد مضبوط کی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تربیت، تنظیم اور آپریشنل دائرہ کار میں نمایاں وسعت آئی۔
انتخاب کا عمل
SSG میں شمولیت ایک کڑے اور مرحلہ وار انتخابی عمل سے مشروط ہے۔ یہ عمل جسمانی فٹنس، ذہنی مضبوطی، برداشت، اور نظم و ضبط کو جانچنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، ہر بیچ میں شامل ہونے والے امیدواروں کی بڑی تعداد ابتدائی مراحل میں ہی باہر ہو جاتی ہے، جبکہ صرف محدود تعداد ہی حتمی تربیت مکمل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔
تربیتی نظام
SSG کی تربیت کو دنیا کی سخت ترین عسکری تربیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس میں درج ذیل پہلو شامل ہوتے ہیں:
پہاڑی، صحرائی اور جنگلاتی علاقوں میں جنگی مشقیں
پیراشوٹ ٹریننگ اور فری فال جمپس
آبی اور ساحلی آپریشنز
انسداد دہشت گردی اور یرغمالیوں کی بازیابی
طویل فاصلے کی نیویگیشن اور بقا (Survival) ٹریننگ
اس تربیت کا مقصد ایک ایسے سپاہی کی تیاری ہے جو ہر ماحول میں خود کو ہم آہنگ کر سکے۔
آپریشنل کردار
SSG نے پاکستان کی سلامتی کے لیے کئی اہم اور خفیہ آپریشنز میں کردار ادا کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں میں SSG نے ہائی ویلیو اہداف، کلیئرنس آپریشنز، اور خصوصی مشنز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
اکثر آپریشنز کی تفصیلات سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر منظرِ عام پر نہیں لائی جاتیں، تاہم دفاعی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ SSG کا کردار فیصلہ کن رہا ہے۔
بین الاقوامی مشقیں اور تعاون
SSG نے دنیا کی مختلف اسپیشل فورسز کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کی ہے۔ ان مشقوں کا مقصد تجربات کا تبادلہ، جدید حربی تکنیکوں کی مشق، اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ ان مواقع پر SSG کی پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط کو سراہا گیا۔
سازوسامان اور جدیدیت
SSG جدید ہتھیاروں، کمیونیکیشن سسٹمز، اور انٹیلیجنس سپورٹ سے لیس ہے۔ بدلتے ہوئے جنگی رجحانات کے پیش نظر اس فورس کو مسلسل جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے، تاکہ روایتی اور غیر روایتی دونوں قسم کے خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔
انسانی پہلو
SSG کے اہلکار عام معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں، مگر فرائض کی انجام دہی کے دوران وہ ذاتی زندگی کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ طویل تعیناتیاں، خفیہ مشنز، اور جان کو لاحق مستقل خطرات ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ان کی قربانیاں اکثر غیر محسوس رہتی ہیں، مگر قومی سلامتی میں ان کا حصہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
انتخاب: ہر کوئی نہیں، صرف بہترین
SSG میں شمولیت کا خواب ہزاروں جوان دیکھتے ہیں، مگر حقیقت بننے کا اعزاز چند کو ہی ملتا ہے۔ انتخاب کا عمل اس قدر کڑا ہے کہ جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ ذہنی مضبوطی بھی ہر قدم پر آزمائی جاتی ہے۔ طویل دوڑیں، بھاری وزن کے ساتھ مارچ، نیند اور خوراک کی کمی—یہ سب اس بات کا امتحان ہوتے ہیں کہ کون واقعی اس یونٹ کا حصہ بننے کے قابل ہے۔
کہا جاتا ہے کہ SSG کا نعرہ صرف لفظ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے:
“جو ڈرتا ہے، وہ جیتتا نہیں”
تربیت: درد سے مضبوطی تک
SSG کی تربیت پاکستان کے دشوار گزار علاقوں میں ہوتی ہے—کہیں پہاڑ، کہیں صحرا، کہیں گھنے جنگلات۔ یہاں کمانڈو کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ محدود وسائل میں کیسے زندہ رہے، دشمن کے علاقے میں کیسے کارروائی کرے، اور انتہائی دباؤ میں درست فیصلہ کیسے لے۔
پیراشوٹ جمپس، آبی آپریشنز، انسداد دہشت گردی، اسنائپر مہارتیں—ہر مرحلہ کمانڈو کو ایک عام سپاہی سے ایک خاموش ہتھیار میں بدل دیتا ہے۔
آپریشنز: جہاں خطرہ ہو، وہاں SSG
پاکستان کی تاریخ کے کئی حساس اور فیصلہ کن لمحات میں SSG پیش پیش رہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا یرغمالیوں کی بازیابی، SSG نے ہمیشہ کم وقت میں، کم نقصان کے ساتھ، مشن مکمل کر کے اپنی پیشہ ورانہ مہارت ثابت کی۔
یہ وہ فورس ہے جس کے آپریشنز اکثر منظرِ عام پر نہیں آتے، مگر ان کے اثرات قوم کی سلامتی پر گہرے ہوتے ہیں۔
عالمی سطح پر مقام
دنیا کی بڑی اسپیشل فورسز کے ساتھ مشترکہ مشقوں میں SSG کی کارکردگی کو غیر معمولی قرار دیا گیا ہے۔ سخت فٹنس، نظم و ضبط، اور ٹیم ورک نے پاکستانی کمانڈوز کو عالمی سطح پر ایک قابلِ احترام مقام دلایا ہے۔
وردی کے پیچھے انسان
SSG کا کمانڈو بھی ایک انسان ہے—اس کا بھی خاندان ہے، خواب ہیں، جذبات ہیں۔ مگر وہ سب کچھ قوم پر قربان کرنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ اکثر بغیر کریڈٹ کے، بغیر شہرت کے، صرف فرض کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہے۔
نتیجہ: ایک خاموش فخر
اسپیشل سروس گروپ صرف ایک فوجی یونٹ نہیں، یہ پاکستان کی مزاحمت، حوصلے اور قربانی کی علامت ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ SSG دنیا کی بہترین اسپیشل فورسز میں شامل ہے—کیونکہ یہ صرف لڑتی نہیں، ناممکن کو ممکن بناتی ہے۔
اسپیشل سروس گروپ (SSG) پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی کا ایک اہم ستون ہے۔ اس کی تاریخ، تربیت اور آپریشنل خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ فورس مشکل ترین حالات میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
SSG نہ صرف ایک عسکری یونٹ ہے بلکہ یہ نظم، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت کی علامت بھی ہے—ایک ایسی فورس جو خاموشی سے ملک کے دفاع کو یقینی بناتی ہے۔




