پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

ملک بھر میں بجلی کا بحران سنگین، شارٹ فال 4 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا، جبری لوڈشیڈنگ

ذرائع کا کہنا ہے کہ گھنی دھند کے باعث جنوبی ریجن میں واقع متعدد پاور پلانٹس بار بار ٹرپ ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی پیداوار متاثر ہے

 رپورٹ مخدوم حسین-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ

ملک بھر میں بجلی کے شدید شارٹ فال کے باعث بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے ایک بار پھر جبری لوڈشیڈنگ شروع کر دی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بجلی کی مجموعی کمی تقریباً 4 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جس میں صرف لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کے پانچ اضلاع میں ہی ایک ہزار میگاواٹ سے زائد کا شارٹ فال شامل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گھنی دھند کے باعث جنوبی ریجن میں واقع متعدد پاور پلانٹس بار بار ٹرپ ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی پیداوار متاثر ہے۔ اس کے علاوہ موسمِ سرما میں پن بجلی کی پیداوار تقریباً صفر ہونے کے برابر ہے، جس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

سردیوں میں بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ

ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال سردیوں کے دوران بجلی کی طلب میں تقریباً 2 ہزار میگاواٹ اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھروں اور تجارتی مراکز میں ہیٹنگ آلات کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بجلی کے نظام پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ساہیوال کول پاور پلانٹ کے ایک یونٹ کی بندش اور لاہور کے پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی میں کمی کے باعث پیداواری صلاحیت مزید محدود ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ڈسکوز کے پاس پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں میں لوڈشیڈنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔

دھند کے باعث پاور پلانٹس ٹرپ، صورتحال مزید خراب

ایک اور سرکاری ذریعے کے مطابق گزشتہ چار سے پانچ دنوں کے دوران صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب جنوبی علاقے میں واقع بعض پاور پلانٹس گھنی دھند کی وجہ سے بار بار ٹرپ ہو کر گرڈ سے منقطع ہو گئے۔ ان پلانٹس سے مٹیاری-لاہور ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ (HVDC) ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے پنجاب، خصوصاً لاہور، کو بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ پلانٹس کی بحالی کے لیے کام جاری ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بجلی کی فراہمی میں کچھ بہتری آئے گی۔

شہری اور دیہی علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ

دوسری جانب جبری لوڈشیڈنگ کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہری علاقوں میں تین سے چھ گھنٹے جبکہ پنجاب، سندھ اور دیگر صوبوں کے دیہی علاقوں میں چھ سے دس گھنٹے تک بجلی بند کی جا رہی ہے۔

سکھر سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے بتایا کہ شہر میں روزانہ تین سے پانچ گھنٹے بجلی بند رہتی ہے، تاہم اندرونِ سندھ کے دیہی علاقوں میں صورتحال کہیں زیادہ خراب ہے جہاں آٹھ سے بارہ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔

لاہور کے ایک شہری نے بتایا کہ شہر میں روزانہ تین سے چھ گھنٹے بجلی کی بندش ہو رہی ہے، جس کے باعث گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے واسا کے ٹیوب ویل بھی کام نہیں کر پا رہے، جس سے پانی کی فراہمی میں بھی شدید کمی آ گئی ہے۔

لیسکو کے علاقوں میں صورتحال

لیسکو کے زیرِ انتظام لاہور، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب کے اضلاع میں بھی گھنٹوں پر محیط جبری لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض اوقات لیسکو کی مجموعی طلب 3,200 میگاواٹ سے تجاوز کر جاتی ہے جبکہ دستیاب سپلائی اس سے کہیں کم رہتی ہے۔

لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) رمضان بٹ کا کہنا ہے کہ نیشنل گرڈ سے کم بجلی مختص ہونے کی وجہ سے لوڈشیڈنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ہائیڈل پاور جنریشن مکمل طور پر صفر ہے، جبکہ گھنی دھند کے باعث شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے نیٹ میٹرنگ صارفین بھی بجلی واپس گرڈ کو فراہم نہیں کر پا رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسم کی خرابی کے باعث مختلف پاور پلانٹس بھی ٹرپ ہو چکے ہیں، جس سے مجموعی سپلائی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

اعداد و شمار: طلب اور رسد میں فرق

لیسکو کے سی ای او کے مطابق پیر کی شام 7 بج کر 45 منٹ پر لیسکو کے علاقوں میں بجلی کی کل طلب 3,241 میگاواٹ تھی، جبکہ نیشنل گرڈ سے فراہم کردہ بجلی 2,160 میگاواٹ رہی، جس کے نتیجے میں نمایاں شارٹ فال سامنے آیا۔

عوامی تشویش میں اضافہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسم کی صورتحال بہتر نہ ہوئی اور پاور پلانٹس مکمل بحال نہ ہوئے تو آنے والے دنوں میں بجلی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ سرد موسم میں عوام کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button