
اے ایف پی، اے پی، ڈی پی اے، روئٹرز، کے این اے
امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے واڈے فیہول نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی کو ”سنجیدگی سے زیرِ غور‘‘ سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ آرکٹک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے نیٹو کے اراکین کا مفاد مشترک ہے۔
واڈے فیہول نے کہا،”اس میں بالکل کوئی شک نہیں کہ امریکہ یورپ کے ساتھ کھڑا ہے اور مغربی دنیا میں قانون اور آزادی کے دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ میں یورپیوں کو مشورہ دوں گا کہ ہم ان چیزوں پر شک نہ کریں جن پر واشنگٹن میں شک نہیں کیا جا رہا۔‘‘
آئندہ ہفتے روبیو اور ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے، واڈے فیہول نے کہا کہ انہیں "کوئی شبہ نہیں کہ یہ مذاکرات دوستانہ اور تعاون پر مبنی ماحول میں ہوں گے۔” اور اس خیال کو مسترد کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت امریکہ نے نیٹو کی مشترکہ اقدار سے منہ موڑ لیا ہے۔

گرین لینڈ کے لیے آرکٹک سکیورٹی پر نیٹو کی بات چیت
نیٹو اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ وہ آرکٹک سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کرے گا، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور چین سے خطرات ان وجوہات میں شامل ہیں جن کے باعث امریکہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے پیر کے روز کہا کہ دفاعی اتحاد آرکٹک سکیورٹی کے تحفظ کے لیے ”اگلے اقدامات‘‘ پر کام کر رہا ہے، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روس اور چین کے خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کو ڈنمارک سے گرین لینڈ کو اپنے قبضے میں لینا ہو گا۔
روٹے نے کہا، ”تمام اتحادی آرکٹک اور آرکٹک سکیورٹی کی اہمیت پر متفق ہیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ جیسے جیسے سمندری راستے کھل رہے ہیں، اس بات کا خطرہ ہے کہ روسی اور چینی زیادہ سرگرم ہو جائیں گے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ”فی الحال ہم اس کے اگلے مرحلے پر بات کر رہے ہیں کہ کس طرح یہ یقینی بنایا جائے کہ ان مذاکرات پر عملی طور پر عمل درآمد ہو۔‘‘

کوئی ٹھوس تجویز فی الحال زیر غور نہیں
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نیٹو کے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت میز پر کوئی ٹھوس تجویز نہیں ہے، لیکن کچھ ارکان نے مختلف تجاویز پیش کی ہیں، جن میں خطے میں ایک نیا مشن شروع کرنے کا خیال بھی شامل ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 32 رکنی دفاعی اتحاد کو اس وقت ہلا کر رکھ دیا جب انہوں نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی دھمکیوں کو دہرایا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ چین اور روس معدنی وسائل سے مالا مال اس آرکٹک خطے پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں اب تک کوئی شواہد فراہم نہیں کیے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ صرف امریکی فوجی موجودگی کافی نہیں ہے اور اصرار کیا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ کا مالک ہونا چاہیے۔



