اہم خبریںپاکستان پریس ریلیز

کچھ طاقتیں سندھ کے حقوق اور وسائل پر ڈاکہ ڈالنا چاہتی ہیں، بلاول بھٹو زرداری

ایک سازش کے تحت نہ صرف تھرپارکر بلکہ پورے سندھ کی کردار کشی کی جا رہی ہے

انصار ذاہدسیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
حیدرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بدھ کے روز کسی کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا ہے کہ کچھ طاقتیں ایک منظم سازش کے تحت سندھ کے حقوق سلب کرنے اور صوبے کے وسائل کو یہ کہہ کر واپس اسلام آباد منتقل کرنا چاہتی ہیں کہ صوبائی حکومت کی کارکردگی خراب ہے۔
یہ بات انہوں نے تھرپارکر میں تھرپارکر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے پہلے مرحلے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ کے خلاف منفی بیانیہ گھڑا جا رہا ہے تاکہ صوبے کے وسائل پر قبضہ کیا جا سکے اور عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سازش کے تحت نہ صرف تھرپارکر بلکہ پورے سندھ کی کردار کشی کی جا رہی ہے۔ ’’کچھ قوتیں جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا، تاکہ اس بہانے صوبے کے وسائل اور حقوق چھین کر اسلام آباد منتقل کیے جا سکیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اس جھوٹے بیانیے کا عملی جواب خود تھرپارکر ہے۔ ’’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ 2008 سے پہلے اور اٹھارویں آئینی ترمیم سے قبل تھرپارکر کی حالت کیا تھی اور آج 2026 میں تھرپارکر کہاں کھڑا ہے۔ مسائل ضرور ہیں لیکن ترقی بھی سب کے سامنے ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
انہوں نے کہا کہ تھرپارکر کے عوام نے ہمیشہ ہر انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے، جسے انہوں نے پارٹی قیادت اور شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے عوام کی محبت کا مظہر قرار دیا۔ بلاول کے مطابق پیپلز پارٹی نے بھی اس اعتماد کا جواب تھرپارکر کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عملی اقدامات کے ذریعے دیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تھرپارکر کی ترقی پاکستان کی مجموعی ترقی کے لیے ناگزیر ہے، جس طرح چاروں صوبوں کی ترقی پورے ملک کی ترقی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب تمام اکائیاں مضبوط ہوں۔
کوئلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ تھرپارکر کے کوئلے کے ذخائر یہاں کے عوام کا اثاثہ ہیں۔ ’’تھرپارکر میں اتنا کوئلہ موجود ہے جتنا سعودی عرب کے پاس تیل ہے، مگر بدقسمتی سے ماضی میں ان وسائل کو بروئے کار لانے کی صلاحیت موجود نہیں تھی،‘‘ انہوں نے کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ان وسائل کو استعمال کرنے کی کوشش کی تو ایک سازش کے تحت ان کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ جو معاشی ترقی 1993 میں ہونی چاہیے تھی وہ 2008 تک ممکن نہ ہو سکی۔ تاہم 2008 کے بعد پیپلز پارٹی کے ایک بڑے منصوبے نے تھرپارکر میں معاشی انقلاب برپا کیا۔ ’’آج تھرپارکر میں پیدا ہونے والی بجلی کے معاشی فوائد فیصل آباد جیسے صنعتی مراکز میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
بلاول نے مزید کہا کہ تھرپارکر میں پیدا ہونے والی پہلی میگا واٹ بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کیا گیا تاکہ صنعتی مراکز اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ’’یہی مضبوط وفاقی حکومتوں کا طریقہ کار ہوتا ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ تھرپارکر میں معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ایک سماجی انقلاب بھی برپا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس علاقے میں بنیادی صحت کے مراکز، ڈسپنسریاں اور ہسپتال موجود نہیں تھے، لیکن اب حکومت کی سرمایہ کاری سے تھرپارکر میں صحت کا باقاعدہ نیٹ ورک قائم کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے تھر فاؤنڈیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئلے سے حاصل ہونے والے منافع کا ایک حصہ سماجی بہبود کے منصوبوں، ہسپتالوں کے قیام اور صحت کی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آبادی کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔
تعلیمی شعبے پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ تھرپارکر انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا منصوبہ 2019 میں نادر شاہ ایڈولجی ڈنشا یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے تحت شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت کی مدت مکمل ہونے تک یہ کیمپس ایک مکمل یونیورسٹی کی شکل اختیار کر لے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی اسی جذبے کے تحت سندھ میں کام کرتی رہے گی، عوام کے مفاد کو مقدم رکھے گی اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2008 کے بعد سندھ میں جامعات کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی دیگر صوبوں سے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ سندھ نے ان دونوں شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button