مشرق وسطیٰاہم خبریں

چاہ بہار بندرگاہ سے دستبرداری: بھارت کی ایران کے ساتھ دوغلی اور موقع پرستانہ پالیسی بے نقاب

انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ میں شامل تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے

جاوید- نیو دہلی-بھارت،وائس آف جرمنی اردو نیوز کے ساتھ
بھارت کی جانب سے ایران کی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل چاہ بہار بندرگاہ سے دستبرداری کے فیصلے نے تہران کے ساتھ اس کے تعلقات کی اصل حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین اور مبصرین کے مطابق معمولی امریکی دباؤ کے سامنے جھک کر ایک بڑے علاقائی منصوبے سے پیچھے ہٹ جانا بھارت کی دوغلی، مفاد پرستانہ اور غیر مستقل خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے، جس میں اصولوں کے بجائے وقتی فائدے کو ترجیح دی جاتی ہے۔
بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی معاشی رپورٹس کے مطابق بھارت نے امریکی پابندیوں کے نفاذ سے قبل ایران کو چاہ بہار منصوبے کے تحت طے شدہ تقریباً 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کی تھی۔ تاہم جیسے ہی امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید پابندیوں کے خدشات سامنے آئے، نئی دہلی نے اس منصوبے سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت ایران کے ساتھ تعلقات کو صرف اس وقت تک برقرار رکھتا ہے جب تک اس کے اپنے مفادات کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔
رپورٹس میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ میں شامل تمام سرکاری نامزد ڈائریکٹرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی ہے، جس کا مقصد امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے متعلقہ افراد اور اداروں کو بچانا بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ غیر معمولی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کو کمپنی کی سرگرمیوں کے بے نقاب ہونے کا شدید خدشہ لاحق تھا۔
معاشی اور تزویراتی امور کے ماہرین کے مطابق بھارت نے بظاہر چاہ بہار بندرگاہ میں سرمایہ کاری کو تجارت، علاقائی رابطہ کاری اور ترقی کے فروغ سے جوڑ کر پیش کیا تھا، تاہم حقیقت میں اس منصوبے کے پیچھے دیگر مقاصد بھی کارفرما تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ کو خاص طور پر چاہ بہار بندرگاہ کے کنٹرول اور استعمال کے لیے ہی قائم کیا گیا تھا، جس سے اس کے اصل عزائم پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ اگر امریکی پابندیاں مکمل طور پر نافذ ہوتیں تو اس کمپنی کی سرگرمیوں، مالی معاملات اور اس کے حقیقی کردار پر عالمی سطح پر کڑی نظر پڑ سکتی تھی، جس سے بھارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے کا امکان تھا۔ اسی خدشے کے پیش نظر نئی دہلی نے بروقت پسپائی کو ترجیح دی اور خاموشی سے اس منصوبے سے الگ ہونے کا راستہ اختیار کیا۔
کچھ ماہرین نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ چاہ بہار بندرگاہ کو ممکنہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ان کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ایرانی حکام بھی اس بندرگاہ اور اس سے جڑی ممکنہ خفیہ سرگرمیوں کے حوالے سے زیادہ چوکس ہو چکے تھے۔ اس صورتحال میں بھارت کے لیے اس منصوبے میں مزید موجود رہنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔
ماہرین کی رائے میں بھارت نے اپنی بین الاقوامی ساکھ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بچانے کے لیے چاہ بہار بندرگاہ سے نکل جانا مناسب سمجھا، جس کے نتیجے میں ایران کے ساتھ اصولوں پر مبنی تعلقات اور طویل مدتی شراکت داری کے دعوے پس منظر میں چلے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے ایران سے کیے گئے وعدوں اور باہمی اعتماد کو محض اپنے فوری مفادات کی خاطر نظرانداز کر دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے بھارت کے اس دعوے کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے کہ وہ ایک متوازن اور خودمختار خارجہ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ چاہ بہار منصوبے سے علیحدگی نے ایک بار پھر عالمی برادری کے سامنے بھارت کے دوہرے معیار اور موقع پرستانہ طرزِ عمل کو بے نقاب کر دیا ہے، جس پر مستقبل میں اس کے علاقائی اور عالمی تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button