پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے،وزیراعظم

قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں یہ انتہائی خوش آئندبات ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی ایک ایسا کردار ادا کرنے جا رہی ہے

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے غربت، بے روزگاری کے خاتمے ، قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی،ملک میں دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، خوارج ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے،ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں وسائل پہنچ رہے ہیں،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ،تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے طریقوں سے عبادت اور تہوار منانے کا پورا حق ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو وسائل عطا کئے ہیں وہ شاید ہی کسی ملک کے پاس ہوں،وسائل کو اگر استعما ل کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے،معرکہ حق میں افواج پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک نہیں بھولے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ،وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اوردیگر حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں یہ انتہائی خوش آئندبات ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی ایک ایسا کردار ادا کرنے جا رہی ہے جس کی اس وقت بہت ضرورت ہے، مملکت خداداد پاکستان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم تحریک کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد وجود میں آئی،تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے حصہ ڈالا،سیسل چوہدری ،سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس اور اقلیتی برادری کے دیگر ارکان کی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کے لیے بڑی خدمات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے کا مقصد ایسا خطے کا حصول تھا جہاں اسلام کا بول بالا ہو،پاکستان میں تمام مذاہب کو اپنے طریقوں سے عبادت کرنے اور تہوار منانے کا حق ہے،ہر پاکستانی کو اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر اپنا مقام پیدا کرنے کا حق ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف رواں دواں ہے، قیام پاکستان میں علماء کرام کا بھی بہت اہم کردار تھا، اللہ تعالی نے پاکستان کو وہ تمام وسائل عطا کیے ہیں جو شاید ہی کسی دوسرے ملک کے پاس ہوں، اللہ تعالی نے ہمیں کھربوں ڈالر کے قدرتی وسائل عطا کر رکھے ہیں جن کو ہم استعمال کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے، پاکستان کو صحیح معنوں میں رفاحی مملکت بنائیں گے، قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے ،غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے، یہ کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، اس کےلئے وہ طریقے اور اسلوب اختیار کرنے ہوں گے جن کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا ۔وزیراعظم نے کہا کہ مئی 2025 میں معرکہ حق میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو شکست فاش دی اور ایک ایسا سبق سکھایا جسے وہ رہتی دنیا تک بھلا نہیں پائے گا،یہ فتح اللہ تعالی کی نصرت اور اس کی کمال مہربانی اور افواج پاکستان کی جرأت، اعلی ترین تربیت ، بہترین ٹیکنالوجی اور 24کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معر کہ حق میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح سے نواز جس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ہے،وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جن میں عام شہری، مائیں، بہنیں، بچے، ڈاکٹر، انجینئرز، تاجر اور چاروں صوبوں کے باسی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے خون سے ملک کی آبیاری کی ہے، افواج پاکستان، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کےکے ہزاروں افسر اور جوان بھی شہید ہوئے ہیں،انہوں نے قربانیاں دے کر نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کیا بلکہ دیگر ممالک کو بھی بچایا ،آج دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے ،خوارج ،ٹی ٹی پی اورٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے ، ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں ہر طرح کے وسائل پہنچ رہے ہیں ،جس طرح 2018 میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا تھا مجھے مکمل یقین ہے کہ اس مرتبہ بھی دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام شامل ہیں ،اللہ تعالی اس کمیٹی کو کامیابیاں عطا کرے،اسلام کا اعلیٰ و ارفع پیغام صوبوں میں پہنچائیں ،تدبر، فہم و فراست ،بردباری اور حوصلے کے ساتھ معاملات کو آگے لے کر چلنا ہے۔معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے۔قومی پیغام امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جس اعتماد کا اظہار وزیراعظم نے کیا ہے ہم اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے، پشاور میں خیبرپختونخوا کے گورنر کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد یہ طے ہوا ہے کہ خیبر پختونخواکے تمام علماء کرام کی دو روزہ علماء مشائخ کانفرنس بلائی جائے گی جس میں مشاورت سے فیصلے کئے جائیں گے اوران کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا،کمیٹی کے اراکین صوبے کے تمام علاقوں کا دورہ کریں گے ،پاک فوج کے جوانوں اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ وقت گزاریں گے اور بیانیہ کی جنگ میں صف اول کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مؤقف واضح ہے کہ پاکستان کا امن ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے، اس وقت مدارس کے 15 میں سے 11 بورڈز کے ارکان یہاں موجود ہیں ،جن حالات میں پیغام امن کمیٹی کی تشکیل ہوئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان میں امن کی کوششوں کو استحکام ملے گا،علماء اور مفکرین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،علماء نظریاتی محاذ کو مستحکم کر رہے ہیں، 2018 میں مسلم لیگ( ن) کی حکومت نے ہی پیغام پاکستان کا اجراء کیا تھا، جس کو ہم آگے لے کر چل رہے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ امن کے قیام کے لیے کوششیں کامیاب رہیں گی،قومی پیغام امن کمیٹی میں اقلیتی برادری کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ جامعۃ الرشید کے مہتمم مولانا مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست پاکستان اور حکومت کی طرف سے مضبوط قومی بیانیہ عوام تک جانا چاہیےجو سہولت کاری بھی ہو رہی ہے چاہے وہ سیاسی، مذہبی سطح پر ہویا تعلیمی اداروں کی طرف سے ہو اس کا خاتمہ ضروری ہے،شکوک و شبہات کا خاتمہ ضروری ہے،امن کمیٹی امن کا پیغام لے کر ہر جگہ پہنچے گی۔علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ امن اور محبت کا پیغام عام کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے، پاکستان اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے ،کبھی شر پسند اور منفی ذہنیت رکھنے والے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے،خوارج کا دین اسلام سے تعلق ہے نہ ہی وہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں، وہ ملک کا امن تباہ کر رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اتحاد امت کے لیے ہم سب مل کر کوشش کر رہے ہیں، اندرونی و بیرونی تمام سازشوں کے سامنے مل کر کھڑے ہوں گے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ فتنہ والخوارج اور فتنہ ا لہندوستان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ کمیٹی بھرپور سرگرمی سے کام کرے گی، اس کمیٹی میں تمام مذاہب کے نمائندے شامل ہیں اور یہ قومی وحدت کا مظہر ہے،پیغام پاکستان کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ میں اس وقت بلند ترین مقام پہ کھڑا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت کا ملک کی ترقی کے لیے مؤقف ایک ہے ، ہم نے پیغام دے دیا ہے کہ علماء پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ علمائے کرام پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،ملک میں قیام امن اور یکجہتی کے فروغ کےلئے حکومت کا ساتھ دیں گے۔مولانا زبیر فہیم نے کہا کہ سیاسی، دینی اور عسکری قیادت جب مل کر کام کرے گی تو یہ ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔مفتی محمد یوسف خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو معرکہ حق میں بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے،قومی پیغام امن کمیٹی اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔علامہ محمد آصف اکبر نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے، پاکستان کے امن کے لیے علماء کرام ،سیاسی وعسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم اپنے مدارس میں پیغام پاکستان کو بطور نصاب پڑھا رہے ہیں۔مولانا محمد عادل عطاری نے کہا کہ ہم سب مل کر وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے، معرکہ حق کے بعد پاکستان کی دنیا میں عزت میں اضافہ ہوا ہے، امن کمیٹی کے قیام سے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ہندو کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیش کمار نے کہا کہ پاکستان میں ہندو برادری خوشی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے ،ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس دھرتی ماں کی حفاظت رواداری، امن وآشتی کے فروغ کے لیے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،ہندو برادری ملک کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔مسیحی برادری کے نمائندگی کرتے ہوئے بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ ہم ایسا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہوں گےجس سے امن کا پیغام پھیلے گا۔مولانا طیب پنج پیری نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، امن کی کوششوں میں ہم وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔مولانا محمد توقیر عباس نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے علماءکرام حکومت کے ساتھ ہیں، سکیورٹی ادارے وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت علماء کی ذمہ داری ہے ، یہ کمیٹی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کو ناکام بنائے گی۔ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات ڈاکٹر غلام قمر نے کہا کہ ملک میں 36 ہزار مدارس ہیں رجسٹرڈ مدار س میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جارہی ہے اور بچوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جارہی ہےتاکہ وہ جب مدارس سے فارغ ہوں تو انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نےکہا کہ اساتذہ کی بھی جدید خطوط پر تربیت کی جارہی ہے، کچھ حلقوں کی طرف سے غلط پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ مدارس میں درس نظامی کی تعلیم کو متاثرکیا جارہا ہے ، نہ ہم ایسا کررہے ہیں نہ ہی کیا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button