یورپاہم خبریں

گرین لینڈ: فوجیوں کی تعیناتی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، امریکہ

گرین لینڈ کی آبادی 57 ہزار سے بھی کچھ کم ہے اور یہ مملکتِ ڈنمارک کا ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، جبکہ اس کے دفاع اور خارجہ پالیسی کی ذمہ داری ڈنمارک کے پاس ہے۔

ڈی پی اے، اے ایف پی، اے پی

یورپ کے کئی ممالک نے ڈنمارک کی حمایت کے اظہار کے طور پر گرین لینڈ میں اپنے فوجی بھیجے ہیں، تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ اس سے جزیرے کو حاصل کرنے کے صدر ٹرمپ کے ارادے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

یہ فوجی تعیناتی اور عسکری نقل و حرکت امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان اس اسٹریٹجک اہمیت کے حامل آرکٹک جزیرے کے مستقبل پر اختلافات کے تناظر میں ہو رہی ہے۔

گرین لینڈ کی آبادی 57 ہزار سے بھی کچھ کم ہے اور یہ مملکتِ ڈنمارک کا ایک نیم خودمختار علاقہ ہے، جبکہ اس کے دفاع اور خارجہ پالیسی کی ذمہ داری ڈنمارک کے پاس ہے۔

یورپی اتحاد کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ خطے میں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے باعث یہ جزیرہ امریکی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔

اس تناظر میں یورپی ممالک کی جانب سے گرین لینڈ میں فوج کی تعیناتی کے حالیہ مشن کا مقصد یورپی اتحاد کے اظہار کے ساتھ ہی امریکہ کو ایک واضح پیغام بھی دینا ہے۔

ڈنمارک کے نشریاتی ادارے ڈی آر کے مطابق ملک کے وزیرِ دفاع ٹرولس لُنڈ پولسن نے کہا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ”ڈنمارک کی جانب سے بڑے پیمانے پر شراکت کے ساتھ ایک زیادہ مستقل فوجی موجودگی قائم کرنا‘‘ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کے کئی ممالک کے فوجی باری باری (روٹیشن سسٹم) کے تحت گرین لینڈ میں تعینات رہیں گے۔

تاہم گرین لینڈ میں امریکہ کے پاس بھی ایک فوجی اڈہ ہے۔

گرین لینڈ
امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان امریکی ملکیت کے دعوے پر تنازع حل کرنے کے لیے بات چیت ہوئی تھی، تاہم اس سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو سکاتصویر: Marko Djurica/REUTERS

ٹرمپ کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے یورپی ممالک کی جانب سے فوج کی تعیناتی کے مشن کی اہمیت کو کم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے صدر ٹرمپ کے فیصلے یا گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے ہدف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے کہا، "صدر نے اپنی ترجیح بالکل واضح کر دی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ گرین لینڈ کو حاصل کرے۔ ان کے نزدیک یہ ہمارے قومی سلامتی کے بہترین مفاد میں ہے۔”

بدھ کے روز امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان امریکی ملکیت کے دعوے پر تنازع حل کرنے کے لیے بات چیت ہوئی تھی، تاہم اس سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔

ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارس لوکے راسموسن نے کہا کہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ ملاقات میں اس مسئلے پر ”بنیادی اختلافات‘‘ ابھر کر سامنے آئے۔ تاہم فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

گرین لینڈ کا حصول ‘ناقابلِ تصور’ ہے

وائٹ ہاؤس نے مزید مذاکرات کے منصوبوں کو ”گرین لینڈ کے حصول سے متعلق معاہدے پر تکنیکی بات چیت‘‘ قرار دیا ہے۔

لیکن راسموسن نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات چیت دراصل ایک ورکنگ گروپ ہو گا جو ممالک کے درمیان اختلافات دور کرنے کے طریقوں پر غور کرے گا۔

انہوں نے امریکہ کی جانب سے گرین لینڈ کے حصول کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد کر دیا۔

انہوں نے سرکاری نشریاتی ادارے ڈی آر کو بتایا، "یہ بالکل ناممکن ہے۔ نہ ڈنمارک میں ہم یہ چاہتے ہیں اور نہ ہی گرین لینڈ میں۔ یہ تمام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔”

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button