اہم خبریںمشرق وسطیٰ

تہران کا خفیہ پیغام واشنگٹن کی ممکنہ فوجی کارروائی روکنے کا سبب بنا: ذرائع

کشیدگی میں وقتی کمی، مگر ایران کے خلاف امریکی عسکری آپشن بدستور میز پر

واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ دنوں میں خطرناک حد تک بڑھنے والی کشیدگی کے دوران ایک غیر معمولی اور خفیہ سفارتی پیش رفت نے خطے کو ممکنہ بڑے فوجی تصادم سے بچا لیا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے وسط میں ایک ایسی رات آئی جب مشرقِ وسطیٰ مکمل طور پر جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا، تاہم ایرانی وزیر خارجہ کی جانب سے بھیجا گیا ایک خفیہ پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر اثر انداز ہوا اور ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر فوجی حملوں کا حکم عارضی طور پر روک دیا گیا۔

ذرائع کے مطابق یہ ممکنہ امریکی کارروائی ایران میں جاری عوامی احتجاج کو سختی سے کچلنے کے ردعمل میں زیر غور تھی، جسے صدر ٹرمپ نے اپنی مقرر کردہ ’’سرخ لکیر‘‘ کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ تاہم آخری لمحے میں سفارتی رابطے نے صورتحال کو ایک نیا رخ دے دیا۔


زیرو آور: امریکی فوجی تیاریاں عروج پر

رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز تک امریکی عسکری اور انٹیلی جنس ادارے مکمل طور پر متحرک ہو چکے تھے۔ ایران کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات اور مبینہ اجتماعی سزاؤں کی اطلاعات کے بعد امریکہ نے ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے اپنی تیاریاں حتمی مرحلے میں داخل کر دی تھیں۔

ان تیاریوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے دائرہ اختیار میں آنے والے علاقوں میں جنگی بحری جہازوں کی ازسرنو تعیناتی، خلیج میں فوجی نقل و حرکت میں اضافہ، اور قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید بیس پر الرٹ کی سطح بلند کرنا شامل تھا۔ اسی دوران سی آئی اے کے سربراہ نے صدر ٹرمپ کو خفیہ زمینی رپورٹس اور ویڈیو فوٹیج پر مبنی بریفنگ دی، جن میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی تفصیلات شامل تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ماحول انتہائی کشیدہ تھا اور چند گھنٹوں کے اندر اندر فیصلہ کن فوجی کارروائی کا امکان موجود تھا۔


وٹکوف کا خفیہ چینل اور تہران کا غیر متوقع پیغام

اسی نازک مرحلے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پس پردہ سفارتی چینل استعمال کرتے ہوئے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو ایک خفیہ ٹیکسٹ پیغام ارسال کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ پیغام واشنگٹن کے لیے غیر متوقع تھا۔

پیغام میں ایران کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے دوران مبینہ ہلاکتوں کو فوری طور پر روکنے اور احتجاجی تحریک کے تقریباً 800 گرفتار رہنماؤں کے خلاف دی جانے والی سزاؤں کو منسوخ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ امریکی حکام کے مطابق یہی پیغام اس پوری صورتحال میں ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیو وٹکوف نے فوری طور پر یہ پیغام صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی اعلیٰ قیادت تک پہنچایا، جس کے بعد فوجی کارروائی کو مؤخر کرنے پر غور شروع ہوا۔


صدر ٹرمپ کا فیصلہ: انتظار اور جائزہ

امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے وعدوں پر عمل درآمد کا عملی جائزہ لینے کے لیے فوری فوجی کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا،
“ہم دیکھیں گے اور انتظار کریں گے”،
اور یہ عندیہ بھی دیا کہ انہیں ایران کی جانب سے تشدد میں کمی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

تاہم ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ مستقل نہیں بلکہ مشروط تھا، اور امریکی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔


وائٹ ہاؤس میں اختلافات، جنگ یا تحمل؟

رپورٹ میں امریکی انتظامیہ کے اندر شدید اختلافات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ ایک جانب سخت گیر حلقے، جن میں بعض پینٹاگون اور کانگریس کے ارکان شامل تھے، ایران کو کمزور کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے حامی تھے۔

دوسری جانب اسٹیو وٹکوف اور وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی قیادت میں ایک نسبتاً محتاط گروپ نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف مکمل جنگ نہ صرف خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرے گی بلکہ عرب اتحادی ممالک میں بھی سیاسی اور سماجی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔


تہران کی تردید اور سخت بیانات

دوسری طرف تہران نے ان خبروں کو سرکاری سطح پر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اجتماعی سزاؤں اور خفیہ یقین دہانیوں سے متعلق رپورٹس گمراہ کن ہیں اور ان کا مقصد امریکہ کو اشتعال دلانا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایران اپنی داخلی سلامتی کے معاملات میں کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ ادھر تہران کے پراسیکیوٹر جنرل نے بھی خبردار کیا کہ ملکی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا، اور احتجاجات کو بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا۔


پس منظر: معاشی بحران اور عوامی غصہ

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران شدید معاشی بحران سے دوچار ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور عالمی پابندیوں کے باعث عوامی غصہ گزشتہ دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ احتجاجات ایران کی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی مظاہروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔


آگے کیا ہوگا؟

اگرچہ خفیہ پیغام کے بعد وقتی طور پر کشیدگی میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم سفارتی ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکی فوجی آپشن بدستور موجود ہے۔ ان آپشنز میں ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل پروگرام اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دن اس معاملے میں نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی فضا اب بھی نہایت کمزور ہے، اور کسی بھی غلط قدم سے پورا خطہ ایک نئی جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button