
کابل کے علاقے شہرنو میں چینی مسلمانوں کے ریسٹورنٹ پر دھماکہ، ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک، متعدد زخمی
دھماکہ ریسٹورنٹ کے باورچی خانے کے قریب ہوا جس کے باعث عمارت کے اندر شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے وقت ریسٹورنٹ میں عملہ اور گاہک موجود تھے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان میں اضافہ ہوا
مقامی میڈیا
کابل: افغان دارالحکومت کابل کے مصروف علاقے شہرنو کی معروف گل فروشی گلی میں واقع ایک مشترکہ چینی و افغان ریسٹورنٹ میں زور دار دھماکے کے نتیجے میں ایک چینی شہری سمیت کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ آج سہ پہر تقریباً تین بجے پیش آیا۔
یہ دھماکہ شہرنو میں قائم ریسٹورنٹ "چائنیز نوڈل” میں ہوا، جو چینی مسلمانوں اور افغان شہریوں کی مشترکہ ملکیت تھا۔ ریسٹورنٹ کے مالکان میں چین کے صوبہ شین یانگ سے تعلق رکھنے والے مسلمان شہری عبدالمجید، ان کی اہلیہ، اور افغان شہری عبدالجبار محمود شامل ہیں۔ یہ ریسٹورنٹ خاص طور پر کابل میں مقیم چینی مسلمانوں کے لیے حلال کھانے کی فراہمی کے لیے جانا جاتا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق دھماکہ ریسٹورنٹ کے باورچی خانے کے قریب ہوا جس کے باعث عمارت کے اندر شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے وقت ریسٹورنٹ میں عملہ اور گاہک موجود تھے، جس کے نتیجے میں جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک چینی شہری ایوب شامل ہے جو مسلمان تھا، جبکہ چھ افغان شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ زخمیوں میں ریسٹورنٹ کا عملہ اور گاہک شامل ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے دھماکے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت تاحال واضح نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ حادثہ تھا یا کسی تخریبی کارروائی کا نتیجہ۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دراز علاقوں تک سنی گئی، جبکہ ریسٹورنٹ کے شیشے اور قریبی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو گئی۔
مقامی میڈیا کے مطابق افغان حکام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ ذمہ دار عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سیکیورٹی اداروں نے غیر ملکی شہریوں اور حساس مقامات کی حفاظت مزید سخت کرنے کے اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کابل میں غیر ملکیوں، خصوصاً چینی شہریوں کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی خدشات پہلے ہی موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں سے متعلق تفصیلات منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔




