یورپاہم خبریں

ٹرمپ کی نظر گرین لینڈ پر کیوں؟ امریکی قومی سلامتی، معدنی وسائل اور عالمی طاقت کی نئی کشمکش

ماحولیاتی تبدیلی بھی اس خطے کی اہمیت بڑھا رہی ہے۔ برف پگھلنے کے باعث نہ صرف نئے بحری راستے کھل رہے ہیں بلکہ قدرتی وسائل تک رسائی بھی آسان ہو رہی ہے

واشنگٹن/کوپن ہیگن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر دنیا کے سب سے بڑے جزیرے گرین لینڈ کو عالمی توجہ کا مرکز بنا رہے ہیں۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکا کی ایک نئی اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطہ امریکی قومی سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق گرین لینڈ نہ صرف جغرافیائی لحاظ سے اہم ہے بلکہ قدرتی وسائل کے اعتبار سے بھی مستقبل کی عالمی طاقت کی کنجی بن سکتا ہے۔
گرین لینڈ، جو باضابطہ طور پر ڈنمارک کا خودمختار علاقہ ہے، آرکٹک خطے میں واقع ہے اور اس کا محلِ وقوع امریکا، یورپ اور روس کے درمیان ایک قدرتی اسٹریٹجک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آرکٹک میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی، خصوصاً روس اور چین کی سرگرمیوں کے تناظر میں امریکا گرین لینڈ کو ایک اہم دفاعی اور سیکیورٹی مرکز کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ گرین لینڈ میں موجود امریکی فوجی اڈے، خصوصاً تھولے ایئر بیس، امریکا کی میزائل وارننگ سسٹم اور شمالی دفاعی حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں۔ ان کے نزدیک اگر امریکا آرکٹک میں اپنی موجودگی مضبوط نہیں کرتا تو اس خلا کو دیگر عالمی طاقتیں پُر کر سکتی ہیں، جو امریکی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
قدرتی وسائل بھی گرین لینڈ کی اہمیت کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ یہ خطہ تیل اور گیس کے ذخائر کے علاوہ نایاب معدنیات، ریئر ارتھ ایلیمنٹس، یورینیم، سونا اور دیگر قیمتی دھاتوں سے مالا مال ہے۔ یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، الیکٹرک گاڑیوں اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ امریکا طویل عرصے سے ان معدنیات کے لیے چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور گرین لینڈ اس ضمن میں ایک ممکنہ متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی بھی اس خطے کی اہمیت بڑھا رہی ہے۔ برف پگھلنے کے باعث نہ صرف نئے بحری راستے کھل رہے ہیں بلکہ قدرتی وسائل تک رسائی بھی آسان ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ آرکٹک اب عالمی طاقتوں کے درمیان نئی اسٹریٹجک کشمکش کا میدان بنتا جا رہا ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی گرین لینڈ خریدنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، جس پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے واضح طور پر کہا تھا کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امریکا گرین لینڈ کے ساتھ معاشی، سیکیورٹی اور سفارتی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کو نمایاں کرنا دراصل امریکا کی اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا اور مستقبل کی عالمی طاقت کی دوڑ میں خود کو مضبوط پوزیشن پر رکھنا ہے۔
یوں گرین لینڈ اب صرف برفانی جزیرہ نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست، قدرتی وسائل اور قومی سلامتی کے تناظر میں ایک اہم اسٹریٹجک مرکز بن چکا ہے، جس پر آنے والے برسوں میں عالمی طاقتوں کی نظریں مزید مرکوز رہنے کا امکان ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button