

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے سوئٹزرلینڈ کے شہر داووس میں ’’مختلف فریقوں‘‘ کے ساتھ ایک ایسے اجلاس میں شرکت پر اتفاق کیا ہے جس میں وہ گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنے کے ان کے ارادے پر تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا: ’’جیسا کہ میں نے سب پر واضح کر دیا ہے، گرین لینڈ قومی اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں، اس بات پر سب کا اتفاق ہے!‘‘
ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ اپنی ایک تصویر دکھائی، جس میں وہ امریکی جھنڈا تھامے ایک ایسے بورڈ کے پاس کھڑے ہیں جس پر لکھا ہے ’’گرین لینڈ، امریکی علاقہ، قیام 2026‘‘۔ اس تصویر میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی نمایاں ہیں۔
صدر کی جانب سے شیئر کی گئی ایک اور اے آئی تصویر میں عالمی رہنماؤں کو ایک اجلاس میں دکھایا گیا ہے، جہاں وہ ایک نقشہ پیش کر رہے ہیں، جس میں امریکہ، کینیڈا، گرین لینڈ اور وینزویلا پر امریکی جھنڈا لہرا رہا ہے۔
گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کی ان کی دھمکیوں کو اس وقت سے زیادہ اہمیت حاصل ہوئی ہے، جب سے امریکی افواج نے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کیا ہے۔
ٹرمپ نے کینیڈا کو بھی امریکہ کے ساتھ ضم کرنے کا عہد کر رکھا ہے اور وہ اکثر امریکہ کے اس پڑوسی ملک کو ’’51 ویں امریکی ریاست‘‘ کے طور پر مخاطب کرتے ہیں۔




