
ملک محمد احمد خان کا مدلل خطاب اور ارشد انصاری کی اسٹیٹس مین سپرٹ
لاہور میں دو یادگار صحافتی تقاریب، صحافیوں کے حقوق، وقار اور اتحاد کا بھرپور اظہار
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز سینیئر صحافی امجد عثمانی کے ساتھ
لاہور: آج لاہور میں صحافتی برادری کے لیے دو بڑی، بامقصد اور پرمسرت تقاریب منعقد ہوئیں جنہوں نے نہ صرف صحافیوں کے وقار کو اجاگر کیا بلکہ ان کے حقوق، مسائل اور مستقبل کے حوالے سے امید کی نئی کرن بھی روشن کی۔ دونوں تقریبات میں شائستگی، سنجیدگی، فکری پختگی اور اسٹیٹس مین سپرٹ نمایاں نظر آئی۔
پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری کی حلف برداری کی پروقار تقریب
پہلی تقریب پنجاب اسمبلی میں منعقد ہوئی جہاں پنجاب اسمبلی پارلیمانی رپورٹرز پریس گیلری کے نومنتخب عہدیداران کی حلف برداری کی تقریب منعقد کی گئی۔ پریس گیلری کے صدر جناب خواجہ نصیر کی دعوت پر صحافیوں کی بڑی تعداد پنجاب اسمبلی پہنچی۔
اس پروقار تقریب میں اسپیکر پنجاب اسمبلی جناب ملک محمد احمد خان نے نہایت وقار اور شائستگی کے ساتھ صدر خواجہ نصیر اور ان کی کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب کا ماحول مکمل طور پر سنجیدہ، باوقار اور صحافت کے احترام سے بھرپور تھا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا فکر انگیز اور مدلل خطاب
تقریب کی خاص بات اسپیکر پنجاب اسمبلی جناب ملک محمد احمد خان کا خطاب تھا، جس دوران ہال میں پن ڈراپ سائلنس رہا۔ ان کا اندازِ گفتگو نہایت شستہ، دھیمہ اور دل میں اتر جانے والا تھا۔ انہوں نے صحافیوں کے حوالے سے محض رسمی گفتگو نہیں کی بلکہ دردِ دل کے ساتھ تین اہم نکات پر انتہائی مدلل انداز میں بات کی۔
انہوں نے سب سے پہلے پرنٹ میڈیا کے زوال کا ذکر کرتے ہوئے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا اور واضح الفاظ میں خوشخبری دی کہ پرنٹ میڈیا کو مرنے نہیں دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سرکولیشن سکڑ چکی ہے اور اشتہارات میں اضافہ ہوا ہے، اس کے باوجود پرنٹ میڈیا سے وابستہ صحافی بدترین معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔
صحافیوں کے حقوق کے لیے قانون سازی کا اعلان
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے واضح اور دوٹوک انداز میں کہا کہ اخباری کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پنجاب اسمبلی میں قانون سازی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاملے کو ویج بورڈ ایوارڈ کی طرح لٹکایا نہیں جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو پرائیویٹ ممبر ڈے پر بل بھی پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صحافیوں کو بھی وہی استحقاق حاصل ہونا چاہیے جو اسمبلی کے اسٹاف کو حاصل ہے، اور اس حوالے سے ایک باقاعدہ نظام وضع کیا جائے گا۔
ارشد انصاری کے کردار کو سراہتے ہوئے اہم تجویز
اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے لاہور پریس کلب کے نومنتخب صدر جناب ارشد انصاری کو مخاطب کرتے ہوئے تجویز دی کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بار کونسل طرز کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ صحافتی اقدار، ذمہ داری اور حقوق کو ادارہ جاتی تحفظ حاصل ہو سکے۔
لاہور پریس کلب میں ’’جشنِ انصاری‘‘، شاندار فتح کا جشن
دن کی دوسری بڑی تقریب لاہور پریس کلب میں منعقد ہوئی جو 2026 کے انتخابات میں جناب ارشد انصاری اور ان کی گورننگ باڈی کی شاندار کامیابی کے جشن کے طور پر منعقد کی گئی۔ چھ سو ووٹوں کے بھاری مارجن سے چودہویں مرتبہ صدر منتخب ہونے والے ارشد انصاری تقریب کا مرکزِ نگاہ تھے۔ اس تقریب کو بجا طور پر ’’جشنِ انصاری‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
ارشد انصاری کا غیر معمولی، مدبرانہ اور مثبت خطاب
لاہور پریس کلب کے صدر جناب ارشد انصاری نے اپنے خطاب میں غیر معمولی بالغ نظری، شائستگی اور اسٹیٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب جناب پرویز الٰہی کو لاہور کے صحافیوں کا محسن قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے بزرگ ہیں اور قابلِ صد احترام ہیں۔
اسی طرح انہوں نے وزیر داخلہ جناب محسن نقوی کو نیک نام میڈیا مالک اور محسنِ صحافت قرار دیا۔ ان کا یہ مثبت لہجہ اس لیے بھی قابلِ توجہ تھا کہ انتخابی مہم کے دوران بعض ناخوشگوار خبروں اور اختلافات کی بازگشت سنائی دیتی رہی تھی، جن کا ذکر انہوں نے نہایت متوازن انداز میں خود بھی کیا۔
لاہور پریس کلب کی سیاست پر دوٹوک مؤقف
جناب ارشد انصاری نے واضح الفاظ میں کہا کہ لاہور پریس کلب کی سیاست میں سیاستدانوں کی مداخلت ایک ایسا دروازہ کھول دے گی جو اسے سیاسی جماعتوں کا اکھاڑہ بنا دے گا، جو صحافت اور صحافیوں کے مفاد میں ہرگز نہیں۔
اختلاف کے باوجود اتحاد کی دعوت
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اپنے مدِ مقابل امیدوار جناب اعظم چودھری کو کھلے دل کے ساتھ دعوت دی کہ آئیں مل کر لاہور پریس کلب کو سنواریں اور ممبرز کے حقوق کی مشترکہ جدوجہد کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلاف کے باوجود اتحاد ہی صحافی برادری کی اصل طاقت ہے۔
یہی رویہ، یہی برداشت اور یہی ظرف اسٹیٹس مین سپرٹ کہلاتا ہے، جس کا مظاہرہ جناب ارشد انصاری نے آج بھرپور انداز میں کیا۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وضع دار اعظم چودھری بھی اس دعوتِ تعاون کو قبول کرتے ہوئے صحافتی اتحاد کو مضبوط کریں گے۔







