
برلن / واشنگٹن: جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے بدھ کے روز ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکومت کے "دن گنے جا چکے ہیں۔” یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایران میں حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف تشدد اور کریک ڈاؤن کی خبریں سامنے آئی ہیں، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں ممکنہ مداخلت کی دھمکیاں دوبارہ دی ہیں۔
فریڈرش میرس کی پریس کانفرنس
جرمن چانسلر نے رومانیہ کے وزیر اعظم الیئے بولوژان کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ایسا نظام جو اپنی ہی عوام کے خلاف محض بے پناہ تشدد اور دہشت کے ذریعے برسر اقتدار رہے، اس کے دن گنے جا چکے ہیں۔”
میریس نے مزید کہا کہ یہ معاملہ چند ہفتوں میں بھی حل ہو سکتا ہے، لیکن اس نظام کے پاس ملک پر حکمرانی کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز باقی نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری ایران میں ہونے والے مظالم پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ایسے اقدامات کے لیے دباؤ ڈالنے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
ایران میں مظاہروں اور عالمی ردعمل
ایران کے مختلف شہروں میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جو حکومت کی معاشی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہے۔ ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر طاقت کا استعمال اور کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کئی افراد زخمی یا گرفتار ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ دنوں میں ایران میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے بعد کہا کہ عالمی برادری کو انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ ٹرمپ نے ایران میں امریکی مفادات اور علاقائی امن کے حوالے سے ممکنہ مداخلت کے امکان کی دھمکی دی ہے۔
میرس کی تنقید اور عالمی سیاسی تناظر
چانسلر میرس نے ایرانی حکومت کی قیادت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایسے نظام جو عوام کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت اور خوف کے ذریعے اقتدار قائم رکھتے ہیں، لمبے عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے حکومتی اقدامات نہ صرف ملکی سطح پر بحران پیدا کر رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی تعلقات اور خطے کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
میریس نے مزید کہا، "بین الاقوامی برادری کو ایران میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سخت موقف اختیار کرنا چاہیے اور حکومت کو اپنی عوام کی خدمت پر مجبور کرنا چاہیے۔”
عالمی رہنماوں کی توجہ اور ممکنہ سیاسی اثرات
جرمن چانسلر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران کے اندرونی بحران اور امریکی دباؤ کے پیشِ نظر عالمی سطح پر ایران کی خارجہ پالیسی اور سیاسی قیادت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ متعدد یورپی ممالک اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے بھی ایران میں مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کی ہے اور ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پرامن مظاہرین کے حقوق کا احترام کرے۔
ماہرین کے مطابق، عالمی رہنماوں کی جانب سے ایران کے موجودہ نظام پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور سخت بیانات کا مقصد نہ صرف انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے بلکہ ایران میں سیاسی اصلاحات اور حکومتی شفافیت کے لیے بھی ماحول پیدا کرنا ہے۔
نتیجہ
چانسلر فریڈرش میرس کے بیان کے مطابق، ایران کی حکومت کے دن واقعی گنے جا چکے ہیں، اور عالمی برادری کی توجہ کے ساتھ ایران میں جاری مظاہروں اور کریک ڈاؤن کے واقعات مستقبل میں سیاسی اور معاشرتی تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایران کی اندرونی سیاست، خطے کی سلامتی اور عالمی تعلقات کے تناظر میں ایک سنگین اور حساس موضوع بن چکی ہے، جس پر بین الاقوامی مبصرین مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔



