مشرق وسطیٰاہم خبریں

ایرانی تیل کے جہاز ضبط، بھارت کا سفارتی دوغلا پن بے نقاب

ضبط شدہ جہازوں کے نام ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی ہیں

تہران: بھارت نے ایک بار پھر اپنے مفادات کے مطابق عالمی سیاست میں متضاد اقدامات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جس میں ایرانی تیل بردار تین جہازوں کی ضبطی ایک اور بڑا معاملہ بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ اقدام بھارت کے سفارتی دوغلے پن کو بے نقاب کرتا ہے، جس میں اس نے اپنے مفادات کو زیادہ اہمیت دی ہے اور ایرانی حکومتی مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے کارروائی کی ہے۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ:

ایرانی میڈیا کے مطابق، بھارتی کوسٹ گارڈ نے بحیرہ عرب میں تین ایرانی آئل ٹینکروں کو روکا، جو ممبئی سے تقریباً 100 سمندری میل دور تھے۔ ان جہازوں کا تعلق ایران سے تھا اور انہیں اسمگلنگ کے الزام میں روکا گیا۔ ضبط شدہ جہازوں کے نام ال جافزیہ، ایسفالٹ اسٹار اور اسٹیلر روبی ہیں۔ ان تینوں جہازوں پر ایرانی تیل کی منتقلی کی جا رہی تھی، اور بھارت نے انہیں اس الزام کے تحت اپنے قبضے میں لے لیا۔

بھارتی حکومتی موقف:

بھارتی حکام نے ان جہازوں کی ضبطی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی اسمگلنگ کے الزام میں کی گئی ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ بھارت کا موقف یہ ہے کہ ان جہازوں کو اس وقت روکا گیا جب ان میں اسمگل شدہ تیل کی منتقلی کی جا رہی تھی، جو کہ بھارتی قوانین کے خلاف ہے۔

ایران کا ردعمل:

ایران نے بھارتی اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس سے قبل بھارت کے چابہار بندرگاہ سے غیر متوقع واپسی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ بھارت نے چابہار بندرگاہ پر ایرانی مفادات کے تحفظ کے لیے معاہدہ کیا تھا، لیکن اب بھارت نے اپنے مفادات کی خاطر اس معاہدے سے پیچھے ہٹ کر ایران کے تیل بردار جہازوں کو ضبط کیا ہے، جو کہ ایران کو ایک سنگین دھچکا ہے۔

ایرانی حکام نے بھارت کی کارروائی کو "مفاد پرستی” اور "غداری” قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ قدم ایران کے ساتھ بھارت کے دوہری پالیسی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ "بھارت کا یہ اقدام ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت عالمی سیاست میں اپنے مفادات کے مطابق دوغلا پن اختیار کرتا ہے۔”

چابہار بندرگاہ سے واپسی:

چند ماہ قبل، بھارت نے امریکہ کے دباؤ کے بعد چابہار بندرگاہ سے اپنی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں، جو ایک اہم ایرانی تجارتی اور مواصلاتی مرکز ہے۔ بھارت نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ امریکی پابندیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم ایرانی حکام کے مطابق بھارت نے یہ قدم ایران کے مفادات کے خلاف اٹھایا تھا۔

چابہار بندرگاہ میں ایران کے ساتھ بھارت کا تعاون طویل عرصے سے جاری تھا اور اس سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں بہتری آ رہی تھی۔ بھارت نے چابہار بندرگاہ کو افغانستان تک اپنے تجارتی راستوں کو وسعت دینے کے لیے ایک اہم منصوبہ سمجھا تھا، لیکن امریکی دباؤ کے سامنے بھارت نے اس منصوبے سے پیچھے ہٹنا شروع کیا۔

مودی حکومت کی دوغلی پالیسی:

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی یہ دوغلی پالیسی اس کی خارجہ حکمت عملی کے بارے میں واضح سوالات اٹھاتی ہے۔ جہاں ایک طرف بھارت نے چابہار کے ذریعے ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کی، وہیں دوسری طرف امریکی دباؤ کے تحت وہ ایران کے مفادات کو نقصان پہنچانے میں بھی شریک ہو گیا۔ ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ مودی حکومت کی یہ حکمت عملی خود بھارت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف بھارت ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھا رہا تھا اور دوسری طرف ایران کے خلاف عالمی طاقتوں کی صف میں شامل ہو رہا ہے۔

ایران کے تیل کے جہازوں کی ضبطی:

بھارتی کوسٹ گارڈ کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہازوں کی ضبطی ایک اہم سوال اٹھاتی ہے: کیا بھارت عالمی سطح پر اپنے تجارتی اور سیاسی تعلقات کو صرف اپنے مفادات کی بنیاد پر برقرار رکھنا چاہتا ہے؟ ایران کے تیل کی منتقلی کا اس طرح ضبط ہونا نہ صرف ایران کے لیے ایک دھچکا ہے بلکہ یہ پورے عالمی تجارتی نظام میں بھارت کی کردار کو بھی مشکوک بناتا ہے۔

ماہرین نے بھارت کی خارجہ پالیسی کی سختی سے تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ مودی حکومت کی دکھاوے، جھوٹ اور دھوکے پر مبنی حکمت عملی اب مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے۔ ایران کے تیل کی ضبطی اور چابہار بندرگاہ سے بھارت کی واپسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی میں تضاد اور منافقت ہے، جس کا اثر اس کے عالمی تعلقات پر بھی پڑ رہا ہے۔

امریکی دباؤ اور بھارت کی پالیسی:

امریکی دباؤ اور عالمی سطح پر اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کے تحت بھارت نے چابہار بندرگاہ سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا، اور اب ایرانی تیل کے جہازوں کی ضبطی بھارت کی "مفاد پرستی” اور "ڈوپل اسٹینڈرڈ” پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ بھارت کی اس پالیسی نے نہ صرف ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کو کشیدہ کیا بلکہ اس نے عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔

اختتامیہ:

بھارت کا یہ اقدام ایک سنگین معاملہ بن چکا ہے جو عالمی سطح پر اس کی خارجہ پالیسی کی دوغلا پنی اور مفاد پرستی کو بے نقاب کرتا ہے۔ ایران کے تیل بردار جہازوں کی ضبطی اور چابہار بندرگاہ سے بھارت کی واپسی نے بھارت کے مفادات کو واضح طور پر نقصان پہنچایا ہے اور اس کی پالیسی کی حقیقت کو دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ بھارت کی حکمت عملی کا یہ دوہرا معیار صرف اس کی مشکلات کو بڑھاتا ہے اور اس کے عالمی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button