پاکستان

پاکستان: پی ٹی آئی کا دھرنا ختم ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی میں نیا موڑ، قیادت کے اختلافات اور آئینی حکمت عملی پر بحث

پارلیمنٹ کے اندر جاری دھرنا زیادہ باوقار اور آئینی نوعیت کا ہے، اور اس سے سیاسی پیغام زیادہ واضح انداز میں دیا جا سکتا ہے۔

سید عاطف ندیم-پاکستان وائس آف جرمنی کے ساتھ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دھرنے کے اچانک خاتمے نے سیاسی منظر نامے میں ایک نیا ابھار پیدا کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں کئی روز سے جاری سیاسی کشیدگی میں خیبر پختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز میں دھرنوں کے اختتام نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

دھرنا ختم ہونے کے بعد سیاسی کشیدگی کا نیا رخ

تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے دھرنے کا آغاز پارٹی کے بانی، عمران خان، کی صحت کے مسائل اور انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کے مطالبات کے ساتھ کیا تھا۔ اس دوران ریڈ زون میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے، جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اطراف کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں۔ سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند رہا تھا، اور پارٹی قیادت کی طرف سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ عمران خان کی صحت کی مکمل اور شفاف میڈیکل رپورٹ فراہم کی جائے، اور اگر ضرورت ہو تو انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔

تاہم، پیر کی صبح خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر قائم احتجاجی کیمپ اچانک ختم کر دیا گیا، جس کے بعد پارلیمنٹ لاجز میں موجود ارکان اسمبلی نے بھی اپنے احتجاجی مظاہرے ختم کر دیے۔ اس اچانک تبدیلی کو بعض حلقوں نے وقتی حکمت عملی قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کی علامت سمجھا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا اجلاس اور قیادت کے اختلافات

دھرنا ختم ہونے کے فوراً بعد، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کے پی ہاؤس میں صوبائی اسمبلی کے ارکان کا ایک اجلاس طلب کیا۔ بعض اطلاعات کے مطابق یہ اجلاس محمود خان اچکزئی نے طلب کیا تھا، تاہم تحریک تحفظ آئین کے ترجمان نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور دیگر ارکان پارلیمنٹ ابھی تک دھرنے پر موجود ہیں اور وہ دھرنا ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق، دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ صرف سکیورٹی یا انتظامی عوامل کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ اس فیصلے کے پیچھے قیادت کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بھی شامل ہیں۔ پارٹی کے بعض رہنماؤں کا ماننا تھا کہ سڑکوں پر دباؤ برقرار رکھا جائے، جبکہ دیگر رہنماؤں کا خیال تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر آئینی اور سیاسی دباؤ زیادہ مؤثر انداز میں ڈالا جا سکتا ہے۔

علیمہ خان کی کردار پر بحث اور سیاسی لچک کی ضرورت

دھرنے کے خاتمے کے بعد پارٹی کے اندر ایک اور بحث نے جنم لیا ہے، جس میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے کردار کو زیر بحث لایا گیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ پیشکش کی تھی کہ عمران خان کے جیل میں ہونے والے طبی معائنے کے دوران تحریک انصاف اپنی طرف سے کسی نمائندے کو نامزد کرے تاکہ اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، تاہم علیمہ خان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ پارٹی کے بعض حلقے اس فیصلے کو غیر ضروری سخت موقف قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سیاسی لچک نہ دکھانے سے پارٹی اور عمران خان دونوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس پر سوالات

خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ کچھ شرکا کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے جان بوجھ کر احتجاج کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر تک محدود رکھا اور سڑکوں پر دباؤ کم کر دیا، جس کے نتیجے میں احتجاج کی شدت متاثر ہوئی۔ تاہم، اپوزیشن اتحاد کے قریبی ذرائع نے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر جاری دھرنا زیادہ باوقار اور آئینی نوعیت کا ہے، اور اس سے سیاسی پیغام زیادہ واضح انداز میں دیا جا سکتا ہے۔

عمران خان کی صحت: میڈیکل رپورٹ اور سیاسی حکمت عملی

سیاسی بحران کے اس مرحلے پر عمران خان کی صحت کی صورتحال اور ان کی طبی دیکھ بھال ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کو عمران خان کے میڈیکل معائنے کے بعد 90 منٹ کی تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ پمز میں کیے جانے والے آنکھ کے علاج کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور ان کی بینائی میں بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ڈاکٹرز نے یہ بھی کہا کہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید پیشرفت متوقع ہے، لیکن مکمل بحالی کے لیے مسلسل طبی نگرانی ضروری ہے۔

حکومت کی جانب سے شفافیت کا دعویٰ

دریں اثنا، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ عمران خان کا طبی معائنہ اڈیالہ جیل میں حکومتی ہدایات کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ کرایا گیا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق سوجن میں کمی آئی ہے اور بینائی میں بہتری آ رہی ہے، تاہم کوئی بڑی پیچیدگی سامنے نہیں آئی۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ قیدی کی حیثیت کے باوجود عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

آنے والے دنوں میں صورتحال کا جائزہ

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کا اجراء اور پارٹی قیادت کے اندر جاری رابطے اس بحران کی سمت طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ آنے والے دنوں میں اس صورتحال کے مزید پیچیدہ ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر اگر حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان میڈیکل رپورٹ کو لے کر مزید اختلافات سامنے آئیں۔

نتیجہ: آئندہ کے لائحہ عمل کا انحصار میڈیکل رپورٹ پر

تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اس معاملے پر فی الحال محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ کا لائحہ عمل میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں طے کیا جائے گا۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر میڈیکل رپورٹ مثبت نتائج کی حامل ہوتی ہے تو یہ سیاسی بحران کے حل کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے، ورنہ کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button