
ویانا،: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے آسٹریا کے کاروباری طبقے کو پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، خصوصاً زراعت، آئی ٹی، معدنیات و کان کنی، سیاحت، ٹیکسٹائل، لیدر، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ، اور دیگر صنعتی شعبوں میں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ویانا میں پاکستان-آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دونوں ممالک کی نمایاں کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی دوستانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آسٹرین کمپنیاں پاکستان میں دہائیوں سے کام کر رہی ہیں، لیکن ماضی قریب میں مختلف وجوہات کی بنا پر اس میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمی کو دور کرنے کے لیے دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں نئے امکانات اور تجارتی مواقع موجود ہیں۔
پاکستان اور آسٹریا کے تجارتی تعلقات
وزیراعظم نے کہا کہ آسٹریا کی کئی کمپنیاں پاکستان میں قابل تجدید توانائی، معدنیات و کان کنی اور سیاحت کے شعبے میں پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور ان شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے کے مواقع ہیں۔ انہوں نے آسٹریا کے چانسلر کرسچئین اسٹاکر کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کو بہت مثبت اور تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں میں طے ہونے والے امور پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آسٹریا کے دیرینہ تعلقات کی بنیاد تاریخی حقائق پر ہے، اور اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ آسٹریا کا پاکستان کے قابل تجدید توانائی اور کان کنی کے شعبے میں تعاون قابل تعریف ہے۔
پاکستان کی نوجوان نسل اور آئی ٹی کا شعبہ
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ہماری نوجوان نسل بہت باصلاحیت ہے۔ حکومت نے آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر آئی ٹی کی تعلیم اور تربیت کو فروغ دینے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی ترقی کے لیے حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں خصوصی طور پر آئی ٹی اور ڈیجیٹل سکلز پر زور دیا گیا ہے۔
زرعی شعبے میں آسٹریا کے تعاون کا خیرمقدم
وزیراعظم نے زرعی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا ایک اہم انحصار زراعت پر ہے، اور 60 فیصد پاکستانی آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی، خصوصاً گندم، مکئی اور گنے کی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں آسٹریا کے تعاون کا خیرمقدم کیا جائے گا، کیونکہ اس ملک کا زرعی شعبے میں وسیع تجربہ اور مہارت ہے۔
معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں تعاون
وزیراعظم نے پاکستان کے قدرتی وسائل کو دیکھتے ہوئے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں بھی آسٹریا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ہے اور اس شعبے میں مزید تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان میں سیاحت، قابل تجدید توانائی، انجینئرنگ، ٹیکسٹائل، لیدر، ہائیڈرو پاور، سولر، بائیو ماس، سمارٹ سلوشنز، گرڈ ماڈرنائزیشن، انڈسٹریل آٹومیشن، مشینری اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے بھرپور مواقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان معاشی شعبے میں شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے، اور اپریل میں اسلام آباد میں پاکستان ای بزنس فورم کا انعقاد کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے آسٹریا کے سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان آئیں، حکومت ان کی بھرپور میزبانی کرے گی اور وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لیں۔
اسحاق ڈار کا خطاب اور اقتصادی اقدامات
قبل ازیں، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے فورم کا انعقاد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور چانسلر کرسچئین اسٹاکر کے درمیان تعمیری بات چیت ہوئی، اور وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے معاشی سفارتکاری پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا محل وقوع اور معاشی مواقع اسے ایک اہم مارکیٹ بناتے ہیں، اور معاشی استحکام کے لیے حکومت نے متعدد اصلاحات کی ہیں۔
پاکستان کی معیشت میں بہتری کی جانب گامزن
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور حکومت نے معاشی ترقی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کی بدولت ٹیکنالوجی اور جدت کے شعبے میں آسٹریا کے لیے خصوصی مہارت کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے دوطرفہ تجارت کے حجم کو بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ تجارتی حجم دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی درست عکاسی نہیں کرتا۔
پاکستان اور آسٹریا کے کاروباری تعلقات کا مستقبل
فورم میں دونوں ممالک کی کاروباری شخصیات اور کمپنیوں کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف شعبوں میں شراکت داری کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور کئی اہم معاہدوں اور تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس فورم کا مقصد نہ صرف پاکستان اور آسٹریا کے مابین تجارتی تعلقات کو فروغ دینا تھا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی نئی راہیں کھولنا بھی تھا۔
نتیجہ: سرمایہ کاری کے نئے امکانات
پاکستان اور آسٹریا کے مابین سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھل رہی ہیں، اور پاکستان آسٹریا کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اور پرکشش مارکیٹ بن چکا ہے۔





