کالمزانعام الحسن کاشمیری

خورشیدِ ملت… کے ایچ خورشید ..روشن تاریخ کا سنہری کردار…….انعام الحسن کاشمیری

شبنم… جسے گھروالوں نے خورشیدکہا‘ درس گاہوں میں جس کانام خورشید حسن پکاراگیا‘ اورجس نے اپنانام خورشید حسن خورشید لکھا، تاریخ نے اسے کے ایچ خورشید کے لقب سے اپنے گوشہ ٔ دامن میں اس طرح جگہ دی کہ اس پر پھر اِسی نام کاکتبہ آویزاں ہوگیا۔ ہرروز طلوع ہونے والاخورشید…کے ایچ خورشید کے اس کتبہ کی چاشنی کواوربڑھادیتاہے۔

قسمت جس پراوائل شباب سے ہی مہربان ہوگئی ،اور مہربان بھی ایسے کہ اسے پہلے ہی مرحلے میں آکاش جیسی رفعت عطاکردی۔ جس نے منزل کاخواب دیکھا،اور اگلے ہی لمحے اس کی تعبیر بھی پالی۔ بچپن‘ لڑکپن ‘ نوجوانی اورجوانی کی منزلیں طے کرتے کرتے پیشترکہ وہ پختہ عمر کی دہلیز پرقدم رکھتا،قدرت نے خود ہی اسے ایسی شعوری پختگی عطاکردی، جواس سے دوگنی عمروں کے حاملین کاخاصاتھا۔ کوہساروں کی بلندیوں پر چڑھتے چڑھتے شاید اُس کے ذہن کے کسی گوشے میں کسی لمحے، کسی پل یہ خیال آیاہوکہ کیاقسمت اسے بھی ایسی ہی بلندی عطاکریگی اورپھراپنے اس خیال پروہ مسکرادیاہو،لیکن قسمت اُس کی اِس مسکراہٹ پرفداہوگئی ہواوراس نے اپنے بازوپھیلاتے ہوئے آہستگی سے کہاہو’’ ہمالیہ کی بلندیوں کی حدہے لیکن تیری قسمت میں جوعروج لکھ دیاگیاہے،اس کی انتہانہیں…وقت بیتتاچلاجائے گا،اورتیری قسمت کاہمالیہ بلندسے بلندترہوتاچلاجائے گا‘‘۔ پھرکون ہے جو اس بات پربآسانی یقین کرلے کہ گل و چمن کی وادیوں‘ زعفران و چنار کے مرغزاروں‘ پھوٹتے چشموں اور مترنم ندیوں کے دیس ‘ سروو صنوبر اورچیڑودیار سے بھرے کوہساروں کے دامن سے ایک خوش بخت ایسابھی جنم لے گا،جسے قسمت سینچے گی توانہی پہاڑوں اوروادیوں میں ،لیکن پھر اسے ایسی ہستی کی آغوش محبت میں لاڈالے گی جسے مورخین نے لاریب بیسویں صدی کا سب سے عظیم ترین رہنماقراردیا۔خورشید…ایک آفتاب‘ ایک روشنی‘ ایک چاندنی ‘ تاریخ کی دل ربا خوشبو‘ قلوب واذہان کو معطرکرنے والی ایک بادِ نسیم اوردم ِ سحر گُل کی تنہائی کاساتھی شبنم… جسے گھروالوں نے خورشیدکہا‘ درس گاہوں میں جس کانام خورشید حسن پکاراگیا‘ اورجس نے اپنانام خورشید حسن خورشید لکھا، تاریخ نے اسے کے ایچ خورشید کے لقب سے اپنے گوشہ ٔ دامن میں اس طرح جگہ دی کہ اس پر پھر اِسی نام کاکتبہ آویزاں ہوگیا۔ ہرروز طلوع ہونے والاخورشید…کے ایچ خورشید کے اس کتبہ کی چاشنی کواوربڑھادیتاہے۔
کے ایچ خورشید کو یہ اعزازحاصل ہے کہ وہ نوعمری میں ہی‘ جبکہ وہ ابھی بی اے بھی نہ کرپائے تھے ، قائداعظم کی خواہش پر ان کے پرائیویٹ سیکرٹری مقررہوگئے۔یہ قصہ بڑادلچسپ ہے۔ 1944ء کے موسم گرمامیں قائداعظم کشمیر کی سیاحت کے لئے تشریف لے گئے۔ اس دوران کے ایچ خورشید جو کشمیرمسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے بانی جنرل سیکرٹری اورایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیاکے سری نگرمیں اعزازی نامہ نگار بھی تھے‘ روزانہ قائداعظم کے پاس حاضر ہوتے اورانہیں برصغیر کے دیگرعلاقوں کی خبروں سے آگاہ کرتے۔ ذہین و فطین اس نوعمر لڑکے کاانداز بڑامتاثرکن اورطرب انگیز ہوتاجس کی اثرانگیزی سے قائداعظم جیسی عظیم شخصیت بھی محفوظ نہ رہ سکی اورانہوں نے واپسی سے قبل ہی کے ایچ خورشید کو پرائیویٹ سیکرٹری بننے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ’’ میں ڈگری پریقین نہیں رکھتاکہ ڈگری اورصلاحیت دوعلیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔ میرے پاس علی گڑھ سے لے کر آکسفورڈ تک کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی کثیرتعداد اس اسامی کے لئے امیدوارہے لیکن میں سمجھتاہوں کہ تم یہ کام زیادہ بہترانداز میں کرسکوگے۔ ‘‘کے ایچ خورشید اس بارے میں خودکہتے ہیں’’ فوری طورپرتومجھے اپنی سماعت پر یقین نہیں آیااورمیں شایدحواس باختہ ہوگیالیکن قائداعظم نے ڈھارس بندھواتے ہوئے کہا کہ اس پیش کش پر فوری ردعمل کی بجائے غورو فکرکے بعدجواب دینا‘‘اورپھرجب قائداعظم واپس تشریف لائے‘ توکے ایچ خورشید جواس وقت تک خورشید حسن ہی تھے‘ پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے قائداعظم کے ہم رکاب تھے ۔ یہ جوان رعنا ایک ایسے دور میں قائداعظم کے اعتماد اوران کے یقین پرپورااترنے میں ہرطرح کامیاب رہاجبکہ تحریک پاکستان کانقطہ عروج تھااوروہ اپنی منزل پالینے کی آخری حدوں کو چھورہی تھی۔ قائداعظم کا کام نہ صرف بے حد بڑھ چکاتھابلکہ اس قدر نازک بھی کہ زراسی غلطی یالاپرواہی تحریک پاکستان کو برسوں پیچھے دھکیل سکتی تھی اورممکن ہے کوئی لغزش مقصدکے حصول سے محروم بھی کردیتی لیکن قسمت نے جسے جس کام کے لئے منتخب کیاہوتاہے ،اس کی راہیں آسان کردیتی ہے اورہربامِ نصرت کی کلید اس کے دستِ جفاکش میں تھمادیتی ہے۔اس ہنگامہ خیز دور میں کے ایچ خورشید کی ذمہ داریوں کی تٖفصیل کابیان، اس کالم کی تنگیٔ داماں کے پیش نظرممکن نہیںچنانچہ اس مضمون میں حیات ِ خورشید کی ہلکی سی کرن کانظارہ ہی پیش کیاجارہاہے۔ یہی نہیں کہ قائداعظم ہی کے ایچ خورشید کوپسندکرتے تھے‘ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کی آغوش مادرکی خوشبو نے بھی خورشید کواپنی آغوش میں لئے رکھا۔ مادرملت کے کہنے پر ہی خورشید قیام پاکستان کے بعدبیرسٹری کرنے لندن تشریف لے گئے اورجب واپس آئے‘ تواپنی عم زادمحترمہ ثریاسے شادی کرکے انہیں بھی اپنے ہمراہ مادرملت کی رہائش گاہ پر ہی لے آئے جہاں وہ کئی برس تک قیام پذیررہے۔ اس دورکی یادوں کے بارے میں ثریاخورشید نہایت خوبصورت کتاب’’ یادوں کی کہکشاں‘‘ قرطاس قلم کرچکی ہیں۔ اس کے مطالعہ سے ایسالگتاہے جیسے ہم خود مادرملت کے مہمان ہیں اورمہمان بھی چندروزکے نہیں،برس ہا برس کے۔ایک پورے دورکی مکمل تصویرآنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ بعد میں جب مادرملت نے قوم کے اصرارپر صدارتی انتخاب لڑاتوخورشید ان کے چیف پولنگ ایجنٹ تھے۔ اس سے قبل جب آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی طرف سے خورشید کو آزادکشمیر کی صدارت کے لئے منتخب کیاگیاتوخورشید نے اجازت کیلئے مادرملت کی جانب دیکھا۔ مادرملت نے کمال شفقت فرماتے ہوئے کہاکہ ’’ خورشید ۔ کشمیرتمھاراوطن ہے‘ ممکن ہے صدربن کے تم ان کے لئے کچھ کرسکو‘‘ اورپھر1959ء میں صدربن کر خورشید نے کشمیر اورکشمیریوں کے لئے بہت کچھ کیا۔ اس وقت تک کشمیر کے صدر کاانتخاب حکومت پاکستان کرتی تھی اوراس کا طریقہ کاربھی نہایت رسواکن تھالیکن خورشید نے صدربننے کے بعد باقاعدہ قانون سازاسمبلی کاقیام عمل میں لایااورکشمیریوں کو یہ حق دیاکہ وہ جمہوریت کے ذریعے اپنے حاکم کاانتخاب کریں۔اسی اصول کے تحت خورشید1962ء میں دوبارہ صدرمنتخب ہوئے۔کشمیرکونسل بھی انہوں نے قائم کی تاکہ حکومت پاکستان اورریاستی حکومت مل کر کشمیر کی ترقی و بہتری کے لئے اقدامات کرسکیں۔ خورشید کے دور میں کشمیر کے اندرسڑکوں کا جال بچھایاگیا۔ بھمبرسے نیلم تک کی سڑکیں اسی دورمیں تعمیر ہوئیں حالانکہ اس وقت اقوام متحدہ اورحکومت پاکستان نے ان سڑکوں کی تعمیر پراعتراضات کئے تھے کہ جب تک مسئلہ کشمیرمکمل طورپرحل نہیں ہوجاتاتب تک کسی قسم کے ترقیاتی کام نہ کروائے جائیں لیکن خورشید کا موقف تھاکہ آزادکشمیر ایک آزادریاست ہے اورباقی ماندہ کشمیر بھی ایک د ن آزادہوکر،اسی ریاست کاحصہ بنے گاجو پاکستان سے ملحق ہے،اس لئے کشمیریوں کا یہ حق ہے کہ وہاں پرتعمیر وترقی کی رفتارتیزترکی جائے۔ سکول و کالج بڑے پیمانے پر قائم کئے گئے۔ مظفرآبادشہر میں مشاعروں کااہتمام ہونے لگااوریوں ادبی فضاپروان چڑھنے لگی۔ کھیلوں کوعروج دیاگیا۔ مظفرآبادکانیلم سٹیڈیم اسی دورکی یادگارہے۔ تحریک آزادیٔ کشمیرکوپروان چڑھانے کے لئے خورشید نے دوران صدارت ہی جموں و کشمیرلبریشن لیگ کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنائی اورپھربعد کی سیاست اسی پلیٹ فارم سے کرتے رہے۔ خورشید جب تک صدرتھے‘ دوکمروں پر مشتمل ایوان ِ صدرمیں رہے لیکن اس کی توسیع نہیں کی ۔ سرکاری ملازمین واپس کردئیے اورسرکاری اشیاء کاذاتی استعمال کرنے سے حتی الوسع گریز کیا۔ ایک بار بیٹی یاسیمین اپنی والدہ سے ضدکرکے فلیگ کارمیں قریب ہی واقع سکول چلی گئی۔خورشید کو پتاچلاتوسخت برامنایا۔ سانحہ مشرقی پاکستان روکنے کے لئے ڈھاکہ گئے اوریونیورسٹی میں تاریخی خطاب کیا۔ خورشید کے بارے میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ خودمختارکشمیر کے حامی تھے ۔ یہ امرخلاف حقیقت ہے۔ وہ محض یہی چاہتے تھے کہ پہلے پوراکشمیر آزادہولے،اس کے بعد اسے پاکستان کاحصہ بنادیاجائے۔ وہ خود کہاکرتے تھے کہ ہم تکمیل ِ پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں۔ وہ کشمیر کی آزادی کے لئے ہرحربہ جائزسمجھتے تھے ۔انہوں نے مختلف اوقات میں قیدو بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ خورشیدنے کشمیریوں کی انااوران کے جذبۂ خودی کی حفاظت کے لئے کسی قربانی سے گریز نہیں کیا۔ جب دیکھاکہ صدرہونے کے باوجود ان کے معاملات میںمرکزی حکومت دانستہ دخل اندازی کررہی ہے‘ تو استعفیٰ دے دیا۔کشمیر کی آزادی کے لئے وہ تا دم ِ آخرمتحرک رہے۔ ہرارے میں ہونے والی غیرجانبدارممالک کی کانفرنس میں ، حکومت پاکستان کی پابندی کے باوجود پہنچ کرمسئلہ کشمیرسے عالمی رہنمائوں کو بھرپوراندازمیں متعارف کروایا۔ خورشید کی زندگی استغناء کااستغارہ تھی ۔ وکالت سے جوکچھ کماتے،اپنی سیاست پرصرف کردیتے۔ سردارعبدالرب نشترنے جومکان ان کیلئے الاٹ کروایاتھا،جب مقبوضہ کشمیر میں گرفتارہوئے تواس دوران اس مکان پرکسی اورنے قبضہ کرلیااورجب بیگم ثریانے کہا کہ اب وہ صدرہیں‘ ایسے میں مکان واپس لیناناممکن نہیںتوخورشید نے کہا’’ میراعہدہ عوام کی امانت ہے،یہ ان کی خدمت کے لئے ہے ،نہ کہ ذاتی جائیدادیں بنانے کے لئے‘‘ حالانکہ بیگم تواپنامکان ہی واپس لینے کاکہ رہی تھیں لیکن خورشید کی انانے یہ بھی گوارانہ کیاکہ اپنے منصب کواس کام کے لئے استعمال کریں۔ قیام پاکستان کے بعدخورشیدواپس کشمیر گئے اورگرفتارہوگئے۔ اسی دوران قائداعظم انتقال کرگئے‘ توحکومت پاکستان نے ان کی ملازمت ختم کردی۔ جب واپس آئے توملازمت بحالی کی پیش کش کی گئی لیکن وہ آمادہ نہ ہوئے کہ وہ اسے اپنی خودی پرضرب خیال کرتے تھے۔وہ کئی برس قائداعظم کے سیکرٹری رہے ۔ بعد میں جبکہ کئی لوگ اس منصب پرفائز رہنے کے جھوٹے دعوے کرکے بے شمار فوائد سمیٹنے میں کامیاب رہے لیکن خورشید نے کبھی ایسی خودنمائی نہیں کی۔ خورشید نے ایسی زندگی بسرکی کہ کسی گزرے پل اورکسی عمل پرپچھتاوانہ ہوبلکہ ان کا دل ہمیشہ فخروانبساط کی کیفیت سے معموررہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وفات کے وقت ان کی جیب میں چندروپے تھے۔ وہ میرپورایک اجلاس میں شرکت کرنے کے بعدایک فلائنگ کوچ سے لاہورواپس آرہے تھے کہ گوجرانوالہ بائی پاس پر یہ فلائنگ کوچ ایک ٹرالی سے ٹکراگئی اور3جنوری1924ء کو کشمیر کی وادیوں میں طلوع ہونے والا آفتاب 11 مارچ 1988ء کی شام پنجاب کے زرخیز میدانوں میں ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔ ان کا جسدخاکی مظفرآبادلے جایاگیا جہاں لاکھوں پرنم آنکھوں نے اپنے اس محبوب قائدکوالوداع کہا۔ ان کی آخری آرام گاہ مظفرآبادسی ایم ایچ روڈ پرواقع ہے ۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button