کاروبارتازہ ترین

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، پیٹرول 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہو گیا

یکم مارچ سے ابھی تک وفاقی حکومت 129 ارب روپے عوام کے تحفظ (قیمتوں کے حوالے سے) کے لیے خرچ کر چکی ہے

انصار ذاہدسیال-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
جمعرات کی رات کو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’بین الاقوامی مارکیٹوں کی مہنگائی کو دکھتے ہوئے پیڑول کی کل سے قیمت 458 روپے 40 پیسے اور ڈیزل 520 روپے 35 پیسے ہو گی۔‘
حکومتی اعلان کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان میں پیٹرول 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا تھا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم نے مزید کہا کہ یہ معاملہ (پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا) پچھلے چند ہفتوں کے اندر بگڑتا جا رہا ہے، تو جو ہم نے مارکیٹوں کے اندر، عالمی منڈی کے اندر جو خام تیل کی قیمت ہے خاص کر دبئی اور عمان کی منڈیوں کی قیمت، جہاں سے پاکستان 80، 90 فیصد اپنی توانائی حاصل کرتا ہے، وہاں پر ریکارڈ اضافہ دیکھا ہے۔ اور نہ صرف خام تیل بلکہ ڈیزل بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، اور 250 ڈالر پر بیرل سے بھی اوپر ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یکم مارچ سے ابھی تک وفاقی حکومت 129 ارب روپے عوام کے تحفظ (قیمتوں کے حوالے سے) کے لیے خرچ کر چکی ہے۔ اور یہ ان حالات میں کیا گیا جب آپ کو توانائی کی سپلائی لائن بھی بنانی تھی۔
اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عوام کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی پروگرام کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ ریلیف انہی طبقات تک پہنچنا چاہیے جو اس کے حقیقی حق دار ہیں۔ وزیراعظم کی قیادت میں وسائل کا رخ وہاں مورا جائے گا جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ’موٹرسائیکل سواروں کے لیے 100 روپے پر لیٹر کی سبسڈی کا اعلان کر رہے ہیں اور یہ ہر مہینے 20 لیٹر تک پیٹرول پر ہو گا۔ یہ سبسڈی اگلے تین مہینے کے لیے دی جائے گی۔‘
’دوسرا آگے کٹائی بھی آ رہی ہے تو چھوٹے زمینداروں کے لیے 1500 پر ایکٹر سبسڈی ایک دفعہ دی جائے گی، کیونکہ کٹائی میں ڈیزل کا استعمال زیادہ ہوتا ہے تو اس میں ان کی پوری امداد کی جائے۔‘
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ ’اسی طرح انٹرسٹی ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے لیے جو گاڑیاں ڈیزل پر چلتی ہیں، ان کے لیے بھی 100 روپے پر لیٹر کی سبسڈی ہو گی اور ہم مہینہ وار اس کا جائزہ لیں گے۔ اسی طرح سامان لے جانے والے ٹرکوں کے لیے 70 ہزار روپے فی مہینہ ایک ٹرک سبسڈی دی جائے گی۔ اسی طرح مال برداری کی بڑی گاڑیوں کے لیے 80 ہزار روپے مہینہ ایک گاڑی اور مسافروں بسوں کے لیے ایک لاکھ روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔‘

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button