کاروبارتازہ ترین

واشنگٹن میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی عالمی بینک عہدیدار سے ملاقات، اصلاحات اور سماجی تحفظ پر زور

اس حوالے سے پہلے اور دوسرے درجے کے معاشی اثرات، جیسے توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی رکاوٹیں اور سرمایہ کاری کے بہاؤ پر پڑنے والے اثرات زیرِ غور آئے۔

مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز

واشنگٹن ڈی سی: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک-آئی ایم ایف بہار اجلاس 2026 کے موقع پر اپنی مصروفیات کا آغاز ورلڈ بینک گروپ کی منیجنگ ڈائریکٹر (آپریشنز) اینا بجرڈے سے ایک اہم اور نتیجہ خیز ملاقات سے کیا، جس میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے، ترقیاتی ترجیحات اور سماجی تحفظ کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اصلاحاتی ایجنڈا اور عالمی تعاون

ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کے لیے ورلڈ بینک گروپ کی مسلسل اور دیرینہ حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں بین الاقوامی شراکت داری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت پاکستان معیشت کی بحالی، استحکام اور پائیدار ترقی کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔

دونوں فریقوں نے پاکستان کے معاشی منظرنامے کا جائزہ لیا، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے اثرات پر بھی بات چیت کی۔ اس حوالے سے پہلے اور دوسرے درجے کے معاشی اثرات، جیسے توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی رکاوٹیں اور سرمایہ کاری کے بہاؤ پر پڑنے والے اثرات زیرِ غور آئے۔

سماجی تحفظ پر اتفاق

اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ بیرونی معاشی جھٹکوں کا سب سے زیادہ اثر معاشرے کے کمزور طبقات پر پڑتا ہے، اس لیے سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مختلف پروگرامز پر کام کر رہی ہے، اور اس ضمن میں عالمی بینک کی تکنیکی و مالی معاونت نہایت اہم ہے۔

کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کا جائزہ

ملاقات میں کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (CPF) کے تحت جاری منصوبوں اور پیش رفت کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقوں نے تعلیم، صحت، توانائی، اور گورننس جیسے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا، تاہم اس بات پر بھی زور دیا کہ طے شدہ اہداف کے مکمل حصول کے لیے مزید مربوط اور مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔

آبادیاتی چیلنجز اور ماسٹر پلان

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کو درپیش بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنجز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ انہوں نے عالمی بینک گروپ سے درخواست کی کہ وہ ایک جامع قومی ماسٹر پلان کی تیاری میں پاکستان کی معاونت کرے تاکہ وسائل کے مؤثر استعمال اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

مستقبل کی حکمت عملی

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ:

  • معاشی اصلاحات کو تیز کیا جا سکے
  • سماجی تحفظ کے نظام کو مؤثر بنایا جا سکے
  • ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کو بہتر بنایا جا سکے

نتیجہ

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کو داخلی و خارجی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی بینک کے ساتھ قریبی تعاون نہ صرف مالی استحکام میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ملک میں پائیدار ترقی اور سماجی بہتری کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button