یورپتازہ ترین

ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کے بحران سے یورپی باشندوں کو 22 بلین یورو کا نقصان، فان ڈئر لاین

فان ڈئر لاین نے کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے یورپی یونین میں درآمد کیے جانے والے ایندھن پر اٹھنے والے اخراجات میں 22 بلین یورو (25.7 بلین ڈالر) کا اضافہ ہو چکا ہے۔

یورپی یونین کے کمیشن کی خاتون صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے کہا ہے کہ یونین کے رکن 27 ممالک کو اس لیے اور بھی قریبی اشتراک عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کہ اس یورپی بلاک کے باشندوں پر ایران جنگ اور اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے خطے میں موجودہ بحران کے پیدا کردہ ہوش ربا اثرات اور نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔

برسلز میں یورپی یونین کے صدر دفاتر سے پیر 13 اپریل کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے جو جنگ شروع ہوئی، آج پیر کو اس کا 44 واں دن ہے۔

فان ڈئر لاین نے کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے یورپی یونین میں درآمد کیے جانے والے ایندھن پر اٹھنے والے اخراجات میں 22 بلین یورو (25.7 بلین ڈالر) کا اضافہ ہو چکا ہے۔

یورپی یونین کے رکن ملک قبرص میں مائع قدرتی گیس کے ایک ٹرمینل کی فضا سے لی گئی تصویر
یورپی یونین کے رکن ملک قبرص میں مائع قدرتی گیس کے ایک ٹرمینل کی فضا سے لی گئی تصویرتصویر: Danil Shamkin/NurPhoto/picture alliance

یورپی کمیشن کی صدر کا کہنا تھا، ’’یہ اربوں یورو کی اضافی رقوم ظاہر کرتی ہیں کہ اس جنگ اور بحران کی وجہ سے ہماری معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کتنے شدید ہیں۔‘‘

فان ڈئیر لاین کے الفاظ میں، ’’ہم اپنے ہاں معدنی ایندھن کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کی بہت بڑی قیمت چکا رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی وکالت بھی کی کہ یورپی یونین میں توانائی کی پیداوار کے ذرائع کے طور پر قابل تجدید توانائی اور جوہری توانائی کے استعمال کو بھی تیز رفتاری سے وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

یورپی کمیشن کی سربراہ نے کہا، ’’یورپ کی توانائی کی ضروریات کے لیے بجلی پر زیادہ سے زیادہ انحصار سے یورپ مزید خود کفیل اور خود مختار ہو جائے گا۔‘‘

برلن میں ایک پٹرول پمپ پر لی گئی تصویر
یورپی یونین کی ایندھن کی درآمدات پر اٹھنے والے اخراجات میں 22 بلین یورو کا اضافہ ہو چکا ہےتصویر: Lisi Niesner/REUTERS

انہوں نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ شعبوں میں توانائی کے ذریعے کے طور پر بجلی کے استعمال کے تناسب کے لحاظ سے یورپ ابھی تک امریکہ اور چین سے بھی پیچھے ہے اور یہ فرق جلد از جلد ختم کیا جانا چاہیے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button