بین الاقوامیاہم خبریں

مشرقِ وسطیٰ تنازع: کوئی فوجی حل ممکن نہیں، اقوام متحدہ کا مذاکرات جاری رکھنے پر زور

ترجمان کے مطابق جنگ بندی کا برقرار رہنا خطے میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

مدثر احمد-امریکہ،وائس آف جرمنی اردو نیوز

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا ہے کہ ہفتوں کی شدید تباہی اور انسانی بحران کے بعد یہ واضح ہو چکا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، اور دیرپا امن کے لیے صرف سفارتی راستہ ہی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد مذاکرات مثبت قدم قرار

ترجمان نے اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فوری طور پر کوئی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم یہ بات چیت خود ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات نے فریقین کی سنجیدگی کو ظاہر کیا اور مستقبل میں مزید بامعنی مذاکرات کی راہ ہموار کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق گہرے اختلافات کے باعث کسی بھی معاہدے تک فوری رسائی ممکن نہیں، اس لیے مذاکرات کا سلسلہ تعمیری انداز میں جاری رکھنا ناگزیر ہے۔

جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور

اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کا مکمل احترام کریں اور ہر قسم کی خلاف ورزیوں سے گریز کریں۔ ترجمان کے مطابق جنگ بندی کا برقرار رہنا خطے میں انسانی بحران کو کم کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان سمیت ثالثی کرنے والے ممالک کی تعریف

اقوام متحدہ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کا انعقاد ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، مصر اور ترکی کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا گیا۔

اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ثالثی کوششوں کی بھرپور حمایت کرے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

آبنائے ہرمز اور عالمی تجارت پر اثرات

ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کا احترام کرنا چاہیے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ موجودہ تنازع کے باعث تقریباً 20 ہزار بحری جہاز متاثر ہوئے ہیں، جو شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں:

  • عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے
  • ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے
  • عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے

خوراک اور مہنگائی کا بحران

اقوام متحدہ کے مطابق کھاد اور زرعی اجزاء کی فراہمی میں خلل کے باعث دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے لاکھوں کمزور افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی اداروں کی کوششیں

اقوام متحدہ کے تحت یو این او پی ایس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جارج موریرا دا سلوا، یو این سی ٹی اے ڈی، انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس کے ساتھ مل کر ایک ایسے میکانزم پر کام کر رہے ہیں جو سمندری تجارت کو محفوظ بنانے اور متاثرہ جہازوں کی مشکلات کم کرنے میں مدد دے سکے۔

خصوصی ایلچی کی سرگرمیاں

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذاتی ایلچی جین آرنالٹ خطے میں مسلسل متحرک ہیں اور اہم اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ ان کی کوششوں کا مقصد ایک جامع اور پائیدار امن معاہدے کے لیے فریقین کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینا ہے۔

نتیجہ

اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مسلسل سفارتکاری، مذاکرات اور عالمی تعاون میں مضمر ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا تو خطے میں دیرپا امن کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں، بصورت دیگر یہ تنازع عالمی معیشت اور سلامتی کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button