
امریکہ نے ہرمز کی ناکہ بندی شروع کردی، ٹرمپ نے کہا کہ ناکہ بندی کے قریب آنے والے کسی بھی بحری جہاز کو تباہ کردیا جائے گا
یہ ناکہ بندی تمام بحری جہازوں پر لاگو ہوتی ہے،چاہے ان کا پرچم کچھ بھی ہو۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ قدم صدارتی حکم کے بعد اٹھایا اور ایرانی بندرگاہوں بشمول خلیج عرب اور خلیج عمان میں داخل ہونے اور جانے والی تمام سمندری ٹریفک کو نشانہ بنائے گا۔ یہ ناکہ بندی تمام بحری جہازوں پر لاگو ہوتی ہے، چاہے ان کا پرچم کچھ بھی ہو۔ اس کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا ہے۔
چین کا رد عمل
چینی وزیر دفاع ایڈمرل ڈونگ جون نے کہا کہ ہم دنیا میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہیں۔ "ہم مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارے بحری جہاز آبنائے ہرمز کی مسلسل آمدورفت کر رہے ہیں۔ ہمارے ایران کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے معاہدے ہیں۔ ہم ان کا احترام کریں گے اور دوسروں سے یہ توقع کریں گے کہ وہ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں۔ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے، اور یہ ہمارے لیے کھلا ہے۔”
گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور تہران کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی عملی طور پر مفلوج ہے۔ پیر کو آئل ٹینکرز آبنائے سے دور رہے۔
ایران کی فوج نے خبردار کیا: ایران کی فوج نے کہا کہ پیر سے شروع ہونے والی امریکی بحری ناکہ بندی غیر قانونی اور بحری قزاقی کے مترادف ہوگی۔ فوج نے خبردار کیا کہ اگر اس کی اپنی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیجی خطے کی کوئی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔
امریکی دھمکی کے بعد روس کا بڑا قدم
چینی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر بات چیت کے لیے 14 اپریل کو چین کا دورہ کریں گے۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ لاوروف کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ دو طرفہ تعلقات میں پیشرفت، مختلف شعبوں میں تعاون اور بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ نے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ اگر آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران سے آنے اور جانے والی کسی بھی قسم کی جہاز رانی کو روک دے گا۔ یہ ڈیڈ لائن ہندوستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے سے شروع ہو گئی ۔ اس اعلان سے پہلے ہی سمندری سرگرمیاں متاثر ہو چکی ہیں۔



