
ناصف اعوان-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ پیر کو شمال مغربی پاکستان میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ایک پولیس افسر کو ہلاک اور چار دیگر کو زخمی کر دیا جو پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کی حفاظت پر مامور تھے۔
ہنگو پولیس کے ترجمان ثاقب خان نے بتایا کہ یہ واقعہ صوبہ خیبر پختونخواہ (کے پی) کے ضلع ہنگو کے علاقے چھپری وزیراں میں پیش آیا جب ملک میں آج دن کے اوائل میں ملک گیر انسدادِ پولیو مہم شروع ہوئی۔
مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی جس کے بعد انہوں نے جوابی کارروائی کی۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ دونوں طرف سے ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے علاقے میں اضافی پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ زخمی پولیس اہلکاروں کو علاج کے لیے قریبی ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔
تاحال کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
پاکستان میں پیر کی صبح 45 ملین بچوں کو اس مرض کے حفاظتی قطرے پلانے کے لیے ملک گیر انسدادِ پولیو مہم کا آغاز ہوا۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے کہا کہ تقریباً 400,000 ہیلتھ ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو بیماری کے حفاظتی قطرے پلائیں گے۔
پولیو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متأثر کرتا اور بعض اوقات تاعمر فالج کا سبب بن جاتا ہے۔ ویکسین کے چند قطروں سے اسے بآسانی روکا جا سکتا ہے۔
گذشتہ ایک عشرے کے دوران پاکستان کے خلاف خاص طور پر کے پی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں سینکڑوں پولیس افسران اور ہیلتھ ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں۔
ماضی میں کذب بیان مولویوں نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ ویکسین میں خنزیر کا گوشت یا الکحل شامل ہوتی ہے جو مسلمانوں کے لیے ممنوع ہے۔
امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی نے 2011 میں پاکستان میں دہشت گرد اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے کے لیے ایک جعلی ویکسینیشن مہم چلائی تھی جس نے مقامی لوگوں میں بداعتمادی کو ہوا دی۔
اس سال پاکستان میں اب تک پولیو کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔ تاہم اس سال 87 میں سے 23 اضلاع میں پولیو وائرس کا پتہ چلا جبکہ گذشتہ سال یہ 82 اضلاع میں سامنے آیا تھا۔
این ای او سی نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیو کے مثبت ماحولیاتی نمونوں کی تعداد میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے اور اس سال یہ اب تک



