سائنس و ٹیکنالوجیتازہ ترین

چینی جاسوس اب ریکروٹرز کے روپ میں، ’فائیو آئیز‘ کی وارننگ

اس طریقہ کار کے دوران چین کی ملٹری انٹیلیجنس سروسز کی طرف سے 'لِنکڈ اِن‘ یا اس جیسے دیگر انٹرنیشنل پروفیشنل پلیٹ فارمز پر ایسی جعلی ملازمتوں کے جھوٹے اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں

اے ایف پی کے ساتھ

مغربی ممالک کے انٹیلیجنس اداروں کے مطابق چینی جاسوس اب زیادہ سے زیادہ ریکروٹرز کے روپ میں مغربی دنیا میں سرگرم عمل ہیں اور وہ ان ممالک کی حکومتوں کے اہلکاروں سے چال بازی کے ذریعے ریاستی راز حاصل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔

ان پانچوں مغربی ممالک کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے خفیہ ادارے آپس میں مل کر کام کرتے ہیں اور اسی لیے ان پانچوں ریاستوں کی سیکرٹ سروسز کو اجتماعی طور پر ‘فائیو آئیز‘ یا ‘پانچ آنکھیں‘ نامی اتحاد کا نام دیا جاتا ہے۔

‘فائیو آئیز‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک مشترکہ تنبیہی بیان میں کہا گیا کہ اس طریقہ کار کے دوران چین کی ملٹری انٹیلیجنس سروسز کی طرف سے ‘لِنکڈ اِن‘ یا اس جیسے دیگر انٹرنیشنل پروفیشنل پلیٹ فارمز پر ایسی جعلی ملازمتوں کے جھوٹے اشتہارات شائع کیے جاتے ہیں، جن میں کہا جاتا ہے کہ اشتہار شائع کرنے والے ادارے کو خارجہ پالیسی یا دفاعی تجزیہ کاروں کی تلاش ہے۔

ایک اسمارٹ فون پر مختلف سوشل میڈیا ایپس کے آئکنز
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں سوشل میڈیا کو بھی جاسوسی کے لیے زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جانے لگا ہےتصویر: Yui Mok/empics/picture alliance

بظاہر اصلی نظر آنے والے نجی مشاورتی ادارے

‘فائیو آئیز‘ کے بیان کے مطابق پروفیشنل ماہرین کے بڑے بڑے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایسے اشتہارات اور ماہرین کی ضرورت کے نوٹس پوسٹ کرنے والے ایجنٹ خود کو عموماﹰ افرادی قوت کے شعبے میں کسی مشاورتی ادارے کے کارکن ظاہر کرتے ہیں۔

مشترکہ بیان کے مطابق ایسے اشتہارات میں ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ‘بظاہر قانونی دکھائی دینے والی‘ یہ پرائیویٹ کنسلٹنسی فرمیں یا تھنک ٹینکس ایسے ادارے ہیں، جو چین سے باہر رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔

‘پانچ آنکھیں‘ نامی مغربی انٹیلیجنس الائنس نے اپنے بیان میں مزید کہا، ”ابتدائی رابطوں کے بعد امیدواروں پر دباؤ ڈال کر انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ انٹرویو کے دوران ایسی معلومات کا انکشاف بھی کریں، جو پہلے سے پبلک نہ ہوں۔ اس دوران متعلقہ امیدواروں سے ایک تحریری رپورٹ جمع کرانے کے لیے بھی کہا جاتا ہے۔‘‘

جاسوسی کی ایک علامتی فوٹو، ایک خاتون کی آنکھ کو نشانہ بنائے جانے کی تصویر
’فائیو آئیز‘ کے مطابق مغربی ممالک کی یہ جاسوسی خاص طرح کی سرکردہ شخصیات کو ہدف بنانے کی کوششوں کے ساتھ کی جا رہی ہےتصویر: McPHOTO/blickwinkel/picture alliance

نشانہ کن شخصیات کو بنایا جاتا ہے؟

‘فائیو آئیز‘ کے مشترکہ بیان کے مطابق چین کی ملٹری انٹیلیجنس سروسز کی طرف سے جن ماہر شخصیات کو خاص طور پر ایسی ڈیجیٹل چالبازیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے، ان میں باقاعدہ سکیورٹی کلیئرنس سے گزر چکے افراد، فوجی اہلکار، صحافی اور ماہرین تعلیم تک بھی شامل ہوتے ہیں۔

”اس دوران فوجی اہلکاروں سے جو سوالات پوچھے جاتے ہیں، ان میں ایسی تفصیلات بھی شامل ہو سکتی ہیں کہ مثلاﹰ فوج میں ان کا کردار اور عہدہ کیا تھے، ان کے یونٹ کی سرگرمیاں کیا تھیں، یا پھر ان کی ہوم بیس یا بحری اڈہ کون سا تھا۔‘‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران جن افراد سے ریکروٹنگ کے لیے رابطے ہو جاتے ہیں، انہیں ریکروٹس کے طور پر فی رپورٹ کئی سو ڈالر سے لے کر کئی ہزار ڈالرتک کی رقم بھی ادا کی جاتی ہے۔

”رقم کی مالیت کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ متعلقہ ریکروٹ کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں شامل حساس معلومات کتنی کم یا زیادہ ہیں۔‘‘

'لِنکڈ اِن‘ کی چینی زبان میں سروس کے اسٹارٹ پیج کی ایک تصویر
جاسوسی کے اس طریقہ کار کے دوران چین کی ملٹری انٹیلیجنس سروسز کی طرف سے ‘لِنکڈ اِن‘ یا اس جیسے دیگر انٹرنیشنل پروفیشنل پلیٹ فارمز پر ملازمتوں کے جعلی اشتہارات شائع کیے جاتے ہیںتصویر: HPIC/dpa/picture alliance

حالیہ برسوں میں بہت بڑھ چکا جاسوسی کا خطرہ

مغربی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے حالیہ برسوں میں بار بار یہ وارننگ کی جا چکی ہے کہ چین، روس اور ایران کی طرف سے جاسوسی کے خطرات گزشتہ چند برسوں کے دوران بہت زیادہ ہو چکے ہیں۔

اس کا ایک ثبوت یہ بی ہے کہ ابھی گزشتہ مہینے ہی چین اور برطانیہ کی دوہری شہریتیں رکھنے والے دو افراد کو لندن کی ایک عدالت کی جیوری نے مجرم قرار دے دیا تھا۔

ان چینی نژاد برطانوی شہریوں پر الزام تھا کہ وہ بیجنگ حکومت کے لیے ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے اور برطانیہ میں مقیم سیاسی منحرفین کی جاسوسی کر رہے تھے۔

ان ملزمان کو مجرم قرار دیا جا چکا ہے اور اس وقت وہ دونوں اپنے خلاف سزائیں سنائے جانے کے منتظر ہیں۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button